میں پانچ نہیں چار بڑوں کو بڑا مانتا ہوں :محمود اچکزئی

 میں پانچ نہیں چار بڑوں کو بڑا مانتا ہوں :محمود اچکزئی

لاہور فتح کرنے نہیں آئے تھے ،عوام 8 فروری کو اپنے طور پر احتجاج کریں

لاہور (سیاسی نمائندہ، مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود اچکزئی نے کہا ہے کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان ایک آخری ایس او ایس پیغام ہے ، جیسے جہاز ڈوبتے وقت ایس او ایس کال دی جاتی ہے ، ویسے ہی آج پاکستان ڈوب رہا ہے ۔ عوام آٹھ فروری کو اپنے اپنے طور پر احتجاج کریں۔ میں پانچ بڑوں کو نہیں مانتا، چار بڑوں کو بڑا مانتا ہوں اور انہی چار بڑوں کی وجہ سے پانچواں بڑا آیا۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت کے ماحول کے باوجود لاہور کے لوگوں نے ہمارا بہت اچھا استقبال کیا۔ ہم لاہور فتح کرنے نہیں آئے تھے بلکہ آٹھ فروری کے حوالے سے تحریک چلانے کے لیے آئے تھے ۔ یہاں سب اپنی اپنی ڈیوٹی کر رہے ہیں، اگر گاڑیاں ٹوٹتی ہیں تو پولیس بھی اپنی ذمہ داری ادا کر رہی ہے ۔

جب سے آئین بنا ہے ، جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں نے اسے توڑا ہے ۔ بعض لوگوں کو یہ آزادی حاصل ہے کہ جب چاہیں آئین کو پھاڑ دیں اور جب چاہیں سیاستدانوں کو پھانسی دے دیں۔ تحریک انصاف کے کارکن شدید فرسٹریشن کا شکار ہیں اور وہ اپنے رہنماؤں کو بھی گالیاں دے رہے ہیں، حالانکہ ہم تحریک انصاف کا حصہ نہیں ہیں، پھر بھی ہم نے انہیں سمجھایا ہے کہ گالیاں نہ دیں بلکہ منظم تحریک چلائیں۔ جو آدمی ایمان بیچتا ہے اسے محب وطن کہا جاتا ہے ۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ 9 مئی کے روز کور کمانڈر ہاؤس کھلا ہوا کیوں تھا؟ بانی پی ٹی آئی نے جوڈیشل کمیشن بنانے کا کہا ہے ، وہ کیوں نہیں بنایا جاتا؟ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ خطہ ایک خطرناک جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے ، مگر ہم نے آج تک پارلیمنٹ میں اس پر سنجیدہ بحث تک نہیں کی۔دریں اثنا تحریک تحفظ آئین پاکستان کا قافلہ دورہ لاہور مکمل کرنے کے بعد اسلام آباد روانہ ہو گیا۔ دورے کے دوران آخری روز قافلے نے پی ٹی آئی رہنما میاں محمود الرشید کے اہلخانہ سے ان کی رہائشگاہ پر اورماڈل ٹاؤن میں پی ٹی آئی عہدیداروں سے بھی ملاقات کی جبکہ اختتامی پریس کانفرنس بھی ماڈل ٹاؤن میں ہی کی ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں