سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی چیئرمین اور8ممبرز پر مشتمل ہوگی

 سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی چیئرمین اور8ممبرز پر مشتمل ہوگی

ایک صحافی، سافٹ ویئر انجینئر، وکیل، آئی ٹی ماہر ،سوشل میڈیا پروفیشنل ممبرز ہونگے نجی شعبہ ماہرین اور ریٹائرڈ افسران کی تقرری پانچ سال کیلئے ہوگی، توسیع نہیں ہوگی فیک معلومات، نفرت انگیز مواد اور ریاست مخالف سرگرمیوں پر کارروائی کا اختیار ہوگا

اسلام آباد (ایس ایم زمان)پروٹیکشن الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2025(پیکا) کے تحت قائم ہونے والی سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی چیئرمین اور آٹھ ممبران پر مشتمل ہوگی۔ غیر سرکاری پانچ ممبران میں ایک صحافی، سافٹ ویئر انجینئر، وکیل، آئی ٹی ماہر اور سوشل میڈیا پروفیشنل شامل  ہوں گے ، جبکہ وفاقی سیکرٹری داخلہ، چیئرمین پیمرا اور چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے ) اتھارٹی کے سرکاری و غیر منتخب ممبران ہوں گے ۔وفاقی حکومت نجی شعبے کے ماہرین اور ریٹائرڈ سرکاری افسران میں سے چیئرمین اور ممبران کی تقرری پانچ سال کے لیے کرے گی، اور اس مدت میں کسی قسم کی توسیع نہیں ہوگی۔ چیئرمین کے لیے کم ازکم بیچلرز ڈگری اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، قانون، سوشل میڈیا یا دیگر متعلقہ ٹیکنالوجیز میں پندرہ سالہ تجربہ لازمی قرار دیا گیا ہے ۔

اتھارٹی میں فیک یا غلط معلومات اور خبروں سے متاثر ہونے والا کوئی بھی شخص شکایت درج کرا سکے گا، جبکہ متعلقہ مواد کو بلاک کرانے کا اختیار بھی موجود ہوگا۔ اتھارٹی شکایت موصول ہونے کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر احکامات جاری کرے گی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن اتھارٹی کے ذریعے کی جائے گی، جس کے لیے فیس وصول کی جائے گی، اور شکایات کی بنیاد پر کسی پلیٹ فارم کو جزوی یا مکمل طور پر بند بھی کیا جا سکے گا۔اتھارٹی سوشل میڈیا پر آن لائن معلومات اور خبروں کی اشاعت سے متعلق گائیڈ لائنز، پالیسی ڈائریکٹو، ہدایات اور احکامات جاری کرے گی۔ پاکستان کے نظریے کے خلاف مواد شائع کرنے ، عوام کو قانون کی خلاف ورزی پر اکسانے ، یا قانون شکن عناصر کی معاونت کرنے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور افراد کے خلاف کارروائی کا اختیار بھی اتھارٹی کو حاصل ہوگا۔

مزید برآں، عوام یا گروہوں کو ڈرانے ، مجبور کرنے ، دہشت زدہ کرنے ، سرکاری اہلکاروں اور اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے ، حکومت یا نجی جائیداد کو نقصان پہنچانے پر اکسانے والے مواد کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکے گی۔ شہری زندگی میں خلل ڈالنے ، تجارت میں رکاوٹ بننے ، یا مذہبی، فرقہ وارانہ اور نسلی بنیادوں پر نفرت، تشدد اور خلفشار پھیلانے والے مواد اور اس میں ملوث سوشل میڈیا پلیٹ فارمز یا افراد کے خلاف بھی اتھارٹی کارروائی کر سکے گی۔اتھارٹی کسی شائع شدہ مواد کو جھوٹا یا گمراہ کن قرار دے سکے گی، اگر اس کے لیے معقول وجوہات موجود ہوں۔ عدلیہ، مسلح افواج، مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) یا صوبائی اسمبلیوں کے خلاف نفرت انگیز مواد، دہشت گردی یا تشدد کی کسی بھی شکل کی تشہیر یا حمایت کرنے والوں اور اس مقصد کے لیے استعمال ہونے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے خلاف بھی کارروائی کا اختیار اتھارٹی کو حاصل ہوگا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں