گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ ختم کرنے کیلئے پٹرولیم مصنوعات پرمزید 5روپے لیوی بڑھانے کا پلان تیار:1700ارب روپے کا بوجھ کم ہوگا:ذرائع
قرضہ 3180ارب روپے سے متجاوز ،1700ارب کی سیٹلمنٹ میں 1400ارب کے نان ریکوری، لائن لاسز، ٹیرف ڈیفرینشل ایشوز، 300ارب ٹیکس اور سود کے شامل گیس پروڈکشن کمپنیوں کے ڈیویڈنڈ کو قرضہ ختم کرنے کیلئے سیٹل کرنیکی تجویز،5سے 6برسوں میں اضافی پی ڈی ایل کی ریکوری ساڑھے 5سو ارب روپے کرنیکا منصوبہ ڈیویڈنڈ ، اضافی ٹیرف لگا کر 700ارب روپے ایڈجسٹ ، کارگو میں کمی سے 500ارب بچت، پلان آئی ایم ایف کیساتھ شیئر نہیں کیا گیا ،وزیراعظم آفس سے منظور کرایا جائیگا :ذرائع
اسلام آباد(مدثرعلی رانا)گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ ختم کرنے کیلئے حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر مزید 5روپے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی بڑھانے کا پلان تیار کر لیا۔ باوثوق ذرائع کی جانب سے معلوم ہوا کہ گیس سیکٹر کے گردشی قرضہ تقریبا ً3180 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے جس میں سے 1700 ارب روپے کی سیٹلمنٹ کرنے کا پلان تیار کیا گیا ہے ، جس میں 1400 ارب روپے نان ریکوری، لائن لاسز، ٹیرف ڈیفرینشل سمیت دیگر ایشوز شامل ہیں جبکہ 300 ارب روپے ٹیکس اور سود کے شامل ہیں ، یوں مجموعی طور پر 17 سو ارب روپے کی سیٹلمنٹ کا پلان ہے ۔ پلان میں تین تجاویز شامل ہیں۔ پلان میں شامل کیا گیا ہے کہ گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ آئندہ 6 برسوں میں ختم کر دیا جائے ۔ تجاویز میں شامل ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر مزید 5 روپے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی بڑھا دی جائے ، ٹیرف ایڈجسمنٹس کے دوران اضافی رقم شامل کی جائے ، گیس پروڈکشن کمپنیوں سے ملنے والے ڈیویڈنڈ کو واپس گردشی قرضہ ختم کرنے کیلئے سیٹل کیا جائے ، فی لٹر پٹرولیم مصنوعات پر جو 5 روپے اضافی پی ڈی ایل عائد کی جائے گی اس سے آئندہ 5 سے 6 برسوں کے دوران ساڑھے 5 سو ارب روپے ریکوری کا پلان ہے ۔ ڈیویڈنڈ اور اضافی ٹیرف لگا کر تقریبا ً7 سو ارب روپے ایڈجسٹ کیے جائیں گے ، کارگو میں کمی لا کر 5 سو ارب روپے کے لگ بھگ بچت کی جائے گی ، اس کے علاوہ پاور کمپنیز سے ریکوری سمیت دیگر اقدامات بھی شامل ہیں۔ یہ پلان تیار کر لیا گیا ہے لیکن وزیراعظم آفس اور وزارت خزانہ سے اس میں تبدیلی کیلئے تجاویز دی ہیں، جن میں شامل ہے کہ ڈیویڈنڈ کی رقم کو 60/40 فیصد کی شرح سے ایڈجسٹ نہیں کیا جا سکتا، 60/40 شرح کے مطابق حکومت ڈیویڈنڈ کا 60 فیصد استعمال کرے گی اور 40 فیصد واپس گیس کمپنیوں کو ادا کر دیے جائیں گے تاکہ گردشی قرض میں سیٹلمنٹ ہو سکے۔
یہ تجویز نہیں مانی گئی اور نئی تجویز یہ دی گئی کہ ڈیویڈنڈ کی رقم کو بڑھایا جائے جو وصول ہونے والی اضافی رقم واپس کمپنیوں کے اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی ۔ فی لٹر پٹرولیم مصنوعات پر یکمشت 5 روپے پی ڈی ایل بڑھانے کی تجویز میں بھی ترمیم کیلئے ہدایات دی گئی ہیں کیونکہ حکومت کو یہ خدشہ بھی ہے کہ مزید پی ڈی ایل لگانے سے پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں کمی ہو جائے گی اور سالانہ پی ڈی ایل کا ٹارگٹ حاصل نہیں ہو سکے گا ، اس کیلئے یہ تجویز دی گئی ہے کہ گردشی قرضے کو سیٹل کرنے کیلئے دورانیہ 5 سال سے بڑھا کر تقریباً 8 سال تک مقرر کیا جائے تاکہ پی ڈی ایل کا کم بوجھ ڈالا جا سکے اور حکومتی ٹارگٹ بھی کم نہ ہو ۔ اس پلان کو ابھی تک آئی ایم ایف کیساتھ شیئر نہیں کیا گیا کیونکہ نظرثانی شدہ پلان پہلے وزیراعظم آفس سے منظور کرایا جائیگا ، حکومت کو یہ خدشہ بھی ہے کہ آئی ایم ایف اس پلان پر اعتراض کر سکتا ہے کیونکہ ہر پٹرولیم مصنوعات استعمال کرنے والے گھر میں گیس کنکشن نہیں تو وہ گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ ختم کرنے کیلئے اضافی پی ڈی ایل کیوں ادا کرے ؟ اب پٹرولیم ڈویژن دوبارہ نظرثانی شدہ پلان تیار کرے گی۔ خبر پر مؤقف لینے کیلئے وزارت توانائی اور وزارت خزانہ میں رابطہ کیا گیا لیکن خبر فائل کرنے تک بات نہ ہو سکی۔