اسٹیبلشمنٹ سے کوئی رابطہ نہیں ، ہوا تو چھپائیں گے نہیں، بیرسٹر گوہر
اپوزیشن لیڈرز کا تقررکسی پر احسان نہیں، سلمان اکرم، ملاقات ہونی چاہئے ،شہر آفریدی نئے الیکشن مینڈیٹ کی واپسی تک 8 فروری کی کال واپس نہیں لی جائے گی ، شفیع جان
راولپنڈی(خبر نگار ،مانیٹرنگ ڈیسک )تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ مخالفین کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں بہتر ہے صلح صفائی ہو لیکن حکومت ایک طرف ہاتھ ملائے دوسرے سے مکا مارے تو حالات بہتر نہیں ہوں گے ، فی الحال اسٹیبلشمنٹ سے کوئی رابطہ نہیں اگر ہوا تو چھپائیں گے نہیں۔راولپنڈی میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان نے کہا بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے ، ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت پر الزامات نہیں لگنے چاہئیں، حکومت خیبرپختونخوا کو بھی ایسے کام نہیں کرنے چاہئیں، جس سے ان پر الزامات لگ جائیں اور جو لوگ الزامات لگاتے ہیں ان سے گزارش ہے ثبوت بھی لائیں۔مقدمات سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا17 جنوری 2025 کو القادر میں سزا ہوئی، ایک سال سے اپیل نہیں لگ رہی ہے ، ایک سال سے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو ابھی تک ضمانت نہیں ملی۔بشریٰ بی بی پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں پھر ان کو کیوں سزا دی گئی۔
بیرسٹر گوہر نے کہا ہم نے حکومت کو کہا دونوں ہاتھ ملائیں تو بات بنے گی۔چیئرمین پی ٹی آئی نے بتایا کہ 8 فروری کو اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے ہمارا احتجاج پرامن ہوگا، اپیل ہے لوگ شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کریں، نواز شریف اپنی پارٹی کے سربراہ ہیں نوٹیفکیشن پر اگر کوئی مشاورت ہوئی ہوگی تو یہ ان کا معاملہ ہے ۔پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا اپوزیشن لیڈرز کا نو ٹیفکیشن آئینی فریضہ تھا کسی پر کوئی احسان نہیں۔ ملک میں آئین پامال، عدلیہ محکوم اور الیکشن بے معنی ہوچکے ہیں۔ کراچی سانحہ کرپشن اور سنگدلی کا نتیجہ ہر سطح پر اٹھائیں گے ،بانی پی ٹی آئی کو تنہائی میں رکھنے کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھائیں گے ۔پی ٹی آئی رہنما شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ ہم عہدوں کیلئے نہیں بلکہ بانی پی ٹی آئی کے نظریے کے ساتھ کھڑے ہیں، ملاقات کیوں نہیں کرائی جا رہی؟ ترجمان خیبر پختونخوا شفیع جان نے کہا ہے کہ نئے الیکشن مینڈیٹ کی واپسی تک 8 فروری کی کال واپس نہیں لی جائے گی ، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی سٹریٹ موو منٹ کے باعث ہمیں کامیابی ملی ،محموداچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو اپوزیشن لیڈر بنایا گیا وہ سلیکٹ نہیں الیکٹ ہوئے ہیں ۔کچھ بھی ہو جائے 8فروری کی کال کسی صورت واپس نہیں لی جائے گی، پی ٹی آئی کے کارکن کسی نتیجے کے بغیر تحریک جاری رکھیں گے نتائج کچھ بھی ہوں ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔