ہرمقدمہ ریپ کانہیں ہوتا، جتناجرم اتنی سزا:سپریم کورٹ ملزم کی ضمانت منظور
کوئی اپنی بیٹی پر جھوٹا الزام لگا کرتماشہ کیوں بنائے گا؟خاتون نے خودریپ تسلیم کیااور کیا ثبوت ہوگا،جسٹس مسرت ہلالی صرف لڑکی کی گواہی پر سزا کانہیں کہہ سکتے ،کیارضا مندی کے مجرم کوزبردستی کی دفعات پرسزاہوسکتی ؟جسٹس مندوخیل
اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ نے زنابالجبر کے ملزم مدثر کی ضمانت منظورکرلی ، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا جتنا جرم ہوگا، اتنی سزا دی جائے گی ، ہر مقدمے میں سنجیدہ تحقیقات ہونی چاہیے ۔ وکیل صفائی نے بتایا کہ ملزم الزام سے مکمل انکار کر رہا ہے ،سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ تحقیقات میں لڑکی کا ملزم کے گھر پر رہنا ثابت ہواہے ۔ جسٹس ملک شہزاد کا کہنا تھا کہ الزام مدعی نے ثابت کرنا ہوتا ہے ملزم نے نہیں، جسٹس مسرت ہلالی نے سوال اٹھایا کوئی اپنی بیٹی پر جھوٹا الزام لگا کرتماشہ کیوں بنائے گا؟جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے ایسے تمام واقعات تو رپورٹ بھی نہیں ہوتے اور میڈیکل رپورٹ بھی ملزم کے خلاف نہیں ؟ ہر مقدمہ ریپ کا نہیں ہوتا ، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا خاتون نے خود ریپ تسلیم کیااور کیا ثبوت ہوگا،جسٹس ملک شہزاد کا کہنا تھا کہ صرف لڑکی کی گواہی پر تو ملزم کو سزا دینے کا نہیں کہہ سکتے ۔جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کیا کبھی کسی کو زنا بالرضا پر بھی سزا ہوئی ہے ؟ کیارضا مندی کے مجرم کوزبردستی کی دفعات پرسزادی جاسکتی ہے ؟ جو جرم ہوگااتنی ہی سزادیں گے ،جتناجرم اتنی سزا۔سپریم کورٹ نے ملزم کی ضمانت منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ قانونی کارروائی شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھائی جائے ۔ملزم کیخلاف خاتون کے والد نے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں گزشتہ سال مقدمہ درج کروایا تھا۔