وینزویلا پر حملہ کسی ایک ملک نہیں عالمی نظام کے مستقبل پر حملہ

وینزویلا پر حملہ کسی ایک ملک نہیں عالمی نظام کے مستقبل پر حملہ

چین، روس اور دیگر ممالک اس اقدام کو اپنے لئے ایک کھلا پیغام سمجھ رہے ہیں

(تجزیہ:سلمان غنی)

وینزویلا پر امریکی حملے اور چین، روس اور دیگر ممالک کی جانب سے آنے والے ردِعمل سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ دنیا اس اقدام کو اپنے لئے ایک کھلا پیغام سمجھ رہی ہے ۔ امریکی مائنڈ سیٹ کھل کر سامنے آ گیا ہے کہ جہاں اس کے مفادات ہوں گے وہاں وہ ان کی تکمیل کیلئے جارحیت سمیت جو چاہے گا کرے گا۔یہاں ایک بڑا اور بنیادی سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ کیا دنیا کسی اصول اور ضابطے کے تحت چلے گی، یا پھر ‘‘جس کی لاٹھی اس کی بھینس’’ کا قانون نافذ ہوگا؟ ،اس صورت میں عالمی امن کی کیا ضمانت ہوگی؟ ،وینزویلا پر امریکی حملے کے بعد صدر ٹرمپ کے ان دعوؤں کا کیا بنے گا جو وہ دنیا میں جنگوں کے خاتمے کے  والے سے کرتے آئے ہیں؟۔جہاں تک امریکا کے وینزویلا پر حملے اور اس کے اثرات کا تعلق ہے تو وینزویلا کی تیل اور معدنیات کے حوالے سے اہمیت پر صدر ٹرمپ کی پہلے ہی نظر تھی۔

ویسے بھی امریکا جنوبی امریکا اور وہاں موجود ممالک کے بارے میں دنیا کو یہ حق دینے کو تیار نہیں کہ کوئی وہاں اپنے مفادات کو آگے بڑھائے ۔ وینزویلا، کیوبا اور دیگر ممالک کو امریکا اپنی چراگاہ کے طور پر رکھنا اور چلانا چاہتا ہے ۔اس سے پہلے بھی امریکا نے پاناما کینال کو ہدف بناتے ہوئے وہاں حملہ کیا اور اپنے مفادات کو یقینی بنایا۔ اب ایک بار پھر وینزویلا پر حملہ اور صدر ٹرمپ کا اس حوالے سے فاتحانہ ردِعمل ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے مفادات پر زد نہیں پڑنے دے گا۔تاہم اس وقت بڑا سوال یہ ہے کہ جنگوں کے خاتمے کے دعویدار امریکا نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں تو کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کیا، بلکہ الٹا اس نے اسرائیلی مفادات کے تحت ایران پر حملہ کیا ۔اب بھی وینزویلا پر حملے کو ماہرین دنیا کے امن کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دے رہے ہیں اور عالمی امن کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں، خصوصاً ایران کے بارے میں ابھی سے چہ مگوئیاں شروع ہو چکی ہیں۔

تاہم ایرانی قیادت کے بیانات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ امریکا کے سامنے سرنڈر نہیں کریں گے ۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ امریکی حملے کی صورت میں وہ خطے میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا، جس کا مطلب ہے کہ امریکا کو ایران پر حملے سے قبل بہت کچھ سوچنا ہوگا۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ایران نے اپنی قوم اور نوجوانوں کو امریکی عزائم سے آگاہ کرتے ہوئے جنگ اور جارحیت سے نمٹنے کے لیے پہلے ہی تیار کر رکھا ہے ۔ امریکی حملے کے خلاف آنے والا ردِعمل اس کا واضح ثبوت تھا۔ شدید نقصانات کے باوجود ایران کی جانب سے ایٹمی طاقت کے حصول کے عزم کا اعادہ کیا جا رہا ہے اور ایرانی عوام اب بھی خود کو امریکی جارحیت کے مقابلے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔جہاں تک امریکی حملے کے عالمی اثرات کا تعلق ہے تو اس سے عالمی قوانین کو شدید نقصان پہنچے گا، طاقت کے استعمال کو جواز ملے گا، چھوٹے ممالک عدم تحفظ کا شکار ہوں گے اور عالمی سطح پر امریکا مخالف بیانیہ مزید مضبوط ہوگا۔

حتیٰ کہ امریکی اتحادی بھی پریشانی میں مبتلا نظر آئیں گے ، جیسا کہ برطانیہ کا وینزویلا پر حملے کے حوالے سے خاموش رہنا۔وینزویلا پر حملے کے بعد تیل اور توانائی کے بحران کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے ۔ عالمی میڈیا میں یہ بات نمایاں کی جا رہی ہے کہ امریکا جمہوریت یا انسانی حقوق کے لیے نہیں بلکہ سٹریٹجک کنٹرول اور توانائی کے مفادات کے لیے متحرک ہوتا ہے ۔ وینزویلا پر حملہ چین اور روس کے لیے بھی ایک خصوصی پیغام ہے ، اور اس عمل سے ایک نئی اعصابی جنگ کا آغاز ہو سکتا ہے ۔یہ اقدام امریکا کے لیے امیج بلڈر کے بجائے امیج بریکر ثابت ہو سکتا ہے ، کیونکہ جب عالمی طاقتیں قوانین کو نظر انداز کرتی ہیں تو عالمی نظام عدم توازن کا شکار ہو جاتا ہے ۔ وینزویلا پر امریکی حملہ ایک ایسی نظیر بن سکتا ہے جو مستقبل میں ایشیا، مشرقِ وسطیٰ، لاطینی امریکہ اور افریقہ میں مزید تنازعات کو جنم دے ۔لہٰذا یہ حملہ کسی ایک ملک پر نہیں بلکہ عالمی نظام کے مستقبل پر حملہ ہے ۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو پاکستان اس تنازعے میں فریق بنے بغیر اس اصولی موقف کے ساتھ کھڑا ہوگا کہ کسی بھی ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے اور مسائل کا حل سفارتکاری کے ذریعے نکلنا چاہیے ۔ یہی وہ پوزیشن ہے جو پاکستان نے عراق، لیبیا اور یوکرین کے معاملات میں اختیار کی۔البتہ ایک اہم پہلو وینزویلا کی اندرونی صورتحال ہے ۔ اگرچہ وہاں داخلی اختلافات موجود ہیں، مگر بیرونی جارحیت کے خلاف قوم یکجا ہو جاتی ہے ۔ امریکی حملے کے بعد نائب صدر کا یہ بیان کہ وہ اپنے صدر کے ساتھ کھڑے ہیں، عوامی تائید کا مظہر ہے ۔ عوام امریکا کو جارح سمجھتے ہیں اور حملے کے بعد مادورو حکومت کو اخلاقی جواز ملتا دکھائی دے رہا ہے ۔عوام کا مسئلہ اگرچہ حکومت رہی، مگر امریکی حملے نے انہیں دوبارہ حکومت کے ساتھ لا کھڑا کیا ہے ، جو امریکا کے لیے لمحئہ فکریہ ہے ۔ صدر ٹرمپ کھلے عام یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ وینزویلا کا نظام اب ہم چلائیں گے ، مگر یہ عملی طور پر ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ البتہ یہ امکان موجود ہے کہ امریکا اپنے آلۂ کار مسلط کرنے میں کامیاب ہو جائے ، مگر ان کی حیثیت محض آلۂ کار ہی کی رہے گی اور اندرونی بحران میں مزید اضافہ ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں