بنگلہ دیش انتخابات: بی این پی‘ جماعت اسلامی

بنگلہ دیش میں اگلے مہینے عام انتخابات منعقد ہونے جا رہے ہیں۔ بنگلہ دیش میں انتخابی گہما گہمی اپنے عروج پر تھی مگر گزشتہ ماہ بنگلہ دیشی عوام کو دو شدید صدموں سے گزرنا پڑا۔ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے انتہائی ظالمانہ و جابرانہ پندرہ سالہ دورِ استبداد کے خلاف جون 2024ء میں شروع ہونے والی طلبہ تحریک کے روح رواں نوجوان عثمان بن ہادی کو دو نقاب پوشوں نے 12 دسمبر کو دن دہاڑے گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ اس سانحے نے ساری بنگلہ دیشی قوم کو ہلا کر رکھ دیا۔ بعد ازاں 30 دسمبر کو بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم خالدہ ضیا کا طویل قید و بند اور طرح طرح کی بیماریوں کے بعد انتقال ہو گیا۔ ہر دلعزیز سابق وزیراعظم کی رحلت سے بھی بنگلہ دیشی بہت افسردہ و غمزدہ ہوئے۔ خالدہ ضیا دو بار بنگلہ دیش کی وزیراعظم رہیں۔ ان کے ادوارِ حکومت میں بنگلہ دیش میں واضح طور پر پاکستان کے خلاف نفرت کم ہو جاتی اور وہ پاکستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات کیلئے کوشاں رہتیں۔
شیخ حسینہ واجد ایک بار 1996ء سے 2001ء تک اور دوسری بار 2009ء سے لے کر اگست 2024ء تک انتخابی دھاندلی اور ظلم و جبر کے ہر حربے کو استعمال میں لا کر مسلسل پندرہ برس اقتدار سے چپکی رہی۔ اس طویل دورِ حکومت کے دوران حسینہ واجد نے اپنے ہر سیاسی مخالف کو حوالۂ زنداں کروایا۔ ملٹری اور سول بیورو کریسی اس کے ساتھ تھی‘ سکیورٹی فورسز اس کے اشارۂ ابرو کے مطابق عمل کرتی تھیں۔ حسینہ واجد نے بیگم خالدہ ضیا کو دس برس قید کی سزا جھوٹے مقدمات میں دلوائی۔ حسینہ واجد نے ایک انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل قائم کر رکھا تھا۔ اس ٹریبونل نے جماعت اسلامی کے پانچ سے زیادہ قائدین کو جعلی اور جھوٹے مقدمات میں سزائے موت دی۔ دیگر کئی اہم شخصیات کو بھی تختۂ دار پر لٹکایا گیا۔ مجھے امریکہ میں بعض بنگلہ دیشی ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ ''آئینہ خانہ‘‘ کے نام سے بیگم حسینہ نے ٹارچر سیل قائم کیے ہوئے تھے۔ کئی تھانے اور تفتیشی پولیس کے مراکز تعذیب و تشدد کے عقوبت خانے تھے۔ ان مراکز میں مخالف قائدین اور شہریوں کو ناقابلِ برداشت اذیتیں دی جاتیں۔ بیشمار بے قصور بنگلہ دیشی ان عقوبت خانوں میں دم توڑ جاتے۔ اگرچہ بنگلہ دیش میں بھی ہندوؤں کی اچھی خاصی تعداد ہے‘ تاہم بھارتی سرپرستی سے اپنا آمرانہ تسلط قائم رکھنے کیلئے حسینہ واجد نے کئی بھارتی ہندوؤں کو بھی بنگلہ پولیس میں شامل کر رکھا تھا۔ جون 2024ء کی طلبہ تحریک انقلاب میں عینی شاہدین کے مطابق طلبہ اور عوام پر ڈھائے گئے مظالم میں یہی ہندو پولیس افسران پیش پیش تھے۔ سابق جوائنٹ کمشنر پولیس بپلاب کمار سرکار کو ڈھاکہ میں قتل کے 27 مقدمات میں نامزد کیا گیا ہے۔ مکافاتِ عمل دیکھیے کہ حسینہ واجد کے قائم کردہ انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے جون تا اگست 2024ء میں حسینہ واجد کو 1400 نوجوانوں کو گولی مروانے کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت دی۔ اس کے علاوہ کرپشن کے کئی جرائم میں بھی بھاری سزائیں سنائی گئیں۔ حسینہ واجد اس وقت بھارت میں مفرور مجرم کی حیثیت سے ہیں۔ ان کے پندرہ سالہ دورِ اقتدار کے ناقابلِ تصور رونگٹے کھڑے کر دینے والی تفصیلات اب تاریخ کا حصہ ہیں۔ حسینہ واجد نے 1971ء کی مکتی باہنی کے حامیوں اور دیگر علیحدگی پسندوں کی دوسری تیسری نسل کو تیس‘ تیس فیصد کوٹہ سرکاری ملازمتوں میں دے رکھا تھا۔ انہیں لوگوں کو لوٹنے‘ اُن کی پراپرٹی پر قبضہ کرنے اور بھتہ وصول کرنے کی کھلی چھوٹ تھی۔
نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس‘ جو اس وقت بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر ہیں‘ انہوں نے حال ہی میں کہا ہے کہ ہمیں جمہوریت کی طرف مارچ کرنے سے کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔ ایک طاقتور نیٹ ورک نے عثمان ہادی کو شہید کیا۔ اس بربریت کا اصل مقصد انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنا ہے مگر ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ ان شاء اللہ 12فروری 2026ء کو بنگلہ دیشی پارلیمنٹ کے فری اور فیئر انتخابات ہوں گے۔ ان انتخابات کو حسینہ واجد کی سازشوں اور بنگلہ دیش کے سابق مراعات یافتہ طبقے کی طرف سے کشت و خون کا خطرہ ہے مگر بنگلہ دیش کے آرمی چیف اور چیف ایڈوائزر بروقت انتخابات کیلئے پُرعزم ہیں۔ مختلف عالمی و بنگلہ دیشی سروے رپورٹوں کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی)‘ جس کی اب قیادت خالدہ ضیا کے صاحبزادہ طارق رحمان کر رہے ہیں‘ انتخابی معرکے میں سب سے آگے رہے گی۔ دوسرا نمبر جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا ہو گا۔ 2001ء سے 2006ء تک مرحومہ خالدہ ضیا کے دوسرے دورِ حکومت میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش اس کے ساتھ شریکِ اقتدار تھی۔ جناب مطیع الرحمن نظامی امیر جماعت اسلامی خالدہ ضیا کی کابینہ میں وزیر تھے۔ آئندہ انتخابات میں یہ دونوں بڑی جماعتیں الگ الگ حصہ لے رہی ہیں۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی زیر قیادت دس جماعتی اتحاد قائم ہو چکا۔ اس اتحاد میں بنگلہ دیشی طلبہ تحریک کی قائم کردہ جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی بھی شامل ہو گئی ہے۔
شہید عثمان ہادی ولولہ انگیز اور پُرجوش خطاب میں اپنا کوئی ثانی نہ رکھتے تھے۔ وہ بنگلہ زبان کے شاعر تھے اور مجمع عام میں جو اشعار پڑھتے وہ بعد میں تحریک کا سلوگن اور سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن جاتے۔ عثمان ہادی صدقِ دل سے عدالتی‘ سماجی اور معاشی انصاف کی بات کرتے تو لوگ ان کے ہمنوا بن جاتے۔ ہادی کی شہادت کے بعد سے تو نوجوان اور بھی پُرجوش ہو کر شہید کے منشور کیلئے شب و روز دل و جان سے انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ چند روز قبل جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ہم نے پارلیمنٹ کی 300 سیٹوں کیلئے باہم اتفاق سے امیدواروں کی فہرست تقریباً مکمل کر لی ہے۔ کاغذاتِ نامزدگی دائر کرنے کے بعد متفقہ طور پر امیدواروں کے نام فائنل کر لیے جائیں گے۔ (بشمول جماعت اسلامی) گیارہ رکنی اتحاد کے امیدوار مل کر انتخابی مہم چلائیں گے۔ تین چار روز قبل جماعت اسلامی نے اپنے اتحاد کے منشور کا اعلان کیا ہے۔ اس منشور کے تحت 15 سالہ جدوجہد سے بنگلہ دیش کے عوام نے جس فاشزم کا خاتمہ کیا ہے‘ اسے دوبارہ ملک میں نہ آنے دیں گے۔ سیاسی و صحافتی آزادی کو یقینی بنائیں گے‘ معاشی و سماجی انصاف ہر بنگلہ دیشی کی دہلیز پر پہنچائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ پُرامن‘ آزاد اور معاشی ترقی کی شاہراہ پر گامزن سیاسی طور پر مستحکم بنگلہ دیش کیلئے بی این پی سمیت کسی بھی جماعت کے ساتھ اتحاد کرنے کو تیار ہیں مگر اس کی بنیادی شرط یہ ہو گی کہ وہ جماعت اپنے لیڈروں اور کارکنوں کو کسی طرح کی بھی کرپشن میں ملوث نہ ہونے کی یقین دہانی کرائے۔دوسری جانب بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی ایک لبرل جمہوری سیکولر پارٹی کے طور پر اپنا تشخص قائم رکھنا چاہتی ہے‘ تاہم اس نے بھی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ انتخابات کو اپنا منشور قرار دیا ہے۔ البتہ بنگلہ دیش کی دینی جماعتوں میں سے جمعیت علمائے اسلام‘ نیشنلسٹ ڈیمو کریٹک موومنٹ‘ نیشنل پیپلز پارٹی وغیرہ بی این پی کے ساتھ انتخابی معرکے میں شامل ہو گئی ہیں۔ حسینہ واجد سابق عوامی لیگ کے مراعات یافتہ طبقے سے انتخابی عمل کا بائیکاٹ کروانے کی کوشش کرے گی۔ انتخابی معرکے میں شامل تمام جماعتوں کو زیادہ سے زیادہ ٹرن آؤٹ کو یقینی بنانا ہوگا۔ 1971ء میں ایک دوسرے سے جدائی کے بعد بنگلہ دیش میں قرار ہے اور نہ ہی پاکستان بلا رکاوٹ جمہوری ٹریک پر اپنا سفر جاری رکھ سکا۔ سابق مشرقی پاکستان اور موجودہ پاکستان کیلئے سبق یہی ہے کہ ہمارے تمام دکھوں کا مداوا آمریت میں نہیں جمہوریت میں ہے‘ دھاندلی زدہ نہیں شفاف انتخابات میں ہے‘ ہر طرح کی مداخلت سے محفوظ آزاد عدلیہ میں ہے اور سیاسی و معاشی استحکام میں ہے۔ہماری دعا ہے کہ رب ذوالجلال حسینہ واجد کے فاشزم سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بنگلہ دیش کو نجات دے اور وہاں پُرامن انتخابات کے بعد حقیقی جمہوریت کا دور دورہ ہو۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں