شنکر ، ایاز مصافحہ بامقصد مذاکرات کا پیش خیمہ بن سکتا!
بھارت کو اپنے طرز عمل، طریقہ کار اور حکمت عملی پر نظر ثانی کرنا ہوگی
(تجزیہ:سلمان غنی)
بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر اور قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کے درمیان بنگلہ دیش میں ہونے والی ملاقات اور مصافحہ کو موجودہ علاقائی صورتحال اور دوطرفہ معاملات میں ایک اچھے پیغام اور خوش آئند عمل کے طور پر لیا جا سکتا ہے ۔ دونوں رہنما بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے جنازے میں شرکت کیلئے یہاں آئے تھے ۔ اطلاعات کے مطابق جب بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کی نظر پاکستانی قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق پر پڑی تو وہ ان کی طرف چل کر آئے ، ملاقات تو ایک ہنگامی صورتحال میں ہوئی لیکن ماہرین اسے دونوں ممالک کے درمیان برف پگھلنے کی طرف پیش رفت قرار دے رہے ہیں ۔لہٰذا اس صورتحال میں بھارتی وزیرخارجہ جے شنکر اور قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کے درمیان اس ہنگامی ملاقات کو بریک تھروتو سمجھا جاسکتا ہے ۔ جے شنکر پرانے ڈپلومیٹ ہیں اور ڈپلومیسی کے رموز جانتے ہیں اور ایک ایسی کیفیت میں جب مئی کی جنگ کے بعد بھارت ایک پریشان کن صورتحال میں دفاعی محاذ پر کھڑا ہے ،اس صورتحال میں بھارتی ڈپلومیٹ نے اپنے اس عمل کے ذریعہ بھارت کو اس کیفیت سے نکالنے کی کوشش کی ہو اور اس موقع کا فائدہ اٹھایا ہو۔
اس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ڈیڈ لاک کی صورتحال کیونکر پیدا ہوئی ،کس کی وجہ سے ہوئی اور کیا اچھی ہمسائیگی کیلئے تعلقات کار بحال ہوسکتے ہیں اور کیا بنگلہ دیش میں ہونے والی ملاقات اور دونوں رہنماؤں کے درمیان سوگوار کے عمل میں خوشگوار ملاقات کو بریک تھرو قرار دیا جاسکتا ہے ؟ ۔ پاکستان کا وزیراعظم بھارت سے اچھے تعلقات کا خواہاں رہا ہے اور ہمیشہ مذاکرات کی بات اس لئے کی جاتی رہی کہ پاکستان کا کشمیر سمیت متنازعہ ایشوز پر پاکستان کا کیس رہا ،لیکن بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دے کر جلتی پر تیل ڈالتا رہا ۔ تناؤ کی بنیادی وجہ یہ رہی کہ دہشت گردی کے شکار پاکستان کو بھارت دہشت گردی سے موڑ کر عالمی محاذ پر اس حوالہ سے اپنے کردار کی پردہ پوشی کرتا رہا اور یہ سلسلہ مسلسل جاری رہا ۔پاک بھارت جنگی صورتحال نے دنیا بھر میں پاکستان کا قد اونچا کیا اور بھارت کو دفاعی محاذ پر لاکھڑا کیا ۔ صدر ٹرمپ اور مغربی میڈیا مختلف اوقات میں اپنے بیانات اور تجزیوں کے ذریعہ پاکستان کی عسکری اہلیت کو سراہتے نظر آئے اور بھارت کے رافیل طیاروں کو گرانے کے عمل کی مسلسل تصدیق نے بھارت کو پریشان کن صورتحال سے دوچار رکھا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ڈیڈ لاک نے عالمی قوتوں کو بھی پریشان کر رکھا ہے اور عالمی میڈیا اب بھی دونوں کے درمیان جنگ کو خارج از امکان نہیں سمجھتا۔
لہٰذا تناؤ اور ٹکراؤ کی اس کیفیت میں جے شنکر ایاز ملاقات کو تازہ ہوا کا جھونکا بھی قرار دیا جاسکتا ہے ، اچھی شروعات ہوسکتی ہے اگر بھارت چاہے تو۔ لیکن بھارت یاد رکھے کہ اصل تنازع کشمیر ہے ۔بھارت کو اپنے طرز عمل ،طریقہ کار اور حکمت عملی پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ علاقائی چودھراہٹ کا خواب تو ہوا میں تحلیل ہو چکا ہے ۔ پاکستان کا اصولی موقف مذاکرات کا رہا، مگر بھارت کی ضد اور ہٹ اس میں مانع رہی۔ لہٰذا جے شنکر کا پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کی طرف لپکنا ،ان سے مصافحہ کرنا اچھے تعلقات، بامقصد مذاکرات کا پیش خیمہ بن سکتا ہے ۔ اس حوالہ سے گیند بھارت کے کورٹ میں ہے ۔ بڑا ملک ہونے سے کوئی ملک بڑا نہیں بنتا بلکہ بڑا دل کرنے اور بڑے کردار کے ساتھ ملک بڑے ہوتے ہیں۔ پاکستان خطہ میں بھارت کے مقابلہ میں چھوٹا ملک ضرور ہے مگر پاکستان اپنے کردار اور اپنے طرز عمل سے دنیا میں سرخرو ہوا ہے اور چھوٹا ملک ہونے کے باوجود خطے میں بڑا کردار ادا کرنے کو تیار ہے ۔ بھارت کو اس کا فائدہ اٹھانا چاہئے ۔اس حوالہ سے ٹائمنگ اہم ہے ،اگر بھارت سمجھ پائے تو۔