سکیورٹی کونسل میں امریکی ‘‘ویٹو’’ مہذب دنیا کیلئے لمحہ فکریہ

سکیورٹی کونسل میں امریکی ‘‘ویٹو’’ مہذب دنیا کیلئے لمحہ فکریہ

تجزیہ:سلمان غنی غزہ میں جنگ بندی کے حوالہ سے سکیورٹی کونسل میں آنے والی قرارداد پر امریکی ویٹو سے دنیا پر امریکی کردار واضح ہو چکا ہے اور امریکا اسرائیل کو وحشیانہ بمباری اور قتل و غارت سے روکنے کی بجائے اسے تھپکی دینے کے عمل کے ذریعہ یہ ظاہر کر چکا ہے۔

کہ وہ اس جنگ میں کہاں کھڑا ہے اور دنیا میں جمہوریت، انسانیت اور انسانی حقوق کے حوالہ سے اس کا کردار کیا ہے دوسری جانب خود اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس  کی جانب سے یو این کے مارٹر 99کے استعمال اور سلامتی کونسل سے فائر بندی کی اپیل بھی دھری کی دھری رہ گئی لہٰذا کیا اسرائیل کو اب فلسطینیوں کا خون بہانے اور ان کے خلاف طاقت اور قوت کے بے بہا استعمال کا لائسنس مل چکا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اسرائیل کا ہاتھ پکڑنے یا مروڑنے کی پوزیشن میں نہیں اور کیا وجہ ہے کہ عالم اسلام کی جانب سے اسرائیل کے ظلم و بربریت پر کوئی موثرکردار ادا کرنے کی بجائے محض مطالبات اعلانات اور قراردادوں پر اکتفا کیا جا رہا ہے کیا اسرائیل اقوام متحدہ یا سلامتی کونسل کی جانب سے کسی قسم کی کوششوں اور کاوشوں کو تسلیم کرے گا جہاں تک اسرائیل کی جانب سے کسی قسم کے دباؤ پر سرنڈر کرنے کا سوال ہے تو اسرائیل پر جو طاقتیں اثر انداز ہو سکتیں تھیں ان میں بڑی طاقتیں امریکا اور برطانیہ ہیں لیکن 7اکتوبر کے بعد سے پیدا شدہ صورتحال میں نظر یہ آ رہا ہے کہ خود امریکا اور برطانیہ اس کی پشت پر کھڑے ہیں اور اس کا ہاتھ پکڑنے کی بجائے اسے ہلاشیری دیتے نظر آ رہے ہیں اور صدر بائیڈن اور برطانوی وزیراعظم کا دورہ اسرائیل اس کا ثبوت ہے ۔ دوسری جانب امریکا کی جانب سے ویٹو کے آپشن کو بروئے کار لانے پر غزہ میں خون ریزی کا عمل اور بڑھنے کا امکان ہے خصوصاً امریکا بارے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کا یہ عمل جارحیت پر مبنی اور انسان دشمنی کے مترادف ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے بھی سیز فائر کی قرارداد مسترد ہونے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے اور سکیورٹی کونسل پر زور دیا کہ فوری حرکت میں آئے اور اس غیر انسانی جارحیت کو بند کرائے ۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں