پنجاب:پونے 41لاکھ ہوم بیسڈ ورکرز برسوں سے استحصال کا شکار

پنجاب:پونے 41لاکھ ہوم بیسڈ ورکرز برسوں سے استحصال کا شکار

84اعشاریہ7 فیصد ورکرز کی ماہانہ آمدن 10 ہزار روپے سے بھی کم ہے ورکرز کو اجرت کی یقینی ادائیگی نہ ہی مستقبل کا تحفظ حاصل :سرکاری رپورٹ

لاہور(محمد حسن رضا سے )پنجاب میں گھروں کے اندر محنت کرنے والے لاکھوں ہوم بیسڈ ورکرز کی زندگی سے پردہ اٹھ گیا ، پنجاب حکومت کی تیارایک سرکاری رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ صوبے میں 40 لاکھ 75 ہزار سے زائد ہوم بیسڈ ورکرز برسوں سے استحصال کا شکار ہیں،گھروں میں سلائی، کڑھائی، پیکنگ، مینوفیکچرنگ اور دیگر کام کرنے والے یہ مزدور فیکٹریوں کا رخ نہیں کرتے مگر ان سے مشینوں سے بھی زیادہ کام لیا جاتا ہے ، اس کے باوجود ان میں سے اکثریت کی ماہانہ آمدن انتہائی کم ہے ۔ سرکاری سروے میں اعتراف کیا گیا کہ 84اعشاریہ7 فیصد ہوم بیسڈ ورکرز کی آمدن 10 ہزار روپے سے بھی کم ہے جبکہ عددی اعتبار سے یہ تعداد 34 لاکھ 51 ہزار 525 مزدوروں پر مشتمل ہے۔

رپورٹ میں خواتین کی صورتحال کو خاص طور پر تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق گھروں میں کام کرنے والی تقریباً ہر 10 میں سے 9 خواتین ورکرز کی آمدن 10 ہزار روپے سے کم ہے ۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق صرف 1اعشاریہ8 فیصد ہوم بیسڈ ورکرز کے پاس تحریری معاہدہ موجود ہے جبکہ 98 فیصد مزدور زبانی وعدوں پر کام کرنے پر مجبور ہیں، نہ کوئی قانونی ضمانت، نہ اجرت کی یقینی ادائیگی اور نہ ہی مستقبل کا کوئی تحفظ ہے ۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 64 فیصد ہوم بیسڈ ورکرز سخت ڈیلیوری، ڈیڈ لائنز کے دباؤ میں کام کرتے ہیں مگر اس کے باوجود 26 فیصد کو پوری اجرت نہیں ملتی اور 15 فیصد مزدوروں کو ادائیگی میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

صحت کے حوالے سے بھی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں کہ ہوم بیسڈ ورکرز میں پیشہ ورانہ بیماریاں اور جسمانی چوٹیں عام پائی گئیں، خاص طور پر مینوفیکچرنگ سے وابستہ مزدور آنکھوں، معدے اور جوڑوں کے مستقل امراض میں مبتلا پائے گئے تاہم علاج اور سوشل سکیورٹی کا کوئی منظم نظام ان کیلئے موجود نہیں ، انصاف اور شکایات کے نظام پر رپورٹ نے ریاستی کمزوری کو بھی بے نقاب کیا ہے ۔ دستاویز کے مطابق ہوم بیسڈ ورکرز کے تنازعات کے حل کیلئے کوئی ادارہ جاتی نظام موجود نہیں جس کے باعث 79 فیصد مزدور اپنے مسائل خود ہی ذاتی سطح پر حل کرنے یا خاموشی سے سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں