فوجی آپریشن : امریکا وینزویلا کے صدر کو بیوی سمیت اٹھا لے گیا

فوجی آپریشن : امریکا وینزویلا کے صدر کو بیوی سمیت اٹھا لے گیا

مادورو کی گرفتاری ‘ٹی وی شو کی طرح’ دیکھی،وینزویلا کی افواج ہمارے انتظار میں تھیں، نائب صدر نے حلف اٹھا لیا، صدرکولمبیا کواپنا خیال رکھنا چاہیے :امریکی صدر ،مارکو روبیو کی کیوبا کو تنبیہ مہینوں تیاری کی ،150طیارے اڑائے :جنرل ڈین کین ،چین ،روس ، ایران،برازیل، میکسیکو،کولمبیاکی مذمت،،آپریشن میں شامل نہیں:برطانیہ،سلامتی کونسل کا اجلاس پیر کو طلب

کاراکس(دنیا نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا فوجی آپریشن کر کے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو بیوی سمیت اٹھا لے گیا، دونوں پر فرد جرم عائد کردی گئی،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا مادورو نیویارک میں منشیات سمگلنگ مقدمے کا سامنا کرینگے ،وینزویلا کوہم چلائیں گے ، امریکی کمپنیاں تیل کا نظام سنبھالیں گی۔ چین ،روس ، ایران،برازیل، میکسیکو،کولمبیا و دیگر نے امریکی حملے کی مذمت کی ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس پیر کو طلب کرلیا گیا۔وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس میں ہفتے کی علی الصبح کم ازکم 7دھماکے ہوئے اور شہر کے مختلف علاقوں میں امریکی طیاروں کی نچلی پروازیں دیکھی گئیں،میڈیا رپورٹ کے مطابق کاراکس کے جنوبی علاقے میں بجلی معطل ہو گئی، شہریوں کو نقل و حرکت محدود کرنے کی ہدایت کر دی گئی، مختلف مقامات سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دئیے۔

کاراکس میں ایک آبی ذخیرے کے قریب واقع ایک عمارت کے پاس آگ کے شعلے اور گھنا دھواں اٹھتا دیکھا گیا ، دھماکا کاراکس کے مرکزی فوجی اڈے فورچونا کے قریب یا اس کے آس پاس ہوا ، فورچونا وہاں ایک اہم فوجی اڈا ہے ، علاقے میں یکے بعد دیگرے کئی دھماکے سنے گئے، جن کے بعد بجلی بھی بند ہو گئی۔ وینزویلا حکومت نے تصدیق کی کہ حملے کاراکس، میرانڈا، آراگوا اورلاگویرا ریاستوں میں ہوئے ۔ وینزویلا حکومت نے کہا کہ امریکا ہمارے وسائل حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا، ہم امریکا کی فوجی جارحیت کو مستردکرتے ہیں۔ حملوں کے بعد ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔روسی میڈیا نے بتایا کہ امریکی حملوں میں وینزویلا کے دفاعی ہیڈکوارٹرزکو نشانہ بنایاگیا ،جبکہ وینزویلا کے کئی جزائر میں امریکی میرینز کے زمینی آپریشن شروع کرنے کی غیرمصدقہ اطلاعات بھی آئیں۔دوسری جانب وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے سرکاری ٹی وی پر نشر کی گئی ایک آڈیو میں کہا حکومت کو صدر نکولس مادورو یا ان کی اہلیہ سیلیا فلورز کے موجودہ ٹھکانے کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہیں ہیں۔

وینزویلا کے وزیر دفاع ولادیمیر پادرینو لوپیز نے امریکا پر رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا،انہوں نے کہا تمام مسلح افواج ملک میں تعینات کی جائیں گی اور جارحیت کا مقابلہ کیا جائے گا،ہم ہار نہیں مانیں گے ، فتح حاصل کریں گے ۔وینزویلا حکومت نے امریکی کارروائی کو سنگین فوجی جارحیت قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے ۔اسی حوالے سے کولمبیا کے صدر گستاو پیٹرو نے کاراکس حملوں کو لاطینی امریکا کی خودمختاری پر حملہ کہا اور تفصیلات بتاتے ہوئے یواین سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی اپیل کی ،انہوں نے بتایا کہ امریکی حملے میں لا کارلوٹا ایئر بیس کو ناکارہ بنا کر بمباری کی گئی، کوارٹیل دے لا مونتانا (کاتیا) کو ناکارہ بنا کر بمباری کی گئی، فیڈرل لیجسلیٹو پیلس (کاراکس) پر بمباری کی گئی۔فویئرتے تیونا، جو وینزویلا کا مرکزی فوجی کمپلیکس ہے ، پر بمباری کی گئی، ایل ہاتییو میں واقع ایک ہوائی اڈے پر حملہ کیا گیا، ایف۔

16 بیس نمبر 3 (بارکیسیمیٹو) پر بمباری کی گئی، کاراکس کے قریب چارالاوی میں واقع ایک نجی ہوائی اڈے کو بمباری کر کے ناکارہ بنا دیا گیا۔ میر افلورس، جو کاراکس میں صدارتی محل ہے ، میں دفاعی منصوبہ فعال کر دیا گیا،کاراکس کے بڑے حصے ، جن میں سانتا مونیکا، فویئرتے تیونا، لاس ٹیکیس، 23 دے اینیرو اور دارالحکومت کے جنوبی علاقے شامل ہیں، بجلی سے محروم ہو گئے ، وسطی کاراکس میں حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، ہیگروتے میں واقع ایک فوجی ہیلی کاپٹر بیس کو ناکارہ بنا کر بمباری کی گئی۔بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ وینزویلاکے صدر اوران کی بیوی کو گرفتار کرکے ملک سے باہر منتقل کردیا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ آپریشن امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے کیا گیا۔ فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا نکولس مادورو کو ایک سخت حفاظت والے قلعے سے گرفتار کیا گیاجو چاروں اطراف سے مضبوط سٹیل سے گھرا ہوا تھا۔اس کارروائی میں کوئی امریکی ہلاک نہیں ہوا، ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں چند افراد زخمی ہوئے ، لیکن وہ اب ٹھیک ہیں۔

صدر نے کہا حیرت انگیز طور پر یہ کارروائی انتہائی محفوظ اور مؤثر رہی،یہ گرفتاری امریکی فورسز کیلئے ایک بڑی کامیابی ہے ، جس میں جانوں کا نقصان نہیں ہوا۔انہوں نے کہا مادورو کی گرفتاری ٹی وی شو کی طرح دیکھی،دنیا میں کوئی اور ملک ایسا کارنامہ انجام نہیں دے سکتا۔دونوں میاں بیوی پر نیویارک میں فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے ،وینزویلا پر حملہ چار دن پہلے کرنے والے تھے ، لیکن موسم موزوں نہیں تھا۔ایک ہفتہ قبل مادورو سے بات کی تھی اور انہیں کہا تھا کہ تمہیں ہار ماننی ہو گی، تمہیں سرنڈر کرنا ہو گا۔ٹرمپ نے کہا امریکا آئندہ وینزویلا کی تیل کی صنعت میں ‘مضبوط شمولیت’ اختیار کرے گا۔بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا نے ایسا حملہ نہیں دیکھا، ہم نے ایران کی جوہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا اور آپریشن ہیمر کے ذریعے اس کی جوہری صلاحیت ختم کی ۔ صدر مادور بہت ظالم تھے ،لوگوں کو گرفتار اور قتل کیا، مادورو کو اہلیہ کے ساتھ رات کے اندھیرے میں گرفتار کیا ،نکولس مادورو کو پکڑنے کی ویڈیو فوجی جنرلز کے ساتھ فلوریڈا میں دیکھی، دونوں کو امریکی انصاف کا سامنا کرنا پڑے گا،ان پر مین ہٹن کی عدالت میں منشیات اور اسلحے کی سمگلنگ کا مقدمہ چلے گا، ہم نے جنگ میں اتنے زیادہ لوگ نہیں کھوئے جتنے منشیات سے کھوئے ، یہ منشیات کے خلاف جنگ ہے ، ہم ہر سال 3 لاکھ لوگ کھو رہے ہیں، بڑی مقدار میں منشیات کی سمگلنگ کی جاتی تھی.

امریکا میں زیادہ تر منشیات وینزویلا سے ہی آرہی تھی،ان کے خلاف آپریشن کی خفیہ تیاری دسمبر کے اوائل سے کی تھی ،آپریشن کیلئے زمینی، فضائی اور بحری راستہ استعمال کیا گیا،آپریشن کے دوران کاراکس کی بجلی بند کر دی گئی تھی، وینزویلا پر دوسرے حملے کیلئے بھی تیار ہیں، ویسے وینزویلا پر ہمارا پہلا حملہ ہی کامیاب رہا، دوسرے کی ضرورت نہیں۔تاہم وینزویلا پر کس کی حکمرانی ہوگی، یہ ابھی طے ہونا ہے ،انہوں نے اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا کو عبوری رہنما کے طور پر ناممکن قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بہت اچھی خاتون ہیں، لیکن ملک کے اندر حمایت یا احترام نہیں رکھتیں،وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے واشنگٹن کے ساتھ تعاون کیلئے اپنی رضا مندی ظاہر کی ہے ، وہ ملک کو دوبارہ عظیم بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں، امریکی انتظامیہ اب ان کے ساتھ کام کر رہی ہے تاکہ ملک میں عبوری انتظام قائم کیا جا سکے ۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وینزویلا کی نائب صدر کو بطور صدر حلف دلادیا گیا ہے ،ان کے موجودہ مقام کا معلوم نہیں۔

انہوں نے کہا صدر مادورو کا انتخاب شرمناک تھا، اقتدار کی منتقلی تک وینزویلا کے معاملات ہم چلائیں گے ، امریکا کی آئل کمپنیز وینزویلا جائیں گی، وینزویلا کے عوام آزاد اور خودمختار ہیں، ہم وینزویلا کے عوام کی بہتری چاہتے ہیں، وینزویلا کے عوام پر کسی کو ظلم نہیں کرنے دیں گے ،امریکا کو آج دنیا بھر میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کولمبیا کے صدر گستاو پیٹرو کو امریکی آپریشن کے بعد اپنا خیال رکھنا چاہیے ۔اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کیوبا کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا اگر میں ہوانا میں رہتا اور حکومت کا حصہ ہوتا تو کم از کم تھوڑا سا ضرور فکرمند ہوتا۔امریکی جنرل ڈین کین نے کہا وینزویلا کے صدر مادورو کو گرفتار کرنے والا رات کا آپریشن مہینوں کی منصوبہ بندی اور مشق کا نتیجہ تھا، اس کارروائی میں 150 سے زائد امریکی طیارے مغربی نصف کرہ میں اڑائے گئے ،یہ مشن انتہائی پیچیدہ اور عین مطابق تھا، جس میں ہر جزو کی ہم آہنگی لازمی تھی۔ امریکی میڈیا کے مطابق وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو امریکی فوج کے ٹاپ سپیشل یونٹ ڈیلٹا فورس نے پکڑا۔

امریکا کی اٹارنی جنرل پامیلا بانڈی نے کہا ہے کہ صدر مادورو اور اُن کی اہلیہ پر نیویارک کے سدرن ڈسٹرکٹ میں فردِ جرم عائد کی گئی ہے ، ان پر امریکا کے خلاف منشیات سے متعلق دہشت گردی کی سازش، کوکین درآمد کرنے کی سازش، مشین گنز اور تباہ کن ہتھیاروں کے غیر قانونی قبضے ، اور امریکا کے خلاف ایسے ہتھیار رکھنے کی سازش جیسے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔خیال رہے امریکی اٹارنی جنرل نے 7 اگست 2025 کو وینزویلاکے صدر مادوروکی گرفتاری پر 5کروڑ ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا۔امریکی ریپبلکن سینیٹر مائیک لی کا کہناہے کہ ان کی امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو سے ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے ، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انہیں بتایا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو مجرمانہ الزامات پر مقدمہ چلانے کے لیے گرفتار کیا گیا ہے ۔ مائیک لی کے مطابق مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکا وینزویلا میں اب مزید کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔

دوسری جانب دنیا بھر کے کئی ممالک نے وینزویلا میں امریکی کارروائی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکا کی جانب سے خود مختار ملک پر طاقت کے بے باک استعمال اور اس کے صدر کے خلاف کارروائی پر سخت صدمے اور شدید مذمت کا اظہار کیا ہے ۔انہوں نے کہا امریکا کے یہ تسلط جمانے والے اقدامات بین الاقوامی قانون اور وینزویلا کی خود مختاری کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور لاطینی امریکا اور کیریبین خطے میں امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ چین نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں کی پاسداری کرے اور دیگر ممالک کی خود مختاری اور سلامتی کی خلاف ورزی بند کرے ۔روس نے بھی امریکی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے مادورو کے مستقبل پر فوری وضاحت کا مطالبہ کیا ہے ۔روسی وزارتِ خارجہ نے کہا امریکا نے وینزویلا کے خلاف مسلح جارحیت کا ارتکاب کیا جو نہایت تشویشناک اور ناقابلِ قبول ہے ۔ اس کارروائی کے لیے دئیے گئے جواز کمزور ہیں اور نظریاتی دشمنی نے عملی سفارتکاری پر سبقت لے لی ہے۔

برازیل کے صدر لوئس اناسیو لولا ڈا سلوا نے کہا کہ وینزویلا کی سرزمین پر بمباری اور صدر کی گرفتاری ناقابلِ قبول حد عبور کرنے کے مترادف ہے ۔ ایسے اقدامات خطے کو امن کا زون برقرار رکھنے کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ عالمی برادری ان حملوں کے خلاف بھرپور اور مؤثر ردعمل دے ۔ میکسیکو نے بھی امریکی کارروائی پر سخت تنقید کی ہے ، وزارتِ خارجہ نے کہا کہ امریکا کی جانب سے یکطرفہ فوجی کارروائیاں خطے کی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر نے کہا برطانیہ اس فوجی آپریشن میں کسی بھی طور پر شامل نہیں تھا،حقائق سامنے آنے تک تحمل سے کام لینا ضروری ہے ،انہوں نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کریں۔یورپی یونین نے وینزویلا میں امریکی کارروائی کے بعد بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور تحمل کا مطالبہ کیا ہے ۔ بلاک کی اعلیٰ سفارتکار نے کہا مادورو کی حکومت غیر قانونی ہے اور پرامن اقتدار کی منتقلی کی حمایت کی گئی ہے ۔ ایران نے امریکی کارروائی کو قومی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔

کیوبا نے اسے ریاستی دہشت گردی  قرار دیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔سپین نے تنازع کم کرنے اور پرامن مذاکرات کیلئے ثالثی کی پیشکش کی ہے ۔ جرمنی اور اٹلی نے بھی صورتحال پر قریب سے نظر رکھنے اور شہریوں کی حفاظت کو اولین ترجیح قرار دیا ہے ۔ بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے امریکی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا یہ دوسرا ویتنام ہوگااور امریکیوں کو اس کی ضرورت نہیں ہے ۔اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی پر گہری تشویش ظاہر کی اور کہا اس سے خطے پر ممکنہ منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے ۔انتونیو گوتریس کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے کہا وینزویلا کی موجودہ صورتحال سے قطع نظر، یہ حالات ایک خطرناک مثال قائم کرتے ہیں۔سیکرٹری جنرل بین الاقوامی قانون بشمول اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا مکمل احترام کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ وہ اس بات پر گہری تشویش میں ہیں کہ بین الاقوامی قوانین کا احترام نہیں کیا گیا۔انہوں نے وینزویلا میں تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی حقوق اور قانون کی بالادستی کے مکمل احترام کے ساتھ جامع مکالمے میں شامل ہوں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں