آزادکشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام مطالبات منظور،معاہدہ پر دستخط ،لاک ڈاؤن ختم:سازشیں،افوا ہیں دم توڑ گئیں :وزیراعظم
مظفرآباد، اسلام آباد(دنیا نیوز، نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک )جموں وکشمیر عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی حکومت کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد تحریری معاہدہ پردستخط ہوگئے ہیں جس کے تحت عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام مطالبات تسلیم کر لئے گئے جس کے بعد مظاہرین نے احتجاج ختم کر دیا۔
آزاد کشمیر میں پانچ روزہ لاک ڈاؤن کے بعد معمولات زندگی بحال ہوگئے ۔مظفر آباد، باغ ،راولاکوٹ،کوٹلی سمیت آزاد کشمیر بھر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال کردی گئی ۔وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ سازشیں اور افواہیں آخر کار دم توڑ گئیں اور تمام معاملات خوش اسلوبی سے حل ہوئے الحمدللہ۔ تفصیلات کے مطابق معاہدہ کے تحت لاک ڈاؤن ، شٹر ڈاؤن ، پہیہ جام اور مظاہروں کے دوران انسانی جانوں کے ضیاع کے حوالے سے دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہونگے ، جملہ پر تشدد واقعات کی چھان بین کیلئے اعلٰی سطح عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائیگا جو یکم اور 2 اکتوبر کو رونما ہونے والے واقعات کی نسبت جامع رپورٹ پیش کریگا ، پر تشدد واقعات میں جاں بحق ہونے والے افراد کے ورثا اور زخمیوں کو معقول معاوضہ ادا کیا جائیگا ، زخمیوں کو 10 لاکھ روپے فی کس جبکہ جاں بحق ہونے والوں کے ایک ایک وارث کو 20ایام کے اندر سرکاری ملازمت بھی دی جائیگی۔مہاجرین کی نشستیں تب تک معطل رہیں گی جب تک خصوصی آئینی کمیٹی اپنی رائے نہ دے ۔لوکل گورنمنٹ ایکٹ 1990 والی پوزیشن اور عدالتی فیصلے کے مطابق 90 دن میں بحال کیا جائے گا۔
حکومت آزاد کشمیر 15 دن میں صحت کارڈ کا اجراء کرے گی،قانو ن ساز اسمبلی کے ممبران،مشیران اورانتظامی سیکرٹریز20سے زائد نہیں ہونگے ۔مظفرآباد،پونچھ اور میرپور ڈویژن میں 30دن کے اندر تعلیمی بورڈزقائم کئے جائیں گے جو فیڈرل بورڈ آف ایجوکیشن سے منسلک ہوں گے ،منگلا اپ ریزنگ پراجیکٹ متاثرین کی زمینوں کے قبضوں کے حوالے سے زیر التوا معاملات 30دن کے اندر یکسو کیے جائیں گے ۔لوکل گورنمنٹ ایکٹ 1990کو 90ایام کے اندر اصل روح کے مطابق بحال اور نافذ کیا جائے گا اور اس ضمن میں عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائیگا۔آزاد کشمیر حکومت 15ایام کے اندر صحت سہولت کارڈ کی بحالی کیلئے فنڈ مہیا کرنے کی پابند ہو گی۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتالوں میں سی ٹی سکین اور ایم آر آئی مشینیں نصب کی جائیں گی جن کیلئے فنڈ وفاقی حکومت مہیا کرے گی۔ محکمہ برقیات آزاد کشمیرکے انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے وفاقی حکومت دس ارب روپے فراہم کرے گی جو ریلیز پلان کے مطابق جاری ہوں گے ۔ آزاد کشمیر کابینہ میں وزراء اورمشیران کی تعداد بیس سے زائد نہیں ہو گی جب کہ انتظامی سیکرٹریز بھی 20 تک محدود ہوں گے ۔
آئینی و قانونی معاملات سے متعلق وفاقی ،آزاد کشمیر اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے گی جوہر 15 دن کے بعد میٹنگ میں پراگریس کا جائزہ لے گی۔ معاہدہ میں اضافی طورپر 29 ستمبر 2025 کے واقع بنجوسہ، 30 ستمبر اور یکم اکتوبر 2025 کے سانحات مظفرآباد، پلاک ،میرپور، دھیرکوٹ، رئیاں ،کوٹلی کی تحقیقات کیلئے ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔میرپور میں بین الاقوامی ایئرپورٹ کی تعمیر کیلئے رواں سال کے دوران وفاقی حکومت ضروری لوازمات پورے کرے گی، پراپرٹی کی خرید و فروخت پرٹیکسز کی کمی کی نسبت پنجاب یا کے پی کے کی طرز پر تین ماہ کے اندر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔ تحصیل ہیڈ کوارٹر زہسپتالوں میں آپریشن تھیٹرز ، مشینری و سٹاف رواں مالی سال میں مہیا کیا جائیگا، کوٹلی میں گل پور اور رحمان پل کی تعمیر کے منصوبے بھی رواں مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کئے جائیں گے ۔
وفاقی مذاکراتی کمیٹی میں سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ، وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال، وفاقی وزیرپارلیمانی امور طارق فضل ،وفاقی وزیرامور کشمیرامیر مقام، وفاقی وزیرسردار محمد یوسف،سابق وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ ،سابق صدرآزاد کشمیرسردار مسعود خان حکومت آزاد کشمیر کی جانب سے وزیر ایلیمنٹری اینڈ سکینڈری ایجوکیشن دیوان علی چغتائی اور وزیرلوکل گورنمنٹ فیصل راٹھور جبکہ ایکشن کمیٹی کی جانب سے راجہ امجد علی خان ایڈووکیٹ، شوکت نواز میر اور انجم زمان اعوان شامل تھے ، تمام شرکاء نے معاہدے پر دستخط ثبت کئے ۔حکومتی کمیٹی کے ممبران احسن اقبال ،امیر مقام ، طارق فضل چودھری،راجہ پرویز اشرف،قمر زمان کائرہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی خونریزی کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی، کشمیری عوام کے مسائل حل کئے جائیں گے۔
تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں ، مذاکرات کی کامیابی سے پاکستان اور آزاد کشمیر کی جیت ہو ئی،انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دشمن آزاد کشمیر میں بدامنی، فساد اور انتشار دیکھنا چاہتے تھے ، ان کی سازش ناکام ہوئی اور ہم کامیابی سے ان مراحل سے سرخرو ہوکر نکلے ہیں، یہ عوام اور پاکستان کی جیت ہے ، مذاکرات دونوں فریقین میں پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام کو مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیے گئے جو کامیاب ہوگئے ہیں اور یہاں امن بحال ہوگیا ہے جب کہ جن اقدامات پر اتفاق رائے ہوا ہے اس سے کشمیری عوام کیلئے ترقیاتی ایجنڈے کو پورا کرنے میں ہمیں معاونت ملے گی جس میں حکومت بھی دلچسپی رکھتی ہے ۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں مذاکراتی کمیٹی کے اراکین کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کی انفرادی واجتماعی کاوشوں کو سراہتے ہوئے بھرپور شاباش دیتے ہوئے کہا کشمیری بھائیوں سے گزارش ہے کہ افواہوں پر کان دھرنے سے گریز کریں، ہم پہلے بھی کشمیری بہن بھائیوں کے حقوق کے محافظ تھے اور آئندہ بھی ان کے حقوق کا تحفظ کرتے رہیں گے ۔