اسلام آباد میں آن لائن رائیڈ بُکنگ کیلئے اتھارٹی رجسٹریشن لازمی
رائیڈ سروس کیلئے فرد، کمپنی یا ادار ے کو رجسٹرڈ ہو کر آپریشن سرٹیفکیٹ لینا ہوگا ڈرائیونگ لائسنس ،گاڑی کی سالانہ فٹنس بھی ضروری،ایوان بالا میں اہم بل منظور
اسلام آباد ( حریم جدون)اسلام آباد میں ایپ بیسڈ ٹیکسی اور رائیڈ ہیلنگ سروسز کو ضابطے میں لانے کیلئے نیا قانونی فریم ورک متعارف کرایا جائیگا ،اس حوالے سے سینیٹ میں اہم بل منظور کر لیا گیا ، جس کے تحت صوبا ئی موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965 میں ترمیم کی جا ئے گی۔ اس آرڈیننس میں ترمیم کے بعد پہلی بار اسلام آباد کی حدود میں رائیڈ ہیلنگ سروسز کے لئے باقاعدہ قانونی فریم ورک متعارف ہوگا ۔ بل میں رائیڈ ہیلنگ پلیٹ فارم کی تعریف ڈیجیٹل سروس یا ایپ کے طور پر کی گئی ہے جو آن لائن نظام کے ذریعے مسافروں کو ڈرائیورز سے جوڑتی ہے ۔بل کے مطابق کوئی بھی فرد، کمپنی یا ادارہ اسلام آباد میں اس وقت تک رائیڈ سروس فراہم نہیں کر سکے گا جب تک وہ متعلقہ اتھارٹی سے رجسٹرڈ ہو کر آپریشن سرٹیفکیٹ حاصل نہ کرے ۔
رائیڈ ہیلنگ کمپنیوں کو اپنے پلیٹ فارم پر کام کرنے والے تمام ڈرائیورز اور گاڑیوں کا مکمل اور اپ ڈیٹ ریکارڈ رکھنا ہوگا، جبکہ ضرورت پڑنے پر ر ئیل ٹائم ڈیٹا، ٹرپ ریکارڈز اور ڈرائیورز کی تفصیلات متعلقہ حکام کو فراہم کرنا بھی لازم ہوگا ۔رائیڈ ہیلنگ سروس کے تحت گاڑی چلانے والے ڈرائیور کے پاس نہ صرف درست ڈرائیونگ لائسنس ہو بلکہ اس سروس کے لئے خصوصی اجازت یا انڈورسمنٹ بھی لازمی ہوگی۔ اس کے علاوہ رائیڈ ہیلنگ کے لئے استعمال ہونے والی تمام گاڑیوں کی رجسٹریشن اور سالانہ فٹنس سرٹیفکیٹ بھی لازمی قرار دیا گیا ۔ پاکستان میں رائیڈ شیئرنگ سروسز طویل عر صہ سے کسی واضح قانون کے بغیر کام کر رہی ہیں، جس کے باعث ان کی نگرانی اور ریگولیشن کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ مجوزہ ترمیم کا مقصد مسافروں کے تحفظ، شفاف نظام اور حکومتی نگرانی کو یقینی بنانا ہے ۔ بل سینیٹر سرمد علی کی جانب سے پیش کیا گیا تھا ۔