بنگلہ دیش کا بھی بھارت میں کرکٹ ٹیم نہ بھیجنے کا اعلان:سکیورٹی خدشات پر ٹی20ورلڈکپ کے میچز سری لنکا منتقل کر دیئے جائیں:آئی سی سی کو درخواست
بھارتی انتہاپسندوں کے احتجاج پر کرکٹر مستفیض الرحمن کو آئی پی ایل ٹیم سے نکالنے پر معاملہ بگڑا، بنگلادیش بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اعلامیہ جاری ، پاکستان پہلے ہی بھارت جانے سے انکار کر چکا غلامی کے دن ختم ہو چکے ، کرکٹرز اور بنگلہ دیش کی توہین قبول نہیں کریں گے :مشیرکھیل آصف نذرول ، میچز کا مقام تبدیل کرنا تقریباً ناممکن ،یہ کہناآسان کرنا مشکل :بھارتی عہدیدار
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)بنگلہ دیش نے ٹی 20ورلڈ کپ کیلئے قومی کرکٹ ٹیم کو بھارت نہ بھیجنے کا اعلان کرکے مودی سرکار کو زوردار دھچکا لگادیا اورانٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو 7فروری سے بھارت میں شروع ہونیوالے ٹی 20ورلڈکپ کے اپنے میچز سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست دیدی ۔بنگلہ دیشی حکومت کا کہناہے کہ کرکٹ بورڈ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں جو بھارتی کرکٹ بورڈ کی جارحانہ اور فرقہ وارانہ پالیسیوں کے تناظر میں کیا گیا ہے ۔بھارتی انتہاپسندوں کے دبا ؤ پر انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرزسے بنگلہ دیشی فاسٹ باؤلر مستفیض الرحمن کونکالنا بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے اس فیصلے کا شاخسانہ بنا ، پاکستان کی ٹیم بھی بھارت نہیں جائے گی اور تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گی ۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہاگیاہے کہ بی سی بی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی ہنگامی میٹنگ گزشتہ دوپہر ہوئی جس میں بھارت اور سری لنکا میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی ڈویلپمنٹ سے متعلق جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں پیدا ہونے والی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور بورڈ آف گورنرز نے فیصلہ کیا کہ بنگلہ دیش کی قومی ٹیم بھارت نہیں جائے گی۔اس فیصلے سے آئی سی سی کو باضابطہ طور پر آگاہ کردیا گیا ہے اور بنگلہ دیش بورڈ منتظرہے ، آئی سی سی صورتحال کو سمجھتے ہوئے جلد اس معاملے پر جواب دے گااوربنگلہ دیش کے میچز بھارت سے سری لنکا منتقل کئے جائیں گے ۔بنگلہ دیش کے مشیر کھیل آصف نذرول نے باضابطہ اعلان کیا کہ بنگلہ دیش ورلڈ کپ کھیلنے کیلئے بھارت کا دورہ نہیں کرے گا،کرکٹ بورڈ نے اس فیصلے کا اعلان کردیا ہے کہ ہم اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں جوبھارتی کرکٹ بورڈ کی جارحانہ اورفرقہ وارانہ پالیسیوں کے تناظر میں کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہاہم کسی بھی صورت بنگلہ دیشی کرکٹ، کرکٹرز اور بنگلہ دیش کی توہین قبول نہیں کریں گے ، غلامی کے دن ختم ہو چکے ہیں۔
بنگلہ دیشی بورڈ آئی سی سی کوآگاہ کرے کہ اگر کسی بنگلہ دیشی کرکٹر کو معاہدے کے باوجود بھارت میں کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاتی تو پوری بنگلہ دیشی ٹیم خود کو ورلڈ کپ کھیلنے کیلئے محفوظ محسوس نہیں کر سکتی۔ آصف نذرول نے کہا کہ میں نے اطلاعات و نشریات کے مشیر سے درخواست کی ہے کہ بنگلہ دیش میں آئی پی ایل ٹورنامنٹ کی نشریات بند کی جائیں۔واضح رہے بھارتی انتہا پسندوں کے دباؤ میں آکر آئی پی ایل سے فاسٹ باؤلر مستفیض الرحمن کو نکال دیا گیا جس کے بعد بھارت اور بنگلہ دیشی بورڈ میں کشیدگی بڑھی۔اب بنگلہ دیش نے آئی سی سی کو اپنے میچز بھارت سے سری لنکا منتقل کرنے کاکہاہے ،بنگلہ دیش نے تین میچز کولکتہ اورایک میچ ممبئی میں کھیلنا تھا۔ بھارت نے گزشتہ چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان آنے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد دونوں ممالک کے میچز نیوٹرل وینیو پر کرانے کا معاہدہ ہوا تھا، پاکستان اس طے شدہ معاہدے کے تحت اپنے ورلڈ کپ میچز سری لنکا میں کھیلے گا۔
بنگلہ دیشی فاسٹ باؤلر مستفیض الرحمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اگر آپ کو ٹیم سے ڈراپ کر دیا جائے تو اس پر کیا کرسکتے ہیں؟۔ کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے مستفیض الرحمن کو 9 کروڑ 20 لاکھ بھارتی روپے میں خریدا تھا،اس پر انتہا پسند ہندو تنظیموں اور بعض سیاسی رہنماؤں کی جانب سے فرنچائز کے مالک شاہ رخ خان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایاگیا اورایک بی جے پی رہنما نے انہیں غدار قراردے دیاتھا ۔کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے مستفیض الرحمن کو سکواڈ سے نکالنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بی سی سی آئی کی ہدایات کی روشنی میں یہ فیصلہ باہمی مشاورت اور طے شدہ طریقہ کار کے تحت کیا گیا۔ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 7 فروری سے شروع ہو رہا ہے ، جس کی میزبانی بھارت اور سری لنکا مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔بھارتی کرکٹ بورڈ کے ایک سینئر عہدیدار نے بنگلہ دیش کے مطالبے کو ناقابلِ عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف ایک ماہ باقی رہ جانے کے بعد میچز کا مقام تبدیل کرنا تقریباً ناممکن ہے ، کسی کی خواہش پر میچز نہیں بدل سکتے ، یہ لاجسٹک طور پر بہت مشکل ہے ۔بی سی سی آئی ذرائع نے کہا کہ ٹیموں کے ہوائی ٹکٹ اور ہوٹل بک ہو چکے ہیں، براڈکاسٹ عملہ بھی موجود ہے ، اس لئے یہ کہنا آسان ہے لیکن کرنا مشکل ہے ۔ ذرائع کے مطابق آئی سی سی اس معاملے پر غور کر رہی ہے ، گزشتہ روز اتوار کی چھٹی کے باعث آئی سی سی کا اجلاس نہ ہو سکا، تاہم امکان ہے کہ آئندہ چند روز میں اجلاس بلا کر اس معاملے پر اہم فیصلہ کیا جائے گا۔