آرڈیننس نا منظور ، ٹرانسپورٹرز کا پہیہ جام ہڑتال کا اعلان

آرڈیننس نا منظور ، ٹرانسپورٹرز کا پہیہ جام ہڑتال کا اعلان

ڈرائیورز کی تذلیل معمول بن چکی ، جرمانے کرایوں سے کئی گنا زیادہ ہیں مطالبات نہ مانے تو ہڑتال کو پورے ملک تک بڑھا دیا جائیگا :پریس کانفرنس

لاہور (کامرس رپورٹر)ٹرانسپورٹرز نے ٹریفک آرڈیننس 2025 کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے 8 دسمبر کو پنجاب بھر میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کردیا۔ مختلف ٹرانسپورٹ تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہڑتال کے دوران نہ پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں پر آئے گی اور نہ ہی  گڈز ٹرانسپورٹ کے ذریعے سامان کی ترسیل ہوسکے گی، ڈرائیورز پولیس کارروائیوں اور سخت قوانین کے باعث خوف و ہراس میں مبتلا ہیں اور گاڑیاں چلانے سے انکار کر رہے ہیں۔لاہور پریس کلب میں پاکستان ٹرانسپورٹ متحدہ ایکشن کمیٹی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ٹریفک آرڈیننس 2025 بغیر مشاورت کے نافذ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ سیکٹر کا 80 فیصد کام رک چکا ہے ۔ پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر نبیل طارق نے کہا کہ ڈرائیورز کی تذلیل معمول بن گئی ہے ، جرمانے کرایوں سے کئی گنا زیادہ ہیں اور صنعت کو بحران کی طرف دھکیلا جا رہا ہے ۔

انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ ٹرانسپورٹ انڈسٹری پر رحم کیا جائے اور فوری طور پر فیصلوں پر نظر ثانی کی جائے ۔اس موقع پر کمیٹی نے حکومت کے سامنے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ ٹریفک آرڈیننس 2025 واپس لیا جائے ، ٹارگٹڈ چالان ختم کیے جائیں، پیرا فورس کے اختیارات محدود کیے جائیں، روٹس کی ازسرِنو منظوری دی جائے اور ایل ٹی وی سے ایچ ٹی وی لائسنس کی اپ گریڈیشن کو آسان بنایا جائے ۔ مزید مطالبات میں جرمانوں پر نظرِ ثانی، پاسنگ کی سہولت سٹینڈز پر فراہم کرنے ، نئے ٹرک اڈے بنانے ، ٹریفک چالان کے ‘‘کوڈ 24’’ کو ختم کرنے ، نیلامی کی گاڑیوں پر عائد پابندی ہٹانے ، روٹ پرمٹ کی میعاد تین سال کرنے اور سکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانا شامل ہیں۔آل پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر عصمت اللہ نیازی نے کہا کہ اگر حکومت نے چار دن میں مطالبات نہ مانے تو ہڑتال کو پورے پاکستان تک بڑھا دیا جائے گا۔اس موقع پر مرکزی صدر پاکستان منی مزدا ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن حاجی شیر علی چودھری اور تنویر جٹ سمیت ٹرانسپورٹ تنظیموں کے عہدیداروں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی ـ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں