پاکستان کا سعودی عرب سے مکمل اظہار یکجہتی:شہباز شریف اور شہزادہ محمد بن سلمان میں ٹیلی فونک رابطہ،یمن میں امن واستحکام کیلئے تمام کوششوں کی حمایت کرتے ہیں:دفتر خارجہ
وزیر اعظم اور سعودی ولی عہد کا علاقائی صورتحال ، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال ، شہباز شریف سے سعودی سفیر کی ملاقات ،یمن میں پھر تشدد کاسلسلہ شروع ہونے پر تشویش :تر جمان اسحاق ڈار سے گورنر تبوک کا ٹیلی فونک رابطہ ، مشکل فیصلوں کے نتائج بول رہے ،10 لاکھ نئے ٹیکس دہندگان شامل ہوئے ،ملک درست سمت میں گامزن :وزیراعظم کا تقریب سے ویڈیو لنک خطاب
اسلام آباد(نامہ نگار ، وقائع نگار ،مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم شہبازشریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا ، خطے کی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ دفتر خارجہ نے کہا ہے پاکستان یمن کے اتحاد اور علاقائی سالمیت کے ساتھ ساتھ ملک میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے تمام کوششوں کی حمایت کا اعادہ کرتا ہے ۔ وزیراعظم آفس کے مطابق بدھ کو وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں دوطرفہ تعلقات پر بھی بات چیت ہوئی۔ وزیراعظم نے اُمہ کے موجودہ چیلنجز میں اُمہ کی صفوں میں اتحاد اور ہم آہنگی کی برقرار رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ٹیلیفونک رابطے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی مملکت کی خواہش کا اعادہ کیا۔ انہوں نے آئندہ برس پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔
دریں اثنا وزیراعظم محمد شہبازشریف سے پاکستان میں تعینات سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید احمد المالکی نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔ملاقات کے دوران وزیراعظم نے خادمین حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے اپنے احترام اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے اپنے مضبوط عزم کا اعادہ کیا۔ اس حوالے سے انہوں نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا جس کی بدولت دونوں ممالک ایک دوسرے کے مزید قریب آئے ۔وزیر اعظم نے اس سال کے دوران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کا ذکر کیا جو کہ انتہائی نتیجہ خیز رہی تھیں اور پاک سعودی دوطرفہ تعلقات کو نئی سطحوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے ضرورت کے وقت سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کی مسلسل حمایت اور علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں اس کے تعمیری کردار کو بھی سراہا۔ ملاقات میں حالیہ علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے امن و استحکام کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ سعودی سفیر نے شاہ سلمان اورولی عہد کی جانب سے وزیراعظم کو تہنیتی پیغام پہنچایا۔ادھر پاکستان کے دفتر خارجہ نے یمن میں تشدد کی بحالی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔
اس سلسلے میں پاکستان کسی بھی یمنی فریق کے یکطرفہ اقدامات کی سختی سے مخالفت کرتا ہے جو صورت حال کو مزید خراب کر سکتا ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق تشدد امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے ، اور یمن کے ساتھ خطے کے امن و استحکام کو بھی خطرہ بنا سکتا ہے ۔پاکستان یمن میں صورتحال کو کم کرنے اور امن و استحکام برقراررکھنے کے لیے علاقائی کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے ۔ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور مملکت کی سلامتی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے ۔ پاکستان مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے یمن کے مسئلے کے حل کے لیے اپنی مضبوط حمایت کو برقرار رکھتا ہے اور امید کرتا ہے کہ یمن کے عوام اور علاقائی طاقتیں علاقائی استحکام کے تحفظ کے لیے اس مسئلے کے جامع اور پائیدار حل کے لیے مل کر کام کریں گی۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کوسعودی عرب کے شہر تبوک کے گورنر شہزادہ فہد بن سلطان بن عبدالعزیز نے ٹیلیفون کیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق شہزادہ فہد بن سلطان بن عبدالعزیز نے نائب وزیراعظم سے گفتگو کرتے ہوئے انہیں نئے سال کی مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ نائب وزیر اعظم نے شہزادہ فہد بن سلطان کے گرمجوش جذبات کا خیر سگالی جواب دیا۔ تبوک کے گورنر نے اپنی ماضی کی مثبت ملاقات کو یاد کرتے ہوئے نائب وزیراعظم کو تبوک آنے کی دعوت دی۔ گفتگو میں باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔ نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پاک سعودی تعلقات کو فروغ دینے میں شہزادہ فہد کی ذاتی دلچسپی کو سراہا۔ علاوہ ازیں وزیر اعظم شہباز شریف نے معاشی بہتری کیلئے اصلاحات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دو سال کے دوران پاکستان نے بہترین معاشی ترقی کی ہے ، غیر متزلزل عزم سے چیلنجز کامقابلہ کیا اور ملک کو درست سمت میں گامزن کر دیا، اسی رفتار سے آگے بڑھتے رہے تو کامیابی ہمارا مقدر ہے ،معاشی طور پر ہم مشکلات میں گھرے ہوئے تھے مگر اب حکومت کے مشکل فیصلوں کے نتائج خود بول رہے ہیں،دس لاکھ سے زائد نئے ٹیکس دہندگان نظام میں شامل ہوئے ۔ ان خیالات کا اظہاروزیراعظم نے بدھ کو یہاں اقتصادی گورننس اصلاحات کی تقریب رونمائی سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وزیر اعظم نے حکومت کی معاشی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جب اقتدار سنبھالا تو ہمیں شدید چیلنجز کا شکار معیشت ورثے میں ملی، ہمارے سامنے بڑے چیلنجز تھے جن سے نمٹنا آسان نہ تھا، زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے تھے لیکن ہم نے مشکل کام کا بیڑا اٹھایا ، مسلم لیگ ن کیلئے یہ صورت حال پہلی بار نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 3اعشاریہ 3 ارب ڈالر سے تبدیل ہو کرایک اعشاریہ 9ارب ڈالر کے سرپلس میں بدل چکا ہے ، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب تقریباً 8 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد سے زائد ہو گیا ہے ، حکومتی نظام کو وسیع پیمانے پر ڈیجیٹل پر منتقل کیا۔ انہوں نے کہا کہ معاشی اصلاحات آسان کام نہیں تھا، پاکستان سرمایہ کاری کیلئے پرکشش ملک بن چکا ہے ، اقتصادی اصلاحات پاکستان کے بہتر مستقبل کا پتہ دے رہی ہیں ، ہم کاغذی نہیں ، عملی اقدامات کر رہے ہیں ۔ انہوں نے معاشی بہتری کے لئے اصلاحات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ الحمدللہ اصلاحات کا سفر درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے ، انشاء اللہ ہم اپنے اہداف مکمل کریں گے ۔
انہوں نے پی آئی اے کی نجکاری کو بڑا اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی نجکاری عرصہ دراز سے التواء کا شکار تھی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پونے دو سال میں یہ اصلاحات کوئی آسان کام نہیں تھا، دہائیوں سے یہ اصلاحات تاخیر کا شکار رہیں اور انہیں عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا، تاخیری حربے استعمال ہوتے رہے ۔ ہم اپنے عوام کو جوابدہ ہیں، عوام نے ہمیں جو ذمہ داری دی ہے اس سے احسن طریقے سے عہدہ برآ ہوں گے ۔ قبل ازیں وزیراعظم آفس میں تقریب میں وزیراعظم کی اقتصادی گورننس اصلاحات کا باضابطہ آغاز کیا گیا جو معیشت کو محض کلی معیشت کے استحکام کے مرحلے سے نکالتے ہوئے نمو پر مبنی اور اصلاحات پر مرکوز اقتصادی فریم ورک کی جانب فیصلہ کن پیش رفت کی علامت ہے ۔ وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے اصلاحات کے ایجنڈے پر جامع بریفنگ دی۔