خلیجی ممالک میں پاکستانی افرادی قوت کی کھپت کیلئے اقدامات میں تیزی لائیں : شہبار شریف

خلیجی ممالک میں پاکستانی افرادی قوت کی کھپت کیلئے اقدامات میں تیزی لائیں : شہبار شریف

صوبائی اداروں کے ساتھ تعاون کو یقینی بناتے ہوئے نیوٹیک کے پروگرامز کو وسعت دی جائے :وزیراعظم غیراطمینان بخش اداروں کی رکنیت معطل کر کے کارروائی کی جائے :نیوٹیک سے متعلق اجلاس سے خطاب

اسلام آباد (خصوصی رپورٹر)وزیراعظم شہباز شریف نے نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (نیوٹیک)کی حالیہ کارکردگی  پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا خلیجی ممالک میں پاکستانی افرادی قوت کی کھپت کیلئے اقدامات میں تیزی لائی جائے ۔ وزیراعظم کی زیرصدارت پیشہ ورانہ تربیت کے نئے نظام پر جائزہ اجلاس میں نیوٹیک کے تحت جاری تربیتی پروگرامز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی افرادی قوت کو عالمی سطح پر مسابقت کے لیے بین الاقوامی سرٹیفیکیشنز فراہم کرنا خوش آئند امر ہے ۔ انہوں نے خلیجی ممالک میں پاکستانی افرادی قوت کی کھپت بڑھانے کیلئے وزارت خارجہ اور وزارت سمندر پار پاکستانیوں و انسانی وسائل کی ترقی کو اقدامات میں تیزی لانے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی نوجوان افرادی قوت صلاحیتوں سے بھرپور ہے ، ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے نیوٹیک کے ذریعے ایک مفصل پروگرام کا آغاز کیا جائے ،نیوٹیک کے تحت تکنیکی و فنی تربیتی پروگرامز کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ نیوٹیک کے تمام پارٹنر تربیتی اداروں میں زیر تربیت طلبہ اور اساتذہ کے لیے بائیو میٹرک نظام کے تحت حاضری کا نظام لاگو کیا جائے ،صوبائی اداروں کے ساتھ تعاون کو یقینی بناتے ہوئے نیوٹیک کے پروگرامز کو وسعت دی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ افرادی قوت کو تربیت فراہم کی جا سکے ۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ بین الاقوامی سطح پر زیادہ مانگ والے ہنر کے حوالے سے نوجوانوں کو بین الاقوامی سرٹیفیکیشن کے ساتھ تربیت کی فراہمی اولین ترجیح ہے ۔

انہوں نے ہدایت کی کہ نیوٹیک کے تحت جن اداروں کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں، ان کی رکنیت معطل کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ نیوٹیک کے نظام کی مکمل ڈیجیٹائزیشن اور آن لائن مانیٹرنگ کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے ۔اجلاس میں نیوٹیک کے ساتھ کام کرنے والے نجی شعبے کے تھرڈ پارٹی ویلڈیٹرز، صنعتی شعبے کے شراکت داروں، پیشہ ورانہ اداروں، چیمبرز آف کامرس کے نمائندوں، کاروباری ایسوسی ایشنز کے نمائندوں اور مصنوعی ذہانت و انفارمیشن ٹیکنالوجی شعبے کے ماہرین نے شرکت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ نیوٹیک کے تحت پاکستان کے پہلے سکل بیسڈ بانڈ کا اجراء کیا جا چکا ہے ، جس کے تحت نجی شعبے سے پیشہ ورانہ تربیت کیلئے نتائج کی بنیاد پر فنڈنگ لی جائے گی۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، فن ٹیک، کان کنی، سیاحت، سپورٹس، ہاسپٹیلٹی، چِپ بلڈنگ کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر طلب کے اعتبار سے تربیتی پروگرامز اس وقت نیوٹیک کے تحت ملک بھر میں جاری ہیں۔

نیوٹیک کے تکنیکی و فنی تربیت کے تمام پروگرام انڈسٹری کی ضروریات سے ہم آہنگ کیے جا چکے ہیں۔ ملک بھر سے 148 صنعتوں کو پروگرامز میں شامل کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں مدرسہ جات میں بھی تربیتی پروگرامز کا اجراء کیا گیا ہے ۔گزشتہ برس نیوٹیک کے ذریعے 1 لاکھ 46 ہزار افراد نے تربیت حاصل کی جبکہ 15 ہزار سے زائد افراد کو بین الاقوامی سرٹیفیکیشنز فراہم کی گئیں۔ تکامل کے ذریعے 3 لاکھ سے زائد افراد نے تربیت حاصل کی جبکہ 2 لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد سعودی عرب میں اس نظام کے ذریعے برسر روزگار ہوئے ۔ اس کے ساتھ ساتھ 350 سے زائد اداروں کی جانچ پڑتال کے بعد انہیں نیوٹیک کی جانب سے بین الاقوامی معیار کی تربیت فراہم کرنے کا لائسنس دیا گیا۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ 10 ہزار سے زائد افراد کو صنعتوں کے حساب سے پیشہ ورانہ تربیت کے پائلٹ پراجیکٹ کے اجراء کے علاوہ 2600 نئے اداروں کی رجسٹریشن کی گئی۔ تربیت فراہم کرنے والے اداروں کو ادائیگی کے لیے نتائج کو مدنظر رکھا جاتا ہے ۔ اجلاس میں گوگل، مائیکروسافٹ اور دیگر بین الاقوامی سرٹیفکیشن اداروں کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ وزیراعظم کی جانب سے نیوٹیک کو تفویض کردہ تمام اہداف حاصل کیے جا چکے ہیں۔ وزیراعظم نے نیوٹیک کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مستقبل کے لیے مزید بہتری کے حوالے سے نئے اہداف کے تعین کی ہدایت کی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں