بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ کے مترادف ہوگا، مہر علی شاہ

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ کے مترادف ہوگا، مہر علی شاہ

صورتحال مانیٹر کررہے ہیں،بھارت معاہدے کی خلاف ورزی کررہا اب بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے لگا ، دنیا مہر بخاری کیساتھ

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کمشنر فارانڈس واٹر سید محمد مہر علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان اور بھارت نے طویل بحث مباحثے کے بعد معاملات کو طے کیا تھا 1960 میں یہ طے پایا تھا کہ ہمارے جو دریا ہیں،جس میں دریا سندھ ہے ، راوی،جہلم،چناب،بیاس اور ستلج شامل ہیں،ان کو اس طریقے سے استعمال کیا جائے اور ایسا فارمولہ بنایا جائے جس میں دونوں ملکوں کا ایک دوسرے پر انحصار نہ ہو،پانی کے بہاؤ میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو،ایسا اقدام نہ کیا جائے گا جس سے مسائل پیدا ہوں،بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو ایکٹ آف وار ہوگا۔ 

دنیا نیوز کے پروگرام دنیا مہر بخاری کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا معاہد ے کے تحت مشرقی دریاؤں راوی، بیاس، ستلج کا پانی بھارت کو اور مغربی دریاؤں سندھ، جہلم، چناب کا پانی پاکستان کو دیا گیا،اس فارمولے کے مطابق پاکستان نے اپنے دریا کے اوپر سمجھوتہ کیا،1965میں دونوں کے درمیان جنگ ہوتی ہے ،لیکن سندھ طاس معاہدے میں خلل نہیں پڑتا،پھر 1971 میں جنگ ہوئی،اس کے بعد کارگل کی جنگ ہوئی،اس کے بعد کئی چھوٹی موٹی جھڑپیں ہوتی رہی، لیکن اس کے باجود یہ معاہدہ چلتا رہا،اب بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے لگا ہے ،پہلگام واقعہ کو بہانہ بنا کر بھارت نے کہا تھا کہ اس معاہدے کو معطل کررہے ہیں، بھارت نے چناب پراجیکٹ کی تفصیلات شیئر نہیں کیں، معاہدے کے تحت بھارت نے تفصیلات دینی ہیں،دریاسندھ میں قدرکم ہے ، سٹیلائٹ کے ذریعے ہم صورتحال مانیٹر کررہے ہیں،بھارت مسلسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کررہا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں