اقوام متحدہ دیوالیہ ہونے کے قریب :انتونیو گوتریس
جنیوا (رائٹرز)اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے رکن ممالک کو خبردار کیا ہے کہ تنظیم کو فوری مالی دیوالیہ پن کا خطرہ لاحق ہے ۔ یہ انتباہ واجب الادا رقوم کی عدم ادائیگی اور ایک ایسے بجٹ ضابطے کے باعث دیا گیا ہے جس کے تحت اقوامِ متحدہ کو غیر استعمال شدہ رقوم واپس کرنا پڑتی ہیں۔۔۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے 28 جنوری کو سفیروں کے نام لکھے گئے خط میں کہا،یہ بحران شدت اختیار کر رہا ہے ، جس سے پروگراموں کی فراہمی خطرے میں پڑ گئی ہے اور مالی دیوالیہ پن کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔ قریبی مستقبل میں صورتحال مزید بگڑ جائے گی۔اقوامِ متحدہ کو اس وقت شدید مالی بحران کا سامنا ہے کیونکہ تنظیم کے سب سے بڑے مالی معاون، امریکہ نے اقوامِ متحدہ کے اداروں کے لیے رضاکارانہ فنڈنگ میں نمایاں کمی کر دی ہے اور اقوامِ متحدہ کے باقاعدہ اور امن مشنز کے بجٹ کے لیے لازمی ادائیگیاں کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔خط میں گوتریس نے کہا کہوہ فیصلے ، جن کے تحت منظور شدہ باقاعدہ بجٹ کے ایک بڑے حصے کی مالی اعانت کے لیے مقررہ واجبات ادا نہیں کیے جا رہے ، اب باضابطہ طور پر سامنے آ چکے ہیں۔انتونیو گوتریس نے خبردار کیا کہ یا تو تمام رکن ممالک اپنی ذمہ داری کے تحت مکمل اور بروقت ادائیگیاں کریں، یا پھر اقوامِ متحدہ کو فوری مالی دیوالیہ پن سے بچانے کے لیے اپنے مالی قواعد میں بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو جولائی تک نقد وسائل ختم ہو سکتے ہیں۔