ترکیہ کا پاک سعودی دفاعی اتحاد میں شمولیت کا قوی امکان
شمولیت سے مشرقِ وسطیٰ اور باہر طاقت کے توازن میں نمایاں تبدیلی آسکتی ہے انقرہ سمجھتا ہے سلامتی کے نئے ضمانتی نظام سے امریکا پر انحصار کم ہوگا،بلوم برگ
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ترکیہ سعودی عرب اور ایٹمی طاقت پاکستان کے درمیان قائم ہونے والے نئے دفاعی اتحاد میں شمولیت کا خواہاں ہے ، جس سے مشرقِ وسطیٰ اور اس سے باہر طاقت کے توازن میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے ۔ معاملے سے واقف افراد کے مطابق یہ بات چیت کافی حد تک آگے بڑھ چکی ہے اور معاہدہ طے پانے کے قوی امکانات ہیں۔بلومبرگ کے مطابق سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان یہ دفاعی معاہدہ گزشتہ برس ستمبر میں طے پایا تھا، جس میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ کسی ایک ملک پر حملہ دونوں ممالک پر حملے کے مترادف سمجھا جائے گا۔ یہ شق نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مماثلت رکھتی ہے جبکہ ترکیہ نیٹو میں امریکا کے بعد سب سے بڑی فوجی طاقت ہے ۔ ذرائع کے مطابق ترکیہ اس اتحاد کو اس لیے اہم سمجھتا ہے کیونکہ جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور حتیٰ کہ افریقہ میں اس کے مفادات اب سعودی عرب اور پاکستان سے تیزی سے ہم آہنگ ہو رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انقرہ اس اتحاد کو امریکا پر انحصار کم کرنے اور سلامتی کے نئے ضمانتی نظام کے طور پر دیکھ رہا ہے ، خاص طور پر ایسے وقت میں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نیٹو سے متعلق رویے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔