سندھ سولر انرجی پراجیکٹ میں مبینہ کرپشن، نیب کا نوٹس، افسروں کیخلاف انکوائری شروع
چیف سیکرٹری سندھ اور وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری کومراسلے ارسال،منصوبے کی دستاویزات طلب،صوبائی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کومتوازی انکوائری سے بھی روک دیا عالمی بینک منصوبے میں 3 ارب سے زائدکی مبینہ بدعنوانی کاانکشاف،مرادعلی شاہ نے ریکارڈنیب کوفراہم کرنے کی منظوری دیدی،پی ٹی آئی رکن اسمبلی کابھی سیکرٹری توانائی کو خط
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک،خبرایجنسیاں) سندھ سولر انرجی پراجیکٹ میں مبینہ کرپشن سے متعلق نیب نے نوٹس لے لیا، نیب نے افسروں کیخلاف انکوائری کا آغاز کردیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق نیب کی جانب سے اس حوالے سے چیف سیکرٹری سندھ کو مراسلہ ارسال کردیا گیا ہے جس میں سندھ سولر انرجی پراجیکٹ میں مبینہ بدعنوانی پر دستاویز طلب کی گئی ہیں۔نیب نے کہا کہ سندھ سولر انرجی پراجیکٹ میں اربوں کی بے ضابطگیوں کا الزام ہے ، پراجیکٹ میں فنڈز کے غلط استعمال کا شبہ ہے ۔مراسلہ میں کہا گیا کہ انکوائری صرف بیورو کے دائرہ اختیار میں ہوگی۔نیب نے اپنے انکوائری مراسلے میں کہاکہ اس معاملے میں انکوائری کو بہتر طریقے سے آگے بڑھنے دیا جائے ، اوورلیپنگ دائرہ اختیار یا کسی بھی دیگر قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ کسی بھی مرحلے پر اس معاملے میں کوئی انکوائری کرنے سے گریزکرے۔
نیب کی جانب سے تمام متعلقہ افسروں کو تعاون کی ہدایت کی گئی ہے ۔ اس حوالے سے نیب نے پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ سندھ کو بھی خط لکھ دیا ہے ۔دوسری جانب قومی احتساب بیورو کے نوٹس کے بعد سندھ کے محکمہ توانائی میں سولر پینل فراہمی کے منصوبے میں 3 ارب روپے سے زائد کی مبینہ کرپشن کے انکشاف پروزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سولر پینل فراہمی کے منصوبے کے ریکارڈ کی تمام تفصیلات نیب کو فراہم کرنے کی منظوری دے دی۔ذرائع کے مطابق نیب نے کم آمدنی والے افراد میں 2 لاکھ سولر پینل فراہمی کے معاملے کی تحقیقات شروع کی ہے ، یہ منصوبہ ورلڈ بینک کے 10 کروڑ ڈالر کے قرض سے جاری تھا۔کنٹریکٹ حاصل کرنے والی کمپنی نے کاغذات میں جعلسازی کرکے مبینہ طور پر 3 ارب 2 کروڑ روپے کی کرپشن کی ہے ۔ذرائع کے مطابق کنٹریکٹر نے پراجیکٹ کے عملے کی مبینہ ملی بھگت سے مطلوبہ تعداد میں سولر یونٹس فراہم نہیں کئے تاہم کاغذات میں اسے مکمل دکھایا گیا۔
دریں اثناسندھ سولر انرجی پراجیکٹ میں مالی بے ضابطگیوں، غیر شفاف خریداری اور مشتبہ درآمدی عمل کے حوالے سے پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی اور چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے انرجی ریحان بندوکڈا نے اہم قدم اٹھاتے ہوئے سیکرٹری محکمہ انرجی سندھ کو باضابطہ خط ارسال کر دیا ہے ۔خط میں سندھ اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے انرجی کا ایک اہم اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، جس میں سندھ سولر انرجی پروجیکٹ سے متعلق سامنے آنے والے سنگین الزامات اور بے ضابطگیوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ ریحان بندوکڈا کے مطابق ایف بی آر کی رپورٹ میں سندھ سولر انرجی پراجیکٹ کے تحت سولر کٹس کی درآمد، ویلیو ایشن اور پروکیورمنٹ کے عمل میں واضح بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے ، جبکہ سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی میں بھی اس منصوبے پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا چکے ہیں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سولر کٹس کی درآمد میں مبینہ انڈر انوائسنگ، غلط ویلیو ایشن، کسٹمز ڈیکلریشن اور کلیئرنس کے عمل میں سامنے آنے والے سنگین تضادات کا مکمل ریکارڈ فراہم کیا جائے۔ اس کے علاوہ ٹینڈرز، بولی کے عمل، پروکیورمنٹ طریقہ کار اور سپلائرز کے انتخاب سے متعلق تمام دستاویزات بھی سٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے پیش کی جائیں۔انہوں نے واضح کیا ہے کہ سندھ سولر انرجی پراجیکٹ کے لیے منظور شدہ بجٹ، اخراجات کی تفصیلات، تمام بلز، واؤچرز، ادائیگیوں اور کنٹریکٹس کا مکمل ریکارڈ فراہم کیا جانا ناگزیر ہے ۔ مزید برآں درآمد شدہ سولر کٹس کے کسٹمز ریکارڈ، کلیئرنگ افسروں کی تفصیلات اور پروجیکٹ میں شامل تمام افسروں کے نام اور ان کے کردار بھی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی نے زور دیا کہ پارلیمانی نگرانی، شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے تمام مطلوبہ ریکارڈ بروقت سٹینڈنگ کمیٹی کو فراہم کیا جائے تاکہ قومی و صوبائی خزانے کو ممکنہ نقصان کے ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے ۔