قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کا احتجاج : صدر کی منظوری کے بغیر جاری آرڈیننس واپس
آرڈیننس صدرکے دستخط کے بغیر کیسے جاری ہوا؟ یہ پارلیمانی تاریخ کا سیاہ دن:نویدقمر،پس پردہ عناصر بے نقاب کرنا ہونگے :راجہ پرویز، پی پی کی کورم کی نشاندہی، پی ٹی آئی ارکان بھی چلے گئے غلطی کی فوری درستگی کر دی گئی، پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان اچھے تعلقات کی وجہ سے آرڈیننس واپس لیا گیا :وفاقی وزیر قانون، پیپلزپارٹی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلا س آج دو بجے طلب
اسلام آباد(سٹا ف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک )پیپلز پارٹی کے احتجاج کے بعد حکومت نے صدرکی منظوری کے بغیرجاری ہونے والا سپیشل اکنامک زون ترمیمی آرڈیننس واپس لے لیا۔ قبل ازیں پیپلزپارٹی نے صدر مملکت آصف زرداری کے دستخط کے بغیر سپیشل اکنامک زونز آرڈیننس جاری کرنے پر قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا ، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صدر کے دستخط کے بغیر سپیشل اکنامک زونزآرڈیننس جاری کرنے پرپارلیمانی پارٹی اجلاس بھی بلانے کا اعلان کیا تھا۔اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے آئین کے آرٹیکل 89/2 کے تحت آرڈیننس واپس لینے کی ایڈوائس دی۔قبل ازیں قومی اسمبلی اجلاس میں صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری کرنے پر پیپلز پارٹی کا ہنگامہ ، واک آئوٹ ، کورم کی نشاندہی، پی ٹی آئی کے اراکین بھی باہر چلے گئے ۔ اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید نوید قمر نے سپیشل اکنامک زون آرڈیننس کے معاملے پر شدید اعتراض اٹھایا اورکہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ایک آرڈیننس صدرِ مملکت کے دستخط اور منظوری کے بغیر جاری کیا گیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت کس طرح ایسا آرڈیننس جاری کر سکتی ہے جس پر صدر کے دستخط موجود نہ ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ آمریت کے ادوار میں بھی اس قسم کی مثال نہیں ملتی۔ پی پی رہنما نوید قمر کا کہنا تھاکہ اس ایوان کی پرائمری ذمہ داری قانون سازی ہے لیکن پہلی بارحکومت نے ایک ایسا آرڈیننس نافذ کیا جس کی صدر نے منظوری نہیں دی،یہ پارلیمانی تاریخ کا سیاہ دن ہے ، اس قانون کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، ان حالات میں ہم اس ایوان کا حصہ نہیں بنتے ۔ جس کے بعد پیپلز پارٹی کے ارکان نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔ سپیکر نے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کو پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے بھیجا۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیپلزپارٹی کے تحفظات سن کر کہا کہ سوشل میڈیا پر آرڈیننس کے حوالے سے مختلف چیزیں چل رہی ہیں ہم چیک کرلیتے ہیں۔ اسی دوران پیپلز پارٹی کے رکن سید حسین طارق نے ایوان میں کورم کی نشاندہی کر دی۔صورتحال مزید کشیدہ ہونے پر پی ٹی آئی کے ارکان نے بھی احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کر دیاجس کے باعث اجلاس کی کارروائی متاثر ہوئی۔
اس سلسلہ میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے آج پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کرلیا ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ پیپلزپارٹی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلا س آج دوپہر دو بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا، اجلاس میں آئینی عمل میں وفاقی حکومت کے طریقہ کار پر تحفظات پر غور ہوگا۔پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ارکان کو شرکت کی ہدایات جاری کردی گئیں۔ ادھر سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے مطالبہ کیا کہ صدر مملکت کے دستخطوں کے بغیر آرڈیننس جاری کرنے کے پس پردہ عناصر کو بے نقاب کرنا ہو گا،سپیکر قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر قانون کو صورتحال کا فوری نوٹس لینا چاہیے ۔اپنے ایک بیان میں راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ اس طرح کے روئیے حکومتی اتحاد میں دراڑ ڈالنے کے مترادف ہیں، پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی آج اس صورتحال پر غور کے بعد اسمبلی اجلاس میں شرکت کرنے یا نہ کرنیکا فیصلہ کریگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹ کیخلاف ہر سازش کا ڈٹ کا مقابلہ کریگی۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ ای-آفس کے ذریعے فائلز کی منظوری آن لائن ہوتی ہے ۔ اس آرڈیننس کی بھی ابتدائی اپروول ہو گئی تھی تاہم دستخط شدہ فائلز موصول ہونے پر معلوم ہوا کہ اس پر حتمی دستخط نہیں کیے گئے تھے حالانکہ اس کی پرنٹنگ پہلے ہی ہو چکی تھی۔ وزیر قانون نے کہا کہ یہ ایک غلطی تھی جس کی فوری درستگی کر دی گئی ہے ۔اعظم تارڑ نے مزید وضاحت دی کہ جو بل مشترکہ اجلاس سے صدر کے پاس بھیجا جاتا ہے صدر اسے دس روز تک رکھ سکتے ہیں اور صدر کی منظوری کے بغیر ان بلز کو نوٹیفائی نہیں کیا جا سکتا۔
وزیر قانون نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان اچھے تعلقات کی وجہ سے اس آرڈیننس کو واپس لیا گیا اور آئندہ بھی تمام معاملات افہام و تفہیم اور تعاون کے ساتھ چلائے جائیں گے ۔ ایوان میں شہداپاک فوج، میاں منظور وٹو ، ڈاکٹر شمشاد اختر اور معظم علی خان کی والدہ کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی ۔ قبل ازیں سپیکر نے اسمبلی سیشن کے لئے 5 رکنی پینل آف چیئر کا اعلان کر دیا ،سیشن کے لئے قومی اسمبلی کے رولز 2007 کے تحت علی زاہد ،عبدالقادر پٹیل ، سیدہ شہلا رضا ،نزہت صادق ،سید امین الحق اور ارباب شیر علی پینل آف چیئر میں شامل ہوں گے ۔ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی عدم موجودگی میں اس پینل میں شامل اراکین اسمبلی اجلاس کی صدارت کر سکیں گے ۔