اسلام آبادبلدیاتی قانون میں ترامیم پر مشاور ت ، جلد آرڈیننس
مسودہ دو روز میں ایوان صدر بھیجا جائیگا، آرڈیننس کے بعد الیکشن شیڈول جاری ہوگا نئے نظام کے تحت 3 ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم، ہر یوسی میں میئر ، نائب میئر ہونگے
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر )وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مقامی حکومت کے قانون میں ترامیم پر اتحادی جماعتوں سے مشاورت تیز کر دی گئی ۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ مسودہ ایک دو روز میں صدارتی توثیق کے لیے ایوان صدر بھیج دیا جائے گا جس کے بعد آرڈیننس جاری ہونے کا امکان ہے ۔قانون میں چوتھی بار تبدیلی کے باعث بلدیاتی انتخابات شیڈول کے باوجود التواء کا شکار ہو گئے ۔مشاورت کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور سینیٹ و قومی اسمبلی کے اجلاس طلب ہونے سے قبل صدر کی منظوری متوقع ہے کیونکہ دونوں ایوانوں کے اجلاس طلب ہونے کے بعد آئینی طور پر آرڈیننس جاری نہیں ہو سکے گا۔
مجوزہ ترامیم کے مطابق ہر یونین کونسل میں 9 جنرل کونسلرز اور 4 مخصوص نشستیں ہوں گی۔ موجودہ میٹروپولیٹن کارپوریشن نظام ختم کر کے شہر کو تین ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، جن میں ہر ٹاؤن کے لیے ایک میئر اور دو نائب میئر ہوں گے جن کا انتخاب یونین کونسلز کے چیئرمین کریں گے ۔ میئرز اور نائب میئرز کی مدت چار سال مقرر کرنے کی تجویز ہے ۔صدارتی آرڈیننس کے بعد الیکشن کمیشن نئی حلقہ بندیاں اور انتخابی شیڈول جاری کرے گا۔
تین ٹاؤنز کی تقسیم قومی اسمبلی کے تین حلقوں کی بنیاد پر کی جائے گی۔ ٹاؤن کارپوریشنز کو انتظامی اور مالی خودمختاری دینے اورسی ڈی اے کے متعدد اختیارات منتقل کرنے کی تجویز ہے ۔ نئے نظام کے تحت میئرز کو صفائی، نکاسی آب اور ترقیاتی منصوبوں میں اہم اختیارات دئیے جائیں گے ۔قانون میں بار بار تبدیلی اور بلدیاتی انتخابات کی التواء پر شہریوں کی جانب سے احتجاج بھی شروع ہو گیا ہے جبکہ حکومتی اتحاد میں انتخابات میں ایڈجسٹمنٹ پر مشاورت جاری ہے ۔