گزشتہ ہفتے کالم تو شروع کیا تھا ملک کی بے تحاشا بلکہ خوفناک شرح سے بڑھتی ہوئی آبادی سے متعلق مگر بات شروع میں ہی بگڑ گئی اور مجھے 58سال پیچھے گھسیٹ کر لے گئی۔ درمیان میں میرا کلاس فیلو نسیم آ گیا اور پھر بات نسیم سے نکل کر اس اجتماعی رویے کی طرف چلی گئی اور اگلا کالم بھی اس کی نذر ہو گیا۔ وہی مرحوم امجد اسلام امجد صاحب کی نظم والا معاملہ ہوا:
وہ جو خواب تھے میرے سامنے‘ جو سراب تھے میرے سامنے
میں انہی میں ایسے الجھ گیا‘ مری بات بیچ میں رہ گئی
مری زندگی میں جو لوگ تھے‘ مرے آس پاس سے اُٹھ گئے
میں تو رہ گیا انہیں روکتا‘ مری بات بیچ میں رہ گئی
عالم یہ ہے کہ سرکاری طور پر اس ملک کی آبادی 24کروڑ 15لاکھ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک کی اصل آبادی اس سے کہیں زیادہ ہے۔ تاہم 24کروڑ 15لاکھ آبادی کے ساتھ بھی ہم دنیا میں آبادی کے اعتبار سے پانچویں نمبر پر ہیں۔ جیسا کہ میں پہلے اپنے ایک کالم میں لکھ چکا ہوں کہ پاکستان آبادی میں 2.55 فیصد سالانہ اضافے کی شرح سے دنیا میں27ویں نمبر پر ہے۔ پہلے نمبر پر 5.1 فیصد سالانہ کے ساتھ نائجر ہے اور دوسرے نمبر پر 4.8 فیصد کے ساتھ مالی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہم ستائیسویں نمبر پر ہیں تو پھر زیادہ فکر کی کیا ضرورت ہے؟ آخر ہم سے اوپر بھی تو چھبیس ملک ہیں‘ لیکن صورتحال اتنی سادہ نہیں جس طرح یہ اعداد وشمار ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں۔ نائجر کا رقبہ 12لاکھ 67 ہزار مربع کلومیٹر ہے‘ یعنی پاکستان کی نسبت تقریباً ڈیڑھ گنا جبکہ آبادی صرف دو کروڑ 63 لاکھ 50 ہزار ہے۔ اس حساب سے یہ 20 افراد فی مربع کلومیٹر بنتے ہیں اور 5.1 فیصد سالانہ کے حساب سے ملکی آبادی میں اگلے سال 13 لاکھ 44 ہزار افراد کا اضافہ ہو گا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں پاکستان کی آبادی 24کروڑ 15لاکھ اور رقبہ 8 لاکھ 82 ہزار مربع کلومیٹر کے لگ بھگ ہے۔ اس حساب سے فی مربع کلومیٹر آبادی 273نفوس ہے‘ یعنی ہماری فی مربع کلومیٹر آبادی پہلے ہی نائجر سے کم وبیش دس گنا زیادہ ہے جبکہ 2.55فیصد سالانہ کی شرح فیصد سے ہماری آبادی میں اگلے سال 61 لاکھ 58ہزار افراد کا اضافہ ہو جائے گا جو نائجر سے تقریباً پانچ گنا زیادہ ہے۔2023ء کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی 24 کروڑ 15لاکھ ہے‘ جو اگلے پانچ برسوں میں بڑھ کر 30کروڑ ہو جائے گی اور 2050ء تک 40کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ آبادی میں اس بے تحاشا اضافے سے جہاں ملک کا ہر شعبہ جواب دے جائے گا وہیں موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر فوڈ سکیورٹی کا معاملہ اس مسئلے کو مزید خرابی کی طرف لے جائے گا۔
دنیا میں کئی ممالک نے اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کو اپنے ملک کیلئے پیداواری سیکٹر میں تبدیل کرتے ہوئے اسے اپنی ترقی کا ذریعہ بنایا جس کی سب سے روشن مثال چین ہے۔ اس کے علاوہ ویتنام بھی ہمارے سامنے ہے۔ تین لاکھ 31ہزار مربع کلومیٹر رقبے اور دس کروڑ سے زیادہ آبادی کا حامل ویتنام 302افراد فی مربع کلومیٹر کے حساب سے ہم سے کہیں زیادہ آبادی کے دباؤ کا شکار ہے مگر انہوں نے اپنی آبادی کو نظم وضبط میں لاتے ہوئے ملکی ترقی میں ممد ومعاون بنا لیا ہے۔ چند عشرے پیشتر جب ویتنام بربادی کی مثال تھا ہم شاید جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ رفتار سے ترقی کرنے والا ملک تھے اور ہماری قومی آمدنی میں اضافے کی شرح اس خطے میں سب سے زیادہ تھی۔ آج صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کی جی ڈی پی کی نمو دو سے تین فیصد کے درمیان جبکہ ویتنام کی شرح نمو پانچ سے سات فیصد کے درمیان ہے۔
پچیس کروڑ سے زیادہ آبادی والے پاکستان کی برآمدات مالی سال 2024ء میں تقریباً 32 ارب ڈالر تھیں جبکہ ویتنام کی برآمدات 405 ارب ڈالر۔ سٹیٹ بینک کے مطابق 2025ء میں ہماری برآمدات 32.1ارب جبکہ درآمدات 58.38 ارب ڈالر۔ یعنی 2025ء میں تجارتی خسارہ تقریباً 26 ارب ڈالر تھا۔ مالی سال 2026ء کی پہلی سہ ماہی میں برآمدات 7.60ارب ڈالر جبکہ درآمدات 16.97ارب ڈالر ریکارڈ ہوئیں‘ جو برآمدات کے مقابلے میں بہت ہی زیادہ ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ ہم اپنے تجارتی اور ملکی بجٹ کے خسارے کو بیرونِ ملک پاکستانیوں کی بھیجی گئی رقوم سے پورا کرنے کی ناکام کوششوں میں لگے ہوئے ہیں‘ مگر باہر سے آنے والی رقوم میں مسلسل اضافہ بھی اس درمیانی خسارے کو پورا نہیں کر پا رہا کیونکہ تجارتی خسارہ بیرونِ پاکستان سے بھیجی جانے والی رقوم میں اضافے سے کہیں زیادہ شرح سے بڑھ رہا ہے۔ اس طرح درمیانی فرق کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہا ہے اور فی الحال ایسی کوئی صورتحال دکھائی نہیں دے رہی کہ یہ فرق کم ہو جائے گا۔
ایمانداری کی بات ہے کہ میں اس معاملے میں زیادہ فکرمند اس لیے ہوں کہ ابھی یہ معاملہ ادھار سے چل رہا ہے لیکن مستقبل کے حوالے سے بہت سے خدشات ایسے ہیں جو خدا نہ کرے کہ ویسے ہوں‘ جیسے میرے دماغ میں ہیں۔ تاہم حالات کو سامنے رکھیں تو میرے خدشات کچھ غلط بھی نہیں۔ پہلا یہ کہ آنے والے دنوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں‘ خاص طور پر ملکی فصلات پر پڑنے والے شدید منفی اثرات‘ روز افزوں بڑھتی ہوئی آبادی‘ ملک میں غذائی قلت اور محدود اقتصادی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اناج کی درآمد پر اٹھنے والے اربوں ڈالر کے اخراجات ہمارے لیے ناقابلِ برداشت ہو جائیں گے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے طفیل اناج اور دیگر زرعی پیداوار میں متوقع کمی کے برعکس ہم نے ابھی تک ترقی دادہ بیجوں کی تیاریوں کے سلسلے میں کچھ بھی نہیں کیا۔
اس وقت ملک میں دو کروڑ 63 لاکھ سکول جانے والی عمر کے بچے سکول نہیں جا رہے‘ اس کا مطلب ہے کہ اگلے چند سال کے بعد ملک میں (اس دوران اگر اس تعداد میں اضافہ نہ بھی ہو تو) دو کروڑ تریسٹھ لاکھ اَن پڑھ غیر ہنرمندوں کا اضافہ ہونے جا رہا ہے‘ جو نہ صرف ملک کی معیشت بلکہ پورے معاشرے پر بوجھ ہوں گے۔ یہ دو کروڑ تریسٹھ لاکھ اَن پڑھ اور غیر ہنرمند بچے نہیں‘ مستقبل کے دو کروڑ تریسٹھ لاکھ بیروزگار یا خطِ غربت سے نیچے رہ جانے والے خاندان ہیں۔ تب تک ملکی آبادی تیس کروڑ سے تجاوز کر چکی ہوگی۔ آپ حالات کی خرابی اور معاشی وسماجی ابتری کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
ملک سے باہر جانے والے افراد کی تعداد میں اضافے کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ چند سال کے بعد بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم میں نہ صرف اضافہ رک جائے گا بلکہ بتدریج اس میں کمی آنا شروع ہو جائے گی کہ اِس وقت بیرونِ ملک رہائش پذیر پاکستانیوں کی خاندانی جڑیں ابھی تک اس ملک سے جڑی ہوئی ہیں اور ان کا اپنے ماں باپ‘ بہن بھائیوں اور عزیز واقارب سے خاندانی اور قلبی تعلق مضبوط بھی ہے اور قائم بھی لیکن جیسے جیسے پاکستان سے ہجرت کرکے دیارِ غیر میں رہائش اختیار کرنے والی یہ نسل ختم ہو گی ان کی اگلی نسل‘ جس نے دیارِ غیر میں جنم لیا اس مضبوط قلبی تعلق کو اس طرح برقرار نہیں رکھ سکے گی اور پاکستان میں بھیجی جانے والی رقوم میں کمی آ جائے گی۔
ویسے بھی اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنا تجارتی اور بجٹ کا خسارہ بیرونی ملک سے آنے والی رقوم سے پورا کرنے کے بجائے خود انحصاری کے ذریعے پورا کریں اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجا جانے والا زرِ مبادلہ ٹوپیاں بدلنے میں خرچ کرنے کے بجائے اس سے ملک کی صنعت کو ترقی دیں اور دیرپا بنیادوں پر اس پیسے سے ملکی معیشت کی بنیادیں مضبوط کریں۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ اگر ہم نے آبادی پر کنٹرول نہ کیا یا اس آبادی کو ملکی اقتصادیات کیلئے کارآمد نہ بنایا اور موسمیاتی تبدیلیوں کا حل نہ نکالا تو آنے والے دن کوئی اچھا نقشہ پیش نہیں کر رہے۔