گرین لینڈ کیلئے طاقت استعمال نہیں کرونگا،یورپ اور نیٹو کی مدد کے بدلے صرف،برف کا ایک ٹکڑا،چاہئے:ٹرمپ
یورپ کے پاس ہاں یا ناں کا آپشن ، گرین لینڈ میں نایاب معدنیا ت نہیں اسکی سٹریٹجک اہمیت ہے ، دنیا کا معاشی انجن امریکا ، کینیڈا ہماری وجہ سے قائم ہے :ڈیووس میں خطاب ٹرمپ کے بیان سے عالمی منڈیاں سنبھل گئیں ، یورپ کو معیشت اور دفاع کیلئے تیز اقدامات کرنا ہونگے ، اب دنیا خالص طاقت کے اصولوں پر چل رہی ہے :سربراہ یورپی یونین
ڈیووس (نیوز ایجنسیاں )امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کیلئے طاقت کا استعمال نہیں کریں گے تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا کو اس علاقے کی ملکیت حاصل ہونی چاہئے ۔ڈیووس میں عالمی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ، جو دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے ، کو برف کا ایک ٹکڑا قرار دیا ،انہوں نے کہاہم جو چاہتے ہیں صرف یہ ہے کہ گرین لینڈ حاصل کیا جائے ، مکمل ملکیت کے ساتھ، کیونکہ دفاع کیلئے ملکیت ضروری ہے ، آپ اسے لیز پر لے کر دفاع نہیں کر سکتے ۔ ٹرمپ نے گرین لینڈ کی ملکیت پر یورپ کو پیغام دیاکہ ہاں کہیں گے تو شکر گزار رہوں گا، نہ کہیں گے تو یاد رکھوں گا۔انہوں نے مزید کہاکہ کون چاہے گا کہ ایک لائسنس یا لیز کے معاہدے کے تحت اس دفاع کو سنبھالے جبکہ یہ ایک بڑا برف کا ٹکڑا ہے وسطِ سمندر میں، جہاں اگر جنگ ہوئی تو زیادہ تر کارروائی اس ٹکڑے پر ہوگی۔ سوچیں وہ میزائل بالکل اس ٹکڑے کے مرکز کے اوپر سے گزریں گے ۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ صرف ان کا ملک ہی گرین لینڈ کو محفوظ بنا سکتا ہے ۔گرین لینڈ میں نایاب معدنیات نام کی کوئی چیز نہیں ، اصل اہمیت اس کی سٹریٹجک قومی سلامتی اور بین الاقوامی سلامتی ہے حقیقت یہ ہے کہ امریکا کے سوا کوئی ملک یا ممالک کا کوئی گروہ گرین لینڈ کو محفوظ بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔ صدر ٹرمپ نے نیٹو کے اتحادی ملک ڈنمارک کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ناشکرا قرار دیااور کہا کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد گرین لینڈ کے تحفظ میں امریکی مدد کے باوجود ڈنمارک کا رویہ درست نہیں رہا جبکہ کینیڈا کا وجود بھی امریکا کی وجہ سے ہے ۔انہوں نے کہا کہ امریکا اس کرئہ ارض کا معاشی انجن ہے ۔ جب امریکہ ترقی کرتا ہے تو پوری دنیا ترقی کرتی ہے ، تاریخ یہی بتاتی ہے ۔یورپ کے حوالے سے امریکی صدر نے کہا کہ براعظم کے بعض حصے ‘قابلِ شناخت نہیں رہے اور مجھے یورپ سے محبت ہے اور میں چاہتا ہوں کہ یورپ آگے بڑھے ، لیکن یہ درست سمت میں نہیں جا رہا۔
واشنگٹن (مانیٹرنگ نیوز)صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ حاصل کرنے سے متعلق بیانات میں نرمی کے بعد مالی منڈیوں کا ردِعمل تیزی سے بدل گیا۔گزشتہ سیشن میں فروخت کے دباؤ کے بعد عالمی حصص بازاروں میں بحالی دیکھی گئی، جبکہ امریکی ٹریژری بانڈز بھی مستحکم ہو گئے ۔بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے ماہر اور سابق اعلیٰ امریکی عہدیدار فلپ گورڈن نے رائٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ کی تقریر سے واضح پیغام یہ تھا کہ وہ گرین لینڈ کے معاملے پر طاقت کے استعمال کو مسترد کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا،اس بات پر ہرکسی نے واضح طور پر سکھ کا سانس لیا ۔دوسری جانب یورپی یونین کی سربراہ اور یورپی کمیشن کی صدر سولا وان ڈر لین نے بدھ کے روز خبردار کیا کہ 27 رکنی بلاک کو اپنی معیشت اور دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے تیز اقدامات کرنے ہوں گے ، کیونکہ دنیا اب \"خالص طاقت\" کے اصولوں سے چل رہی ہے ۔انہوں نے یورپی پارلیمنٹ میں کہا،ہمیں یورپ کی روایتی احتیاط سے ہٹ کر کام کرنے کی ضرورت ہوگی سولا وان ڈر لین نے مزید کہا،ہم اب ایسی دنیا میں رہتے ہیں جو خالص طاقت سے چلتی ہے -چاہے وہ اقتصادی ہو، فوجی، تکنیکی یا جغرافیائی سیاسی اور اگرچہ ہم میں سے بہت سے لوگ یہ پسند نہ کریں، ہمیں دنیا کو جیسا ہے ویسا ہی قبول کرنا ہوگا اور اس کے مطابق پیش قدمی کرنی ہوگی۔یورپی پارلیمنٹ نے یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے پر اپنے کام کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ سے متعلق مطالبات اور دھمکیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر لیا گیا۔