بھارتی شادیوں میں نیا رجحان، میگی اور میکڈونلڈز بھی شادی کے مینیو کا حصہ بن گئے
نئی دہلی: (ویب ڈیسک) بھارتی شادیوں میں کھانے کا تصور اب صرف بڑے اور شاندار بوفے تک محدود نہیں رہا۔ نئے جوڑے اپنی شادی کے مینیو میں ایسے کھانے بھی شامل کر رہے ہیں جو ان کی محبت، بچپن کی یادوں، پسندیدہ مقامات اور مشترکہ تجربات سے جڑے ہوتے ہیں۔
بھارتی شادیوں میں جہاں روایتی پکوان، چاٹ کے مختلف کاؤنٹرز، لائیو پاستا سٹیشنز اور مختلف اقسام کے میٹھے طویل عرصے سے مہمانوں کی توجہ کا مرکز رہے ہیں، وہیں اب کئی جوڑے مینیو کی وسعت اور قیمت کے بجائے اس بات کو ترجیح دے رہے ہیں کہ کھانے میں ان کی ذاتی زندگی اور پسند کی جھلک کتنی نمایاں ہے۔
اگر کسی جوڑے کی محبت کی کہانی رات گئے ایک ساتھ بیٹھ کر میگی کھانے سے جڑی ہو تو شادی میں میگی کا خصوصی کاؤنٹر ان کی مشترکہ یادوں کو تقریب کا حصہ بنانے کا دلچسپ طریقہ بن جاتا ہے۔
اسی طرح کچھ جوڑے اپنی پسندیدہ کافی شاپ یا ریسٹورنٹ کے کھانے کو شادی کی تقریب میں شامل کرتے ہیں، جبکہ ایسے جوڑے بھی موجود ہیں جو میکڈونلڈز کے کھانوں کو اپنے شادی کے مینیو کا حصہ بنا رہے ہیں، مشترکہ طور پر میکڈونلڈز جانا، ہائی وے پر ڈرائیو تھرو کرنا یا کسی مخصوص کھانے سے وابستہ یادیں اس رجحان کی وجہ بن رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق شادیوں میں ذاتی پسند کو شامل کرنے کا رجحان صرف کھانے تک محدود نہیں بلکہ لباس، سجاوٹ، مہندی اور کاک ٹیل مینیو میں بھی جوڑے اپنی پسند اور یادوں کو نمایاں کر رہے ہیں، کھانا اس رجحان کا اہم حصہ بن چکا ہے کیونکہ پسندیدہ پکوان ذائقے کے ساتھ ساتھ پرانی یادیں بھی تازہ کرتے ہیں۔
کئی جوڑے اپنی پسندیدہ ڈشز کے بجائے دونوں خاندانوں کے روایتی کھانوں کو ایک ہی مینیو میں شامل کر رہے ہیں، یوں ایک طرف پنجابی خاندان کی روایتی ترکیب تو دوسری جانب بنگالی خاندان کا مخصوص پکوان مہمانوں کو پیش کیا جا سکتا ہے۔
بعض تقریبات میں دادی یا نانی کی خاص ترکیب کو دوبارہ تیار کرکے شادی کے مینیو میں شامل کیا جاتا ہے، ایک شادی میں ’’چکھنا ٹیبل‘‘ بھی رکھا گیا جس پر دونوں دلہا دلہن کے بچپن کے پسندیدہ اسنیکس شامل تھے، دودھ کیک، پیاز کچوری، لڈو اور ریوڑی جیسے کھانوں نے دونوں خاندانوں کی یادوں اور ماضی کو تقریب کا حصہ بنا دیا۔
کچھ شادیوں میں ہر ڈش کے ساتھ مختصر وضاحت بھی دی جاتی ہے تاکہ مہمان جان سکیں کہ مخصوص کھانا جوڑے کے لیے کیوں خاص ہے، اس طرح کھانا محض ایک ڈش نہیں رہتا بلکہ جوڑے کی زندگی، پسند اور رشتوں کی کہانی بیان کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
مقامی ذائقوں کو بھی شادی کے مینیو میں خاص جگہ دی جا رہی ہے، کچھ جوڑے مہنگے ہوٹلوں کے روایتی مینیو کے بجائے اس شہر یا علاقے کے مشہور کھانوں کو ترجیح دیتے ہیں جہاں شادی ہو رہی ہو، مقامی مٹھائی، ناشتے کی مشہور دکان یا کسی علاقے کی خاص ڈش کو تقریب میں شامل کیا جاتا ہے۔
اگرچہ روایتی اور وسیع بھارتی شادی کا بوفے اب بھی اپنی جگہ برقرار ہے، تاہم شادی کے کھانے کو ذاتی یادوں، رشتوں اور مشترکہ تجربات سے جوڑنے کا رجحان تیزی سے نمایاں ہو رہا ہے۔
نئے رجحان میں اصل توجہ صرف مہمانوں کو زیادہ سے زیادہ کھانے پیش کرنے کے بجائے ایسا مینیو ترتیب دینے پر ہے جس میں ہر ذائقے کے پیچھے جوڑے کی زندگی سے جڑی کوئی یاد، تعلق یا کہانی موجود ہو۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments