فائیو جی منصوبہ سوالیہ نشان ،تاحال انفراسٹرکچر ہی مکمل نہ ہوا

فائیو جی منصوبہ سوالیہ نشان ،تاحال انفراسٹرکچر ہی مکمل نہ ہوا

ملک کے 15فیصد سے بھی کم ٹاورز فا ئبر آپٹک سے منسلک ،ڈیوائسز کی شدیدکمی پاکستان میں 30لاکھ فائیو جی سپورٹڈ موبائل ، حکومتی پلان کے تحت کروڑوں درکار موبائل فونز پر بھاری ٹیکس، فیس اور دیگر چارجز فائیو جی کے فروغ میں رکاوٹ :ماہرین

اسلام آباد (حریم جدون) وفاقی حکومت نے آئندہ ایک سے دو ماہ کے دوران فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی کا منصوبہ تیار کر لیا ، تاہم ملک میں فائیو جی ٹیکنالوجی سے متعلق بنیادی انفراسٹرکچر کی عدم تکمیل اور صارفین کے لئے درکار سہولیات کی شدید کمی نے اس منصوبے پر سوالیہ نشان لگا د ئیے ہیں۔ذرائع کے مطابق پاکستان میں اس وقت فائیو جی کے لئے درکار نیٹ ورک انفراسٹرکچر مکمل نہیں ہو سکا۔ ملک بھر میں موجود ٹیلی کام ٹاورز میں سے 15فیصد سے بھی کم ٹاورز فا ئبر آپٹک نیٹ ورک سے منسلک ہیں، جو فائیو جی سروسز کے لئے ناگزیر تصور کیا جاتا ہے ، ماہرین کے مطابق بغیر فا ئبر ائزیشن کے فائیو جی کی موثر اور تیز رفتار سروس ممکن نہیں۔ دستاویزات کے مطابق ملک میں اس وقت صرف 30 لاکھ کے قریب فائیو جی سپورٹڈ موبائل ڈیوائسز موجود ہیں، جبکہ فائیو جی لانچ کے حکومتی پلان کے تحت کروڑوں ڈیوائسز درکار ہوں گی۔

اس کے برعکس ملک کی بڑی آبادی اب بھی ٹو جی اور تھری جی سروسز استعمال کر رہی ہے ، جو ڈیجیٹل تقسیم کی واضح عکاسی کرتا ہے ۔ٹیلی کام ذرائع کا کہنا ہے کہ موبائل فونز پر بھاری درآمدی ٹیکس، پی ٹی اے رجسٹریشن فیس اور دیگر حکومتی چارجز فائیو جی ٹیکنالوجی کے فروغ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ مہنگے سمارٹ فونز کی وجہ سے صارفین کی اکثریت فائیو جی ڈیوائسز خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔ مزید یہ کہ ملک میں اب تک فائیو جی یا جدید سمارٹ فونز کی مقامی سطح پر تیاری کا آغاز بھی نہیں ہو سکا، جس کے باعث درآمدات پر انحصار بڑھ رہا ہے اور قیمتوں میں مزید اضافہ ہو رہا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سپیکٹرم نیلامی سے قبل انفراسٹرکچر کی بہتری، فا ئبر آپٹک نیٹ ورک کی توسیع، موبائل فون ٹیکس میں کمی اور مقامی ڈیوائس مینوفیکچرنگ کو فروغ نہ دیا گیا تو فائیو جی نیلامی سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہو گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں