متروکہ املاک سے متعلق زیرِ التوا مقدمات فوری نمٹانے کا فیصلہ

متروکہ املاک سے متعلق زیرِ التوا مقدمات فوری نمٹانے کا فیصلہ

مسودہ متروکہ املاک و بے گھر افراد ایکٹ 1975 میں ترامیم کی جائیں گی فل بورڈ زیرِ التوا مقدمات کو 90دن کے اندر نمٹانے کا پابند ہو گا:متن

لاہور (سیاسی نمائندہ)حکومتِ پنجاب نے متروکہ املاک سے متعلق سالہا سال سے زیرِ التوا مقدمات فوری نمٹانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس مقصد کیلئے جمعرات کو پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں مسودہ قانون (ترمیم) (تنسیخ)قوانین برائے متروکہ املاک و بے گھر افراد 2026 پیش کیا گیا، مسودہ قانون کے تحت متروکہ املاک و بے گھر افراد (تنسیخ) ایکٹ 1975 میں ترامیم کی جائیں گی۔ متن کے مطابق زیرِ التوا کارروائیوں کو تیز تر نمٹانے کے لیے فل بورڈ تشکیل دیا جائے گا، جو متروکہ املاک سے متعلق تمام زیرِ التوا مقدمات کا فیصلہ کرے گا۔مسودہ قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی عدالت یا اتھارٹی کو فل بورڈ کے فیصلوں کے خلاف احکامات جاری کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہو گا۔قانون کے تحت فل بورڈ کے ارکان کا تقرر حکومتِ پنجاب کرے گی، جبکہ یہ تعین کہ 1975 کے تنسیخ شدہ ایکٹ کے باعث کون سی کارروائیاں زیرِ التوا ہیں، نگران کرے گا۔ نگران لاہور ہائی کورٹ کا جج ہو گا جسے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی اجازت سے بورڈ آف ریونیو تعینات کرے گا۔مسودہ قانون کے مطابق فل بورڈ کے اکثریتی فیصلے کو حتمی فیصلہ تصور کیا جائے گا۔ فل بورڈ زیرِ التوا مقدمات کو 90 دن کے اندر نمٹانے کا پابند ہو گا، جبکہ فیصلوں پر ایک سال کے اندر عملدرآمد لازم ہو گا۔مدعی کو مکمل حقِ سماعت دیا جائے گا اور بغیر سنے کوئی فیصلہ نہیں ہو سکے گا۔ سماعت کے دوران فل بورڈ کو سول عدالت جیسے اختیارات حاصل ہوں گے اور فل بورڈ کو باقاعدہ عدالت تصور کیا جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں