پنجاب:15دن میں غیر قانونی اسلحہ واپس:10لاکھ لائسنسز کی ازسر نو جانچ پڑتال،صرف پولیس اہلکار اور رجسٹرڈ سکیورٹی گارڈز کو اسلحہ رکھنے کی اجازت وزیراعلیٰ کی زیر صدارت چوتھا غیر معمولی اجلاس
اسلحہ لائسنس فیس میں 100 فیصد اضافہ، نجی سکیورٹی کمپنیاں رجسٹر ، گارڈز ہیلپ لائن 15 سے منسلک ہونگے ،ڈرون پولیسنگ، آرمز ریگولیشن کے نئے قوانین متعارف کرانے کا فیصلہ اسلحہ تھانوں ،مقررہ مراکز پر جمع ہوگا ،آئی جی:جرائم 70 فیصد کم ،دشمن دار لوگ مخالفین سے صلح کر لیں یا دبئی چلے جائیں، اسلحہ لہرانے نہیں دینگے ،ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی،پریس کانفرنس
لاہور(دنیا نیوز،اے پی پی )پنجاب کی سرزمین سے اسلحہ اورسمگلنگ کلچر کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ڈرون پولیسنگ اور نیا مربوط سکیورٹی اینڈ آرمز ریگولیشن سسٹم تیار کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت امن امان سے متعلق مسلسل چوتھا غیر معمولی اجلاس ہوا جس میں پنجاب کو اسلحہ سے پاک کرنے کے لئے اہم ترین فیصلے کیے گئے ۔ اجلاس میں ڈرون پولیسنگ،مربوط سکیورٹی اور آرمز ریگولیشن کے نئے قوانین متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس موقع پر حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں موجود 10 لاکھ لائسنس یافتہ اسلحہ کی ازسر نو جانچ پڑتال اور سخت سکروٹنی کا فیصلہ کیا ۔ پنجاب سَرنڈر آف الیگل آرمز ایکٹ 2025 متعارف کرایا جائے گا۔پنجاب میں غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کو15 دن کے اندراسلحہ واپس کرنے کی ہدایت کی گئی اور پنجاب میں لائسنس یافتہ اسلحہ کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے گی۔ پنجاب میں لائسنس یافتہ اسلحہ کے مالک اور جاری کرنے والے کی تصدیق کی جائے گی۔ پنجاب میں جاری ہونے والے اسلحے کی مکمل چھان بین کی جائے گی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا وفاقی اسلحہ لائسنس رکھنے والوں کی بھی جانچ پڑتال کی جائے گی،صوبے میں صرف پولیس اہلکار اور رجسٹرڈ سکیورٹی گارڈز کو اسلحہ رکھنے کی اجازت ہوگی۔ نجی سکیورٹی کمپنیوں کو رجسٹر کیا جائے گا ۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا نجی سکیورٹی گارڈز کو پنجاب پولیس ہیلپ لائن 15 سے منسلک کیا جائے گا۔ لاہور میں کرائم سین پر جلد از جلد رسائی کے لئے ڈرون پولیسنگ کا پائلٹ پراجیکٹ لانچ کیا جائے گا۔ ڈرون پولیسنگ کے اس نظام کو بعد ازاں پورے صوبے میں وسعت دی جائے گی۔ پنجاب کے 14 اہم داخلی و خارجی مقامات پر جدید اسلحہ اسکینرز نصب کیے جائیں گے ۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیاکہ ا سلحہ کی سمگلنگ کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گااور اس جرم کی سزا 14 سال قید مقررکی جائے گی۔ سالانہ اسلحہ لائسنس فیس میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے گا تاکہ اسلحہ کلچر کی حوصلہ شکنی کی جا سکے ۔علاوہ ازیں وزیراعلیٰ مریم نوا ز نے کہا ہے ریاست جموں و کشمیر کے غیور عوام نے قابض بھارتی فوج کے خلاف علم بغاوت بلند کرکے تحریک آزادی کی بنیاد رکھی۔ وزیراعلیٰ نے آزاد کشمیر کے یوم تاسیس پر پیغام میں کہا 24 اکتوبر کشمیر میں آزاد حکومت کے قیام کا دن ہے ۔کشمیر کی آزادی کی تحریک قربانی، جذبے اور خودداری کی داستان ہے ۔
وزیراعلیٰ نے کہا اقوام متحدہ میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کی قرار داد عالمی ضمیر پر بہت بڑا بوجھ ہے ۔مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی لوح تقدیرپر ثبت ہوچکی ہے ۔ مریم نوا ز نے ورلڈ پولیو ڈے پراپنے پیغام میں کہا پولیو کے 100فیصد خاتمے کا ہدف ہم سب کا مشن ہے ۔وزیراعلیٰ نے ورلڈ ڈویلپمنٹ انفارمیشن ڈے پر اپنے پیغام میں کہا ورلڈ ڈویلپمنٹ انفارمیشن ڈے منانے کا مقصد عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کے عزم کی تجدید ہے ۔ پنجاب میں تیز ترین ڈویلپمنٹ کے جدید دور کا آغاز ہوچکا ہے ۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے شیخ صالح الفوزان کو سعودی عرب کا مفتی اعظم تعینات ہونے پر مبارکباد دی ہے ۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے شیخ صالح الفوزان کے سربراہ سینئر علماء کونسل بھی بننے پر نیک تمناؤں کا اظہاربھی کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے توقع ظاہر کی ہے کہ سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ صالح الفوزان امت مسلمہ کی رہنمائی اور اتحاد کے لئے بھرپورکردارادا کریں گے ۔
لاہور (کرائم رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک )آئی جی پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور نے کہا ہے ہم وزیر اعلیٰ پنجاب کے شکر گزار ہیں جن کی خصوصی ہدایات پر سی سی ڈی اور آر ایم پی کا قیام عمل میں آیا اور پولیس کو درکار سہولیات فراہم کی گئیں، پنجاب سرنڈر آف الیگل آرمز ایکٹ 2025 متعارف کروایا جا رہا ہے جس کے تحت صوبہ بھر میں تمام غیر قانونی اسلحہ 15 دن کے اندر جمع کروانا لازم ہو گا جبکہ صوبہ بھر سے ڈالہ کلچر کا خاتمہ بھی یقینی بنایا جارہا ہے ۔وہ سنٹرل پولیس آفس لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔اس موقع پر سپیشل ہوم سیکرٹری فضل الرحمٰن اور ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ڈاکٹر عثمان انور نے بتایا 10 لاکھ سے زائد لائسنس یافتہ اسلحہ کی از سرِ نو جانچ پڑتال کی جائے گی اورصوبہ بھر میں سکروٹنی اینڈ سرچ آپریشنز بھی شروع کیے جا رہے ہیں۔ ذاتی دشمنیوں یا اپنی حفاظت کی آڑ میں غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں کی جائیں گی جبکہ غیرقانونی اسلحہ کی خرید و فروخت میں ملوث افراد کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا ہر شہری کو لازماً اپنا غیرقانونی اسلحہ مقررہ مدت میں جمع کروانا پڑے گا۔ سی سی ڈی صوبہ بھر کو اسلحہ سے پاک کرنے کیلئے جامع اقدامات کرے گی اور غیر قانونی اسلحہ قانون کے مطابق سی سی ڈی، متعلقہ تھانوں اور مقرر کردہ مراکز پر جمع کروایا جا سکے گا۔برآمد شدہ غیر قانونی اسلحہ سی سی ڈی کی نگرانی میں تلف کیا جائے گا جبکہ صوبائی بارڈر چیک پوسٹوں پراسلحہ کی تلاش کے لئے سکینرز نصب کیے جا رہے ہیں تاکہ اسلحہ کی ترسیل کو روکا جا سکے ۔آئی جی پنجاب نے کہا پرائیویٹ سکیورٹی کمپنیز کیلئے گارڈز کی بھرتی کا عمل سخت کیا جا رہا ہے ، انہیں پولیس کی نگرانی میں تربیت فراہم کی جا رہی ہے اور لائسنسز ریگولیٹ کیے جارہے ہیں جبکہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث شوٹرز کیخلاف سخت کارروائیاں عمل میں لائی جارہی ہیں۔انہوں نے بتایا پرائیویٹ گارڈز کیلئے پینک بٹن سسٹم متعارف کروایا جا رہا ہے جو پولیس ایمرجنسی 15 سے منسلک ہو گا۔آئی جی پنجاب نے کہا 2500 سے زائد اغوا اور گمشدہ بچوں کو ورچوئل سنٹر فار چائلڈ سیفٹی کی مدد سے گھر واپس پہنچایا جا چکا ہے ۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا بسنت اب نہیں ہو گی۔بسنت سے شہریوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا جس سال بسنت پر پابندی لگائی گئی تھی اس سال 45 شہری پتنگ کی ڈور سے ہلاک ہو ئے تھے ۔۔سعد رضوی کے بارے میں بات کرتے ہوئے آئی جی پنجاب نے کہا سعد رضوی ہمارے پاس نہیں اور نہ ہی کسی ایجنسی کے پاس ہیں، سعد رضوی کو ان کے ساتھی لیکر فرار ہو گئے تھے ۔سپیشل ہوم سیکرٹری فضل الرحمٰن نے بتایا غیر قانونی اسلحہ رکھنے پر 4 سے 14 سال تک سزائیں اور 10 سے 30 لاکھ روپے تک جرمانے عائد کیے جائیں گے جبکہ یہ جرم ناقابلِ ضمانت تصور ہوگا۔ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ نے کہا سی سی ڈی کے قیام سے صوبے میں کرائم کی شرح میں نمایاں کمی ہوئی ہے ۔انہوں نے بتایا قتل کے جرائم میں 33 فیصد، گاڑیاں چھیننے کی وارداتوں میں 62 فیصد، گاڑی چوری میں 51 فیصد، ڈکیتی میں 70 فیصدجبکہ راہزنی میں 71 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ۔
انہوں نے کہا ناجائز اسلحہ کیخلاف جاری کریک ڈاؤن کے نتیجے میں اگلے چار ماہ میں اسلحہ کے زور پر ہونے والے جرائم میں 75 فیصد تک کمی لانے کا ہدف رکھا گیا ہے ۔انہوں نے بتایا صوبے بھر میں قتل کی وارداتیں 1300 سے کم ہو کر 800 رہ گئی ہیں جبکہ مجموعی طور پر کرائم ریٹ میں 70 فیصد کمی آئی ہے ۔ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ نے دشمن دار لوگو ں سے کہا دشمنی کی آڑ میں اسلحہ لہرانے کی اجازت نہیں ہو گی۔دشمن دار لوگ اپنے مخالفین سے صلح کر لیں، اگر وہ صلح نہیں کر سکتے انکو یہ کام مشکل لگتا ہے تو وہ دبئی چلے جائیں ۔انہوں نے کہا جن کا کرائم ریکارڈ نہیں ہے وہ لائسنس یافتہ اسلحہ رکھ سکتے ہیں، سی سی ڈی پنجاب پولیس کے ساتھ مل کر جرائم کی روک تھام کیلئے کام کر رہی ہے ، اب پنجاب میں کئی کئی دن ایک بھی گاڑی چھیننے کی واردات نہیں ہوتی ۔ سہیل ظفر چٹھہ نے کہا سی سی ڈی کو خاص طور پر کرائم کم کرنے کیلئے بنایا گیا، یہ ہر قسم کے کرائم پر کام نہیں کرتی ۔ سی سی ڈی، قتل، زیادتی، بھتامافیا اور ایسے کیسز دیکھتی ہے جن کے گواہ کو قتل کر دیا جائے ۔