ایران میں 800مظاہرین کی پھانسیاں رکوائی ہیں :ٹرمپ
معاہدہ ہوتوٹھیک ورنہ ایران نتائج بھگتے گا:امریکی صدر ،ترکیہ مذاکرات کیلئے سرگرم امریکا سے برابری کی بنیاد پر جوہری مذاکرات شروع کرنے کیلئے تیار :عباس عراقچی
واشنگٹن (اے ایف پی،دنیانیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ ہفتے ایران 800 مظاہرین کو پھانسی دینے والا تھا، میں نے 800 ایرانی مظاہرین کی سزائے موت رکوائی، میں نے ایرانی حکام کو کہا اگر مظاہرین کو پھانسی دی تو انجام برا ہوگا،وینز ویلا حملے میں استعمال ہونیوالے امریکی بحری بیڑے سے بھی بڑا بحری جہاز ایران کی جانب جا رہا ہے ، ایران سے معاہدہ ہوا تو بہتر ،نہ ہوا تو وہ نتائج بھگتیں گے ۔وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب امریکی بحری بیڑا روانہ کیا، لیکن استعمال نہ کرنا بہتر ہوگا ۔ ایران کے ساتھ مزید بات چیت کا ارادہ ہے ،مجھے لگتا ہے کہ ایران بھی مذاکرات پرآمادہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ یوکرین جنگ بندی کے بہت قریب ہوں، میں نے 8 جنگیں رکوائیں مگر یوکرین جنگ بندی سب سے مشکل ہے ، یوکرینی صدر اور صدر پوٹن ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں۔ برطانیہ اور کینیڈا چین کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کر کے خطرہ مول لے رہے ہیں۔
دوسری طرف ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کو روکنے کیلئے ترکیہ متحرک ہوگیا،ترک صدر رجب طیب اردوان نے امریکا کے صدر ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ویڈیو کانفرنس کی تجویز بھی دی ہے جبکہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی انقرہ پہنچ گئے ہیں اوروہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ برابری کی بنیاد پر جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کیلئے تیار ہے ، تہران نے کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی جبکہ ایرانی فوج نے دوٹوک الفاظ میں واضح کردیا کہ کسی بھی نئے حملے کی صورت میں فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ فوج کے ترجمان نے کہا کہ خطے میں امریکی فوجی اڈے اور طیارہ بردار جہاز ہمارے اہداف ہو سکتے ہیں ۔