اپنے بل بوتے پر کاروبار کریں :وفاقی آئینی عدالت
بزنس فرینڈلی پالیسیاں بھی ہونی چاہئیں:جسٹس حسن اظہر رضوی 10 فیصد سپر ٹیکس درحقیقت 67 فیصد مجموعی ٹیکس کے برابر :وکیل
اسلام آباد(کورٹ رپورٹر )وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق اہم کیسز کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی،سماعت وکلاکے دلائل کے بعدآج تک ملتوی کردی گئی،اس موقع پر نجی کمپنیوں اور اینگرو کمپنی کے وکلا نے تفصیلی دلائل دیئے ، نجی کمپنی کے وکیل مرزا محمود خان نے بتایا کہ کمپنیوں کی 70 فیصد فنانسنگ بینکوں سے قرض کی صورت میں ہوتی ہے ، حکومت کو ٹیکس اور بینکوں کو سود ادا کرنے کے بعد سال کے اختتام پر کمپنیاں نقصان میں چلی جاتی ہیں۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے ‘‘تو آپ اپنے بل بوتے پر کاروبار کریں نا’’۔ وکیل مرزا محمود خان نے کہا اس وقت 10 فیصد (صفحہ3بقیہ نمبر3)
سپر ٹیکس درحقیقت 67 فیصد مجموعی ٹیکس کے برابر بن چکا ہے ۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ ‘‘بزنس فرینڈلی انویسٹمنٹ پالیسیاں بھی ہونی چاہئیں’’۔ اس پر وکیل مرزا محمود خان نے کہا کہ ‘‘میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اتھارٹیز ایک بوٹی کے لیے پورا بکرا ذبح نہ کریں’’۔اینگرو کمپنی کے وکیل خالد جاوید خان نے کہا اب ان کمپنیوں پر ٹیکس نہیں لگایا گیا جو کورونا کے دوران کام کرتی رہیں جبکہ باقی انڈسٹریز پر سپر ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے ۔آئندہ سماعت پر سلمان اکرم راجہ اور فروغ نسیم سپر ٹیکس کے حوالے سے اپنے دلائل پیش کریں گے ۔