قومی اسمبلی سے بھی27ویں ترمیم منظور:جسٹس یحییٰ آفریدی ہی ملک کے چیف جسٹس ان کی ریٹائرمنٹ پر آئینی عدالت اور سپریم کورٹ میں سے سینئر جج جسٹس آف پاکستان ہونگے

قومی اسمبلی سے بھی27ویں ترمیم منظور:جسٹس یحییٰ آفریدی ہی ملک کے چیف جسٹس ان کی ریٹائرمنٹ پر آئینی عدالت اور سپریم کورٹ میں سے سینئر جج جسٹس آف پاکستان ہونگے

سینیٹ سے منظور بل کی 4شقیں حذف، 4میں ترمیم یا نئی شامل،سنگین غداری کے آرٹیکل 6میں بھی ’’آئینی عدالت‘‘ کا اضافہ، حق میں 234ووٹ،4کی مخالفت،بل دوبارہ سینیٹ بھیج دیا اپوزیشن کا احتجاج، اذان دی،کاپیاں پھاڑ دیں، واک آؤٹ،غیر جمہوری طاقتوں کے ساتھ مل کر کھیل کھیلا گیا:محمود اچکزئی، سپیکر نے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دے دی کسی کا باپ بھی 18ویں ترمیم ختم نہیں کرسکتا،اب کوئی سوموٹو نہیں ہوگا،شہباز شریف ڈلیور کر رہے ،ماننا پڑیگا:بلاول،سارے اختیارات لے لیں، 130 شہروں میں ممدانی دیدیں:فاروق ستار

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، نامہ نگار،دنیا نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک)سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی میں بھی اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود ستائیسویں آئینی ترمیم کا بل دو تہائی اکثریت سے منظورکرلیا گیا، چیف جسٹس پاکستان کے عہدے پر ابہام دورکرنے کیلئے سینیٹ سے منظور بل کی دو شقیں حذف کردی گئیں۔ موجودہ چیف جسٹس ہی چیف جسٹس آف پاکستان کہلائیں گے ، صدر مملکت، آڈیٹر جنرل، چیف الیکشن  کمشنر کا حلف چیف جسٹس آف پاکستان لیں گے ، موجودہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے بعد آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹسز میں سے سینئر جج چیف جسٹس آف پاکستان کہلائے گا۔ترامیم کی منظوری کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا آج نواز شریف سرخرو ہوئے ،یہ چارٹر آف ڈیموکریسی کا عروج ہے ،یحیی آفریدی نے آئین کے دائرے میں رہ کر ہماری بھرپور مدد کی۔سپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا۔ وزیراعظم شہبازشریف، صدر ن لیگ نواز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار،چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو بھی موجود تھے ۔

پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر وزیراعظم شہبازشریف اور وفاقی وزرا نے نوازشریف کا استقبال کیا۔اسی دوران پی ٹی آئی ارکان بھی اکٹھے ہوکر ایوان میں نعرے بازی کرتے ہوئے داخل ہوئے ،انہوں نے ہاتھوں میں بانی پی ٹی آئی کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔اپوزیشن نے ایوان میں شدید احتجاج کیا، اقبال آفریدی نے سپیکر ڈائس کے سامنے اذان دینا شروع کر دی، اپوزیشن ارکان ویڈیو بناتے رہے ، حکومتی ارکان نے وزیر اعظم اور نواز شریف کے گرد حصار بنائے رکھا۔ بلاول بھٹو زرداری کے خطاب کے دوران بھی اپوزیشن ارکان شدید نعرے بازی کرتے رہے ۔ سپیکر ڈائس کے سامنے شدید نعرے بازی کرتے رہے ۔ پی ٹی آئی کے شور شرابے کے باعث بلاول بھٹو کوہیڈ فون لگا کر تقریرکرنا پڑی۔پی ٹی آئی کے ارکان شور شرابے اور احتجاج کے بعد ایوان سے واک آؤٹ کر گئے ،تاہم جمعیت علمائے اسلام (ف)کے چار ارکان ایوان میں موجود رہے اور تمام شقوں کی مخالفت میں اپنی رائے دیتے رہے ۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا ستائیسویں آئینی ترمیم پر بحث سمیٹتے ہوئے کہنا تھا کہ سینیٹ نے پارلیمانی کمیٹی سے منظور آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کی۔چیف جسٹس کے ابہام کو دور کرنے کیلئے کچھ نئی ترامیم درکا رہیں، ان ترامیم سے واضح ہوگا کہ و ہی چیف جسٹس آف پاکستان ہیں، آرٹیکل 6میں ترمیم لائی جا رہی ہے ، جس میں ترمیم کر کے آئینی عدالت کو بھی شامل کیا گیا۔

انہوں نے کہا سینیٹ سے منظور شدہ 27ویں آئینی ترمیمی بل 2025 میں شق 4 اور 19 کو حذف کیا جائے ، ترمیم کی شق 4 میں چیف جسٹس کے عہدے میں ابہام تھا جسے دور کیا ہے ، چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ بحال رہے گا، ترمیم کے بعد جسٹس یحیی آفریدی ہی چیف جسٹس آف پاکستان رہیں گے ۔ آئینی عدالت اور سپریم کورٹ سے جو جج سینئر ہوگا وہ چیف جسٹس پاکستان کہلائے گا، دونوں عدالتوں میں سے جو چیف جسٹس سینئر ہوں گے وہ کمیشن کو چیئر کریں گے ۔حکومت نے 27 ویں آئینی ترمیم میں 8 نئی ترامیم پیش کیں، چار شقیں حذف کرنے اور چار شقوں میں ترمیم یا نئی شامل کرنے کی ترامیم پیش کی گئیں۔ شق 23 میں ترمیم پیش کی کہ موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان ہی اپنی مدت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان رہیں گے ۔ وزیر قانون نے قومی اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترمیم کی تحریک پیش کی جس کی حمایت میں 231 ووٹ آئے جبکہ تحریک کی مخالفت میں 4 ووٹ آئے ۔سپیکر ایاز صادق نے آئینی ترمیم کی شق وار منظوری لی جس کیلئے اراکین نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر حمایت کا اظہار کیا۔جمعیت علمائے اسلام نے ترمیم کی مخالفت کی۔ تمام 59 شقیں دو تہائی اکثریت سے منظور کر لی گئیں۔ ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی نے اعلان کیا کہ قومی اسمبلی نے 27ویں آئینی ترمیم منظورکرلی جس کی حمایت میں 234 اور مخالفت میں 4 ووٹ آئے ہیں۔ن لیگ کے حمزہ شہباز اور پیپلزپارٹی کی شگفتہ جمانی نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا ۔

آئینی وقانونی حلقوں کی طرف سے تحفظات کے بعد 27ویں آئینی ترمیم کا بل قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد دوبارہ سینیٹ بھیج دیا گیا ، اب سینیٹ سے منظوری کے بعد بل صدارتی توثیق کے لئے ایوان صدر بھیجا جائے گا۔قومی اسمبلی سے منظورستائیسویں ترمیم میں آرٹیکل 6کی شق 2اے میں وفاقی آئینی عدالت کو شامل کرنے کی منظوری دی گئی، دیگر ترامیم کے تحت جوڈیشل و آئینی امورکی سماعت کے لئے الگ آئینی عدالت قائم کی جائے گی،فیلڈ مارشل کا عہدہ تاحیات رہے گا، تینوں مسلح افواج کے سربراہ کے لئے چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ تخلیق کیاگیا ہے جس پر تقرری وزیر اعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت کرے گا،جبکہ چیئرمین جوائنٹس چیف آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025 سے ختم ہو جائے گا۔وزیر اعظم چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کے کمانڈر کا تقرر کرے گا۔سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس کا اختیار ختم کردیا گیا ہے ، ہائی کورٹ کے ججوں کا اب ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ میں تبادلہ کیا جاسکے گا،صدر کو عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد استثنیٰ حاصل ہوگاتاہم اگر وہ دوبارہ کوئی پبلک آفس لے گا تو اس کا استثنیٰ ختم کردیا جائے گا۔

سپریم جوڈیشل کونسل کی ہیئت اس طرح ہوگی کہ وفاقی آئینی عدالت کا چیف جسٹس، سپریم کورٹ آف پاکستان کا چیف جسٹس،دونوں عدالتوں کے ایک ایک سینئر ترین جج،دو سال کے لئے سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس صاحبان کی جانب سے نامزد ایک جج،دو سینئر ترین ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان شامل ہوں گے ۔سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس میں سے جو سینئر ہوگا وہ کونسل کا سربراہ ہوگا۔ہائی کورٹ کا کوئی جج جو وفاقی آئینی عدالت یا سپریم کورٹ آف پاکستان میں بطور جج تعیناتی سے انکار کرے گا یا سپریم کورٹ کا کوئی ایسا جج جو وفاقی آئینی عدالت میں تعیناتی قبول نہیں کرے گا وہ اپنے عہدے سے سبکدوش تصور ہوگا۔ کسی آئینی ترمیم پر کسی عدالت کی جانب سے سوال نہیں اٹھایا جاسکے گا۔ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت میں پہلی مدت کے بعد دونوں عدالتوں میں جو سینئر ہوگا وہ چیف جسٹس آف پاکستان کہلائے گا۔وفاقی آئینی عدالت میں تمام صوبوں سے ججز کی مساوی نمائندگی ہوگی اور کم سے کم ایک جج اسلام آباد ہائی کورٹ سے لیاجائے گا۔ججز تعیناتی کے لئے ضروری ہے کہ وہ سپریم کورٹ کا جج ہو یا رہا ہو،ہائی کورٹ میں بطور جج 5 سال تک خدمات سرانجام دی ہوں،ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کا 20 سال کا بطور وکیل تجربہ ہو۔وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کا حلف صدر مملکت لے گا جبکہ ممبر ججز سے چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت حلف لیں گے ۔

سپریم کورٹ یا آئینی بینچز کے پاس اس ترمیم کی منظوری تک تمام پٹیشنز،اپیلیں، اس آرٹیکل کے تحت پاس احکامات پر نظر ثانی کی درخواستیں،التواء کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کی جائیں گی۔وفاقی آئینی عدالت کے ججز کے لئے عمر 68 سال مقرر کی گئی ہے ۔وزیراعظم شہباز شریف نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری پر صدر مملکت، نواز شریف اور اتحادی جماعتوں کے سربراہان و اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا آئینی عدالتوں کے قیام سے بے نظیر کی روح آج بہت خوش ہوگی،میثاق جمہوریت میں واضح آئینی عدالت کا لکھا تھا، آج 19 سال بعد یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوا، بے نظیر کی روح کو تسکین مل رہی ہو گی، اللہ نے آج نواز شریف کو بھی سرخرو کیا، آئینی عدالت کا معرض وجود میں آنا میثاق جمہوریت کا عروج ہے ۔ اپوزیشن کو 19 سالوں میں آئینی عدالت کے حوالے سے یاد نہ آیا، آج انہیں یہ کورٹ تکلیف دے رہی ہے مگر میں سمجھتا ہوں اختلاف اپوزیشن کا حق ہے اور ہم اس کا احترام کرتے ہیں ،تاہم گالی گلوچ اور الزام تراشی کو ختم کرنا ہوگا، ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے سب کو ملکر کام کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس یحیی آفریدی کا شکریہ، جنہوں نے بھرپور معاونت کی اور کورٹس نے فیصلے کیے اور قومی خزانے میں اربوں روپے آچکے ہیں، یحیی آفریدی نیک نام چیف جسٹس ہیں، شخصیت اور کارکردگی شاندار ہے ، اُن کی مدد ملی اور اس فورم سے اُن کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہی آئینی عدالت اور اداروں کی سربراہی کرتے رہیں گے ۔وزیراعظم نے کہا معرکہ حق کی شاندار کامیابی کے بعد کسی بھی ملک کے سربراہ پانچ قدم آگے چل کر استقبال کرتے ہیں، انہوں نے کہا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اٹھارہویں ترمیم یا این ایف سی میں بغیر مشاورت کے کوئی تبدیلی کی جائے ، صوبوں کی ترقی سے ہمیں خوشی ہے ۔چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا کسی کا باپ بھی 18ویں ترمیم ختم نہیں کرسکتا، پاکستان کی افواج کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے ، بھارتی جہاز گرانے پر دنیا میں طاقت ملی، اس اقدام کی وجہ سے فیلڈ مارشل کا اعزاز دیا، 27ویں آئینی ترمیم میں اس کو شامل کیا جس کی حمایت کی،اپوزیشن کا کام یہ نہیں وہ اپنے لیڈر کا رونا روئے ، اپوزیشن کاکام ہے حکومت کا احتساب کرنا ہے ، اپوزیشن کو چاہیے تھا وہ کمیٹی میں بیٹھتی۔وزیر اعظم شہباز شریف محنت کر رہے ہیں ڈلیور بھی کر رہے ہیں، محمود خان اچکزئی کو ماننا پڑے گا،آئینی عدالت میں تمام صوبوں سے برابرکی نمائندگی ہونا بڑی کامیابی ہے ،اس آئینی ترمیم کے بعد کوئی سو موٹو نہیں ہوگا، اس ترمیم کے بعد کوئی جج اپنی مرضی سے ازخود نوٹس نہیں لے گا، پاکستان نے دہشتگردی اور بحرانوں سے نکلنا ہے تو چارٹر آف ڈیمو کریسی کے دیگر حصوں پر بھی عمل کرنا پڑے گا۔

قبل ازیں اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی اظہار خیال کے لیے کھڑے ہوئے تو انہوں نے 27 ویں ترمیم کے بل کی کاپی پھاڑ دی اور کہا یہ حکومت فارم 47 پر قائم کی گئی ہے ، اب یہ بتائیں ایسی پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کا اختیار دیا جا سکتا ہے ؟ اس آئینی ترمیم میں غیر جمہوری طاقتوں کے ساتھ مل کرکھیل کھیلا گیا۔ اس موقع پر سپیکر نے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی، محموداچکزئی نے دعوت مستردکرتے ہوئے کہا آپ سے بات نہیں ہو سکتی کیونکہ آپ حقیقی نمائندے نہیں۔ایاز صادق نے کہا کہ میں آپ کے لیڈر کو دو بار ہرا کے یہاں آیا ہوں۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ہم نے مذاکرات میں حصہ لینے کی ہر ممکن کوشش کی، ہمارے ایم این ایز کو پارلیمنٹ ہاؤس سے اٹھایا گیا۔وفاقی وزیر عطا تارڑ نے کہا آج جب یہ پارلیمان ایک اعلیٰ ادارہ پاکستان کا ایک آئینی ترمیم کرنے جا رہا ہے ان کو چبھ رہا ہے ، دوہرے معیار کے علاوہ ان کی سیاست ہے کیا،کیا پارلیمنٹ نے جوائنٹ اپوزیشن کی میٹنگ بلائی؟ میٹنگ بلاتے بات کرتے تو بات تھی۔ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے وزیراعظم، وزیرقانون اور فیلڈ مارشل سے مطالبہ کیا کہ خدارا سارے اختیارات لے لیں، 130 شہروں میں زہران ممدانی دے دیں۔پی ٹی آئی رہنما شہریار آفریدی نے کہا آج مرد مجاہد عمران خان جس کا اللہ پر یقین ہے وہ کہتا ہے تم جتنی مرضی ترامیم کر لو میں تمہارا مقابلہ کروں گا۔قومی اسمبلی کا اجلاس کل شام 4 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں