شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک نے بشکیک اعلامیے پر دستخط کر دیے

بشکیک: (شاہد گھمن) شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان نے سربراہی اجلاس کے دوران بشکیک اعلامیے پر دستخط کر دیے۔

اعلامیے میں جغرافیائی سیاسی صورتحال، عالمی و علاقائی خطرات، اقتصادی تعاون، مالیاتی نظام، دہشت گردی، مشرق وسطیٰ، جوہری عدم پھیلاؤ اور افغانستان سمیت متعدد اہم امور پر رکن ممالک کے مشترکہ مؤقف کی عکاسی کی گئی ہے، تاہم دستاویز میں یوکرین تنازع کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

اعلامیے میں رکن ممالک نے انسانی حقوق کے معاملے پر دوہرے معیار اور خودمختار ریاستوں کے داخلی معاملات میں مداخلت کی مخالفت کرتے ہوئے تمام بنیادی حقوق اور آزادیوں کے احترام پر زور دیا۔

اقتصادی شعبے میں شنگھائی تعاون تنظیم کے ممالک نے کھلے، شفاف، منصفانہ، جامع اور غیر امتیازی کثیرالجہتی تجارتی نظام کی حمایت کی۔ رکن ممالک نے ایسے یکطرفہ دباؤ اور پابندیوں کی بھی مخالفت کی جو اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور عالمی تجارتی تنظیم کے اصولوں سے متصادم ہوں اور عالمی معیشت، خوراک، توانائی یا انسانی سلامتی پر منفی اثر ڈالیں۔

بشکیک اعلامیے میں عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات کی حمایت کرتے ہوئے ترقی پذیر ممالک کی بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں نمائندگی اور کردار بڑھانے پر زور دیا گیا۔ رکن ممالک نے ایس سی او انٹربینک کنسورشیم کے ذریعے مالیاتی تعاون کو مزید فروغ دینے اور ایران کے نامزد بینک کو اس نظام سے منسلک کرنے کے عمل کو تیز کرنے کی حمایت بھی کی۔

مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر رکن ممالک نے گہری تشویش کا اظہار کیا اور ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتے ہوئے تنازعات کے حل کے لیے سیاسی اور سفارتی ذرائع اختیار کرنے پر زور دیا۔ اعلامیے میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کا خیرمقدم کیا گیا۔

دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف اپناتے ہوئے ایس سی او ممالک نے دہشت گرد، علیحدگی پسند اور انتہا پسند گروہوں کو سیاسی یا دیگر مفادات کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں کو ناقابل قبول قرار دیا۔ رکن ممالک نے دہشت گردی کی تمام صورتوں اور مظاہر کی مذمت کرتے ہوئے اس کے خلاف دوہرے معیار کو بھی مسترد کیا اور اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کے تحت مشترکہ اقدامات پر زور دیا۔

اعلامیے میں جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی مکمل پاسداری، عالمی جوہری تخفیف اسلحہ کے عمل کو مضبوط بنانے اور جوہری عدم پھیلاؤ کے بین الاقوامی نظام کی حمایت کی گئی۔ ساتھ ہی رکن ممالک نے پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کی تحقیق، پیداوار اور استعمال کے اپنے حق کو بھی دہرایا۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک نے واضح کیا کہ ایس سی او کوئی فوجی یا سیاسی بلاک نہیں اور نہ ہی کسی دوسرے ملک یا گروہ کے خلاف قائم کیا گیا ہے۔ تنظیم باہمی احترام، مساوات، عدم مداخلت اور کھلے پن کے اصولوں پر کام کرتی ہے اور بین الاقوامی اختلافات کے پرامن حل کی حمایت کرتی ہے۔

خلائی شعبے کے حوالے سے رکن ممالک نے خلا کو ہر قسم کے ہتھیاروں سے پاک رکھنے اور خلائی اسلحے کی دوڑ روکنے کے لیے ایک قانونی طور پر پابند بین الاقوامی معاہدے کی ضرورت پر زور دیا۔

اعلامیے میں عالمی میزائل دفاعی نظاموں کی یکطرفہ اور غیر محدود توسیع کو بین الاقوامی سلامتی اور استحکام کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ کوئی بھی ملک اپنی سلامتی دوسرے ممالک کی سلامتی کی قیمت پر یقینی نہ بنائے۔

ایس سی او رکن ممالک نے دوسری عالمی جنگ کے نتائج اور تاریخی یادداشت کے تحفظ کے عزم کا بھی اعادہ کیا اور تاریخ کو مسخ کرنے کی کوششوں کی مخالفت کی۔

افغانستان کے حوالے سے اعلامیے میں کہا گیا کہ پائیدار امن کے لیے ایک ایسی جامع حکومت ضروری ہے جس میں تمام نسلی اور سیاسی گروہوں کی وسیع نمائندگی ہو۔ رکن ممالک نے افغانستان کو ایک آزاد، غیر جانبدار، پرامن اور دہشت گردی، جنگ اور منشیات سے پاک ریاست بنانے کی حمایت کا اعادہ کیا۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے ممالک نے افغانستان میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے پر بھی آمادگی ظاہر کی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...