سپہ سالار کے خطاب کو نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا جاسکتا

سپہ سالار کے خطاب کو نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا جاسکتا

(تجزیہ: سلمان غنی) ملک کو درپیش چیلنجز خصوصاً مخصوص مقاصد کے تحت ملک میں انتشار ،خلفشار پھیلانے اور انتہا پسندی کے خاتمہ کے حوالہ سے پاکستانی سپہ سالار جنرل عاصم منیر کے علما ومشائخ کانفرنس سے خطاب کو نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا جاسکتا ہے ۔

 جس میں انہوں نے شریعت اور آئین کو نہ ماننے والوں کو پاکستانی تسلیم کرنے سے انکار کیا ۔ انہوں نے دہشت گردی کے مرتکب افراد کے پیچھے جرائم پیشہ اور سمگلرزمافیاز کو ایکسپوز  کرتے ہوئے اس عزم کا اظہا ر کیا کہ انتشار خلفشار پھیلانے کی کوشش ہوئی تو اب رب کعبہ کی قسم اس کے آگے کھڑے ہوں گے ۔لہٰذا مسلح افواج کے سربراہ کی پاکستان سے کمٹمنٹ قومی مفادات کے تحفظ اور دہشتگردی کے خاتمہ کے حوالہ سے یکسو اور سنجیدگی کے عمل کو آج کے پاکستان کی اصل طاقت قرار دیا جاسکتا ہے ۔حسینہ واجد کی حکومت کا شرمناک انداز میں خاتمہ ، شیخ مجیب الرحمن کے مجسموں کی توڑ پھوڑ اور بھارت سے کھلی نفرت کے اظہار سے یہ ثابت ہوا کہ بنگالیوں نے شیخ مجیب الرحمن کے خاندان کو ان کے سیاسی انجام پر پہنچا کر ان سے پاکستان کا بدلہ لیا ہے اور اپنی جدوجہد کے ذریعہ ثابت کیا ہے کہ وہ بھارتی تسلط کو تسلیم نہیں کرتے اور یہ کہ بھارت نوازوں کو ہضم کرنے کیلئے تیار نہیں ۔ بنگلہ دیش میں آنے والی اس تبدیل نے بھارت کو ہلاکر رکھ ڈالا ہے ۔

جہاں تک مسلح افواج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کی جانب سے پر امن احتجاج کی بات ہے تو یہ ان کی جمہوری سوچ کی آئینہ دار ہے کیونکہ جمہوری ملکوں اور معاشروں میں احتجاج ہمیشہ قانون اور آئین کے ضابطوں کے تحت ہوتا ہے اور احتجاج کا یہ عمل ہر طرح کے گھیراؤ ، جلاؤ اور توڑ پھوڑ سے مبرا قرار دیا گیا ہے لیکن پاکستانی سیاست میں احتجاج کی ایسی روش دیکھنے میں آئی ہے کہ جس میں عوام کو خود ریاست ریاستی اداروں اور قومی ونجی املاک پر حملوں کیلئے اکسایا جاتا رہا جس کے نتیجہ میں دنیا بھر میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی ، بھارت میں اندرونی تناؤ اور ٹکراؤ بڑھاہے ، اسکا یہ فائدہ کسی شخصیت یا جماعت کو اپنی مقبولیت کی حد تک تو ضرور ہوا ہوگا ، مگر اس کے مضر اثرات پاکستان کے مفادات ملکی معیشت اور ترقی کے عمل پر پڑے ہیں ، بڑی اور تلخ حقیقت یہی ہے کہ آج کا پاکستان نیوکلیئر پاکستان ہے مگر ملکی معیشت سنبھل نہیں رہی ، غیر یقینی کی صورتحال معیشت پرمضر اثرات قائم کئے ہوئے ہے لہٰذا آج کی صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ احتجاج کے آپشن کو قانون کے ساتھ منسلک ہونا چاہیے ، حکومتوں کو احتجاج سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔پاکستان اہم ہے اور پاکستان کی بقا وسلامتی پرہر چیز اور فرد سے بالا تر ہے اور یہی وہ جذبہ ولولہ ہے جو آج کے پاکستان کو مشکل حالات سے نکال کر ترقی وخوشحالی کی منزل پر ڈال سکتاہے ۔ لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ سب کو اپنے اعمال اپنے ذاتی ، سیاسی وخاندانی مفادات سے بالا تر رکھتے ہوئے پاکستان سے وابستہ کرنا ہوں گے ۔ خود اس سیاست کو اپنے سپہ سالار کے جذبات ، احساسات اور خیالات کو مشعل راہ بنانا ہوگا بلا شبہ جنرل عاصم منیر کی علما مشائخ کانفرنس میں تقریر کو آج کی صورتحال اور حالات میں ایک سنجیدہ بامقصد اور نظریاتی تقریر قرار دیا جاسکتا ہے جس کا محور ہر حوالہ سے اپنی ذات اور کردار سے بالا تر پاکستان اور پاکستان کے مفادات ہیں ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...