پختونخوا میں دہشتگردوں کیلئے سازگار سیاسی ماحول:ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو دہشتگردوں کے پیروں میں بیٹھ جائیں؟ کیا خوارجی نور ولی محسود کو وزیراعلیٰ بنانا ہے؟پہلا وزیراعظم اور موجودہ حکومت بھی با اختیار:فوجی ترجمان

پختونخوا میں دہشتگردوں کیلئے سازگار سیاسی ماحول:ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو دہشتگردوں کے پیروں میں بیٹھ جائیں؟ کیا خوارجی نور ولی محسود کو وزیراعلیٰ بنانا ہے؟پہلا وزیراعظم اور موجودہ حکومت بھی با اختیار:فوجی ترجمان

افغان طالبان دہشتگرد تنظیمیں پال رہے ، مودی ان کا ہیرو ہے ،دہشتگردی کے 80 فیصد واقعات کے پی کے میں ہوئے ،صوبائی حکومت آپریشن نہیں چاہتی، وزیر اعلیٰ افغانستان سے مدد مانگتے ہیں، پچھلے سال 75 ہزار آپریشنز کئے کسی کی ذات وطن سے بڑھ کرنہیں،فوجی ،سیاسی قیادت ایک پیج پر ،معر کہ حق میں بھارت کا منہ کالاکیا اس نے دہشت گردی کو ہوا دی،جھڑپوں کے دوران طالبا ن وزیر خارجہ کہاں تھا؟ان کا اسلام کہتا ہے بھارت کے پائوں پڑ جائو ایک لیڈر اپنی جماعت آمر کی طرح چلاتا رہا، سابق ڈی جی آئی ایس آئی کوسیاست کیلئے استعمال کیا ،بے اختیار ہونے کا بیانیہ مضحکہ خیز ، کسی جماعت سے مسئلہ نہیں،بات کرنی ہے توحکومت سے کریں:لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کی بریفنگ

راولپنڈی(خصوصی نیوز رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک،دنیا نیوز،خبر ایجنسیاں)پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے دہشتگردی کے 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں دہشتگردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے اور وہاں سیاسی اور دہشت گردانہ گٹھ جوڑ نشونما پا رہا ہے ۔خوارج مساجد میں بیٹھ کر دہشتگردی کیلئے کواڈ کاپٹرز استعمال کرتے ہیں،خوارج کے بارے میں اللہ کا حکم ہے جہاں ملیں مار دو،صوبائی حکومت آپریشن نہیں چاہتی، وزیر اعلیٰ افغانستان سے مدد مانگتے ہیں،اسمبلی میں جھوٹا بیانیہ بناتے ہیں،صوبے میں ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو دہشتگردوں کے پیروں میں بیٹھ جائیں؟ ،کیا خوارجی نور ولی محسود کو وزیراعلیٰ بنانا ہے ؟، پہلا وزیراعظم بھی بااختیار تھا اور موجودہ حکومت بھی بااختیار ہے۔

ایک لیڈر اپنی جماعت کو آمر کی طرح چلاتا رہا، سابق ڈی جی آئی ایس آئی کوسیاست کیلئے استعمال کیا ،بے اختیار ہونے کا بیانیہ مضحکہ خیز،وہ اتنا بااختیار تھا آرمی چیف کو قوم کا باپ ڈیکلیئر کردیا ،قوم کا ایک ہی باپ قائداعظم محمد علی جناح ہے ،کسی جماعت سے مسئلہ نہیں ،ہم کسی سیاسی جماعت سے بات نہیں کرتے ،بات کرنی ہے توحکومت سے کریں،کسی کی ذات وطن سے بڑھ کرنہیں،فوجی اور سیاسی قیادت ایک پیج پر ہے ،ہمیں کسی دہشتگرد سے کوئی ہمدردی نہیں،ہم حق پر ہیں اور حق نے غالب آنا ہے ،معر کہ حق میں بھارت کا منہ کالاکیا اس نے دہشت گردی کو ہوا دی،جھڑپوں کے دوران طالبا ن وزیر خارجہ کہاں تھا؟،ان کا اسلام کہتا ہے بھارت کے پائوں پڑ جائو،افغان طالبان دہشتگرد تنظیمیں پال رہے ، مودی ان کا ہیرو ہے ،بھارت دہشت گردوں کو مالی وسائل، اسلحہ اور لاجسٹک معاونت فراہم کر رہا ہمارے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں ،افغان بارڈربندکرنے سے دہشتگردی میں نمایاں کمی آئی۔منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے سال 2025 کی سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی ۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا پریس کانفرنس کا مقصد گزشتہ سال میں دہشتگردی کے خلاف اقدامات کا جامع احاطہ کرنا ہے ، یہ صرف فوج کی جنگ نہیں یہ قوم کے بچے بچے کی جنگ ہے ، دہشت گردوں کے خلاف کھڑے نہ ہوئے تو یہ گھروں، بازاروں، گلیوں، دفتروں میں آکر پھٹیں گے ۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان دہشت گردی کی جنگ مفاہمت یا مذاکرات سے نہیں بلکہ صرف اور صرف ریاست کی مکمل عسکری قوت اور طاقت سے جیتے گا۔ انہوں نے سال 2025 کو اس جنگ میں ایک \'تاریخی موڑ\' قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب ریاست اور عوام کے درمیان اس فتنے کے خاتمے کے حوالے سے کوئی ابہام باقی نہیں رہا۔ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے بتایا گزشتہ سال دہشت گردی کے 5 ہزار 397 واقعات ہوئے جبکہ سکیورٹی فورسز نے مجموعی طور پر 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کئے جن کے نتیجے میں 2 ہزار 597 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ 1235 سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔

ان کارروائیوں میں سب سے زیادہ 58778 آپریشنز بلوچستان اور 14658 خیبرپختونخوا میں کئے گئے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا شام سے اڑھائی ہزار غیر ملکی دہشت گرد افغانستان منتقل ہو چکے ہیں جبکہ امریکا کا چھوڑا ہوا 7اعشاریہ 2 ارب ڈالر کا جدید اسلحہ اب پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کو اپنی تنظیمی طرز پر تیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا بھارت نے آپریشن سندور کے نام پر پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جس کی کالک ابھی تک اس کے منہ پر ہے جبکہ معرکہ حق میں بھارت کا منہ کالا کیا گیا۔ترجمان نے بتایا اکتوبر 2025 میں جب افغان طالبان رجیم نے پاکستانی پوسٹوں پر حملے کئے تو پاک فوج نے ہارڈ میسج دیتے ہوئے گھنٹوں میں درجنوں افغان پوسٹوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ انہوں نے واضح کیا گزشتہ سال کے 10 بڑے دہشت گردانہ حملوں میں ملوث تمام حملہ آور افغان شہری تھے اور سرحد بند کرنے سے ان واقعات میں واضح کمی آئی ہے ۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا خوارج مساجد اور گھروں میں بیٹھ کر آرمڈ کواڈ کاپٹرز اور ڈرونز کا استعمال کر رہے ہیں اور خواتین و بچوں کو انسانی ڈھال بناتے ہیں جبکہ پاک فوج صرف دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو نشانہ بناتی ہے ۔ انہوں نے اس بیانیے کو مسترد کر دیا کہ یہ صرف فوج کی جنگ ہے ۔ انہوں نے کہا یہ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے جو طاقت سے جیتی جائے گی۔ترجمان نے کہا نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے اور اس پر عملدرآمد ناگزیر ہے ۔ انہوں نے بتایا گزشتہ پانچ سالوں میں فورسز کی استعداد کار میں اس قدر اضافہ ہوا ہے کہ اب ایک شہادت کے مقابلے میں دو دہشت گرد مارے جا رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا جو لوگ آپریشن کی مخالفت کرتے ہیں یا کابل سے سکیورٹی کی بھیک مانگنے کی بات کرتے ہیں کیا ان کی ذات پاکستان کی سالمیت سے بڑی ہے ؟،کوئی مذاق ہے خیبرپختونخوا کو دہشت گردوں کے حوالے کر دیں ۔ انہوں نے کہا ایک صوبے کی حکومت کہتی ہے ہم وہاں آپریشنز نہیں ہونے دیں گے ، تو کیا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ جس طرح سوات میں ان دہشتگردوں نے ہزاروں افراد کو شہید کیا یہ دوبارہ سے ایسا ہی دہشتگردی کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا اس بار ایسے لوگوں کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آ گیا، ان لوگوں کے پاس وہی پرانا سیاسی بیانیہ ہے ، اگر ان سے کوئی دو سے تین سوال کر لے تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا، یہ فتنہ الخوارج کا منظور نظر بننا چاہتے ہیں۔ترجمان پاک فوج نے کہاکے پی کے وزیراعلیٰ کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آگیا ہے ، اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو خوارج کے پیروں میں بیٹھنا ہے ، کیا خارجی نور ولی محسود کو صوبے کا وزیر اعلیٰ لگا دیا جائے ، اس کی بیعت کر لی جائے ، کیا ہبت اللہ بتائیں گے چارسدہ میں کیا ہوگا؟۔انہوں نے بتایا دہشت گردی کی جنگ دو دہائی سے زیادہ عرصے سے لڑی جارہی ہے ، دہشت گردی کے خلاف ریاست پاکستان اورعوام کے درمیان ایک مکمل کلیرٹی حاصل ہوئی، دہشتگردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، افغانستان خطے میں دہشتگردی کا بیس آف آپریشن بنا ہوا ہے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا دہشت گردی کے سب سے زیادہ واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے ہیں کیونکہ خیبرپختونخوا میں ہی دہشت گردی کے لیے ساز گار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے ، گزشتہ سال ملک بھر میں مجموعی طور پر 27 خودکش حملے ہوئے جن میں سے 16 خیبرپختونخوا میں رپورٹ ہوئے ، ان خودکش حملوں میں دو حملے خواتین کی جانب سے کیے گئے ۔

انہوں نے واضح کیا خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے لیے موافق سیاسی فضا موجود ہے ، خیبرپختونخوا میں کریمینل ٹیرر گٹھ جوڑ موجود ہے جس کی وجہ سے 2021 سے 2025 تک خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے زیادہ واقعات ہوئے ۔انہوں نے بتایا پچھلے سال دہشتگردی کے 10بڑے واقعات ہوئے ،بنوں کینٹ،جعفرایکسپریس،نوشکی میں سول بس اور خضدار میں سکول بس کو نشانہ بنایا گیا، فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز، ایف سی ہیڈکوارٹرز کوئٹہ، پولیس ٹریننگ سکول ڈی آئی خان، کیڈٹ کالج وانا اور اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے بتایا پشاور میں دوبار فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا، تمام بڑے 10دہشتگردی کے واقعات میں افغانی ملوث پائے گئے ۔اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے دہشتگردوں کے بیانات اور گفتگو بھی چلائی اور کہا گرفتار دہشت گردوں نے افغانستان کے ملوث ہونے کا اعتراف کیا، افغان باشندوں کو افغانستان میں دہشت گردی کی تربیت دی جاتی ہے ۔انہوں نے بتایا دہشت گردوں، فتنہ الہندوستان کا بلوچستان اوربلوچیت سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا یہ ملک دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے اور دنیا بھر کی مختلف دہشت گرد تنظیمیں وہاں سے آپریٹ کر رہی ہیں، القاعدہ، داعش، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں جس کا اثر نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان کے دیگر پڑوسی ممالک پر بھی پڑ رہا ہے ۔ حالیہ معلومات کے مطابق شام سے تقریباً اڑھائی ہزار دہشت گرد افغانستان پہنچ چکے ہیں ان میں ایک بھی پاکستانی نہیں، یہ خطے کی سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا بھارت خطے میں دہشت گردوں کو بطور پراکسی استعمال کر رہا ہے اور ان گروہوں کو اسلحہ اور مالی وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں، سکیورٹی اداروں کے پاس اس حوالے سے شواہد موجود ہیں اور یہ معاملہ علاقائی امن کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکا ہے ۔انہوں نے کہا دہشتگردوں سے جھڑپوں کے دوران طالبان کا نام نہاد وزیر خارجہ کہاں تھا؟ ۔ان کا اسلام کہتا ہے ہندوستانیوں کے پائوں پڑ جائو ، افغانستان میں کوئی حکومت نہیں ہے بلکہ ایک چھوٹا سا گروہ قابض ہے ۔ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ افغانیوں کوخود فیصلہ کرنا ہے کہ قابض گروپ کے ساتھ کیسے ڈیل کریں، ہم پاکستان کی سکیورٹی اور بارڈر کے ذمہ دار ہیں، سکیورٹی فورسزکا کام علاقوں کودہشت گردوں سے کلیئرکرانا ہے ۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے مطابق کہا جاتا ہے افغان طالبان سے مذاکرات کیے جائیں لیکن زمینی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، دہشت گردوں نے خیبرپختونخوا میں مسجد پر حملہ کیا، فیلڈ مارشل نے خود پشاور کا دورہ کر کے اس مسجد کے ملبے پر کھڑے ہوکر دہشتگردی کے خلاف واضح مؤقف دیا۔اُنہوں نے کہا فیلڈ مارشل کی ہدایت ہے کہ اَن سے کوئی بات چیت نہیں کرنی، ہماری طرف سے کلیریٹی ہے ، یہ خوارج ہیں، اِن سے لڑنا ہے ، ان کو کوئی سپیس نہیں دینی، دہشتگردوں کا کوئی ایمان نہیں، ہم حق پر ہیں اور حق نے غالب آنا ہے ، ہمیں کسی دہشتگرد سے کوئی ہمدردی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا پنجاب ، بلوچستان میں مہاجر کیمپ کلیئر ہو گئے ،کے پی میں مہاجر کیمپ ابھی باقی ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغان طالبان سے 2021سے بارہا مذاکرات کیے ،کابل میں افغان طالبان کا ہی رول ہے ،دوطرفہ بات چیت سے کوئی فائدہ نہیں ہوا، ہمارے نزدیک دہشت گرد کا کوئی رنگ یا شیڈ نہیں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ماضی میں وزیراعظم نے اُس وقت کے آرمی چیف کو قوم کا باپ ڈیکلیئر کیا، یہ بیانیہ مضحکہ خیز ہے کہ ہم بے اختیار تھے ، ایک لیڈر اپنی جماعت کو ایک آمرکی طرح چلاتا رہا، وہ شخص کہتا ہے میں بے اختیار تھا، ہم تو سمجھتے ہیں قوم کا ایک ہی باپ قائداعظم محمدعلی جناح ہے ۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی کوسیاست کیلئے استعمال کیا گیا، ہمارے لیے تمام سیاسی جماعتیں،صوبے برابرہیں، آئین اورقانون ملک کے عوام کوتحفظ فراہم کرتا ہے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں اسد قیصر کا کلپ اور عمران خان کے ٹوئٹس چلا دئیے اور کہا آپ غور سے سنیں فوج وفاقی حکومت کا ادارہ ہے ، ہمیں پاکستان کی سلامتی کی حفاظت کا آئینی حکم ہے ، آپ کو یہ کوئی اجازت نہیں دیتا کہ آپ اپنی سیاست کے لیے اپنے علاقوں کو دہشتگردوں کے حوالے کر دیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا جس سیاسی جماعت نے بات کرنی ہے حکومت سے کرے ، ہمارا کام سیاسی جماعتوں سے بات کرنا نہیں، ہمیں کسی سیاسی جماعت سے کوئی ایشونہیں ، سیاست، سیاسی جماعتوں کا کام ہے وہ کوئی حل نکالیں گے ۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا سوشل میڈیا کودہشت گردی کے فروغ کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے ، ریاست نے سوشل میڈیا کے خلاف کچھ اچھے قوانین بنائے ہیں، خیبرپختونخوا میں غربت کا بھی مسئلہ ہے ، بلوچستان حکومت نے ضلعی، تحصیل لیول پر پیسے کو منتقل کیا۔ترجمان پاک فوج کا خیبرپختونخوا سے متعلق سوال کے جواب میں مزید کہنا تھا پیسے کی کمی نہیں ہے ، اللہ تھوڑے پیسے میں بھی برکت ڈال دیتا ہے ، پیسہ عوام پر لگایا جائے تو مسائل حل ہو جائیں گے ، عوام کوبیانیہ میں الجھانے اور کنفیوژن میں ڈالنے کے بجائے مسائل حل کریں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں