امریکا ایران مذاکرات ،جارحیت کے امکانات کم ہوئے
پاکستان کیلئے امریکی دباؤ اور آئی ایم ایف سے پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں
(تجزیہ:سلمان غنی)
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتے تناؤ کے خاتمہ میں بیک ڈور روابط کارگر بنتے نظر آ رہے ہیں اور خود امریکی صدر ٹرمپ کے بعد ایرانی صدر کی مذاکرات بارے تصدیق سے ظاہر ہو رہا ہے کہ برف پگھلی ہے اور ایران پر امریکی جارحیت کے امکانات کم ہوئے ہیں مگر ٹلے نہیں البتہ امریکا ایران مذاکراتی عمل میں ترکیہ اور پاکستان کا کردار بھی سامنے آ رہا ہے ۔ لہٰذا اس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ مذاکراتی عمل نتیجہ خیز ہوگا۔ ایران جوہری پروگرام سے پسپائی اختیار کرے گا ۔جہاں تک مذاکراتی عمل کی نتیجہ خیزی کا سوال ہے تو اس حوالہ سے ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید تناؤ کی کیفیت میں امریکا ایران مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کے امکانات محدود ضرور ہیں مگر ختم نہیں ہوں گے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکا ایک بڑی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ مذاکراتی عمل کے نتیجہ میں امریکا مکمل پسپائی تو اختیار نہیں کرے گا مگر محدود اور حساب شدہ لچک ضرور دکھا سکتا ہے ۔ امریکا کو اپنا طر ز عمل تبدیل کرنا ہوگا ویسے بھی اگر امریکی ریاستی پالیسی پر نظر دوڑائی جائے تو امریکا کی حکمت عملی بدلتی ہے بنیادی اہداف نہیں لہٰذا اب نئی پیدا شدہ صورتحال میں بڑا سوال یہ نہیں ہوگا۔
کہ امریکہ پسپائی اختیار کرتاہے یا نہیں بلکہ یہ ہوگا کہ وہ کتنی لچک دکھائے گا اور کس قیمت پر اور ایران کے حوالہ سے کہا جا سکتا ہے کہ ایران پر معاشی دباؤ شدید ہے اور اس بنا پر وہ جنگ کے حق میں نہیں قیادت مذاکرات کے لئے وقت حاصل کرنا چاہتی ہے تاکہ دباؤ سے نکل پائے ۔ ایران سمجھتا ہے کہ وہ محدود لچک دکھا کر اپنے سٹرٹیجک مفادات محفوظ رکھنا چاہتا ہے اور وہ چاہے گا کہ امریکا کے ساتھ ڈیل عزت کے ساتھ ہو ذلت کے ساتھ نہیں لہٰذا ترکیہ میں جمعہ کے روز ہونے والے مذاکراتی عمل بارے کہا جا سکتا ہے کہ مذاکراتی عمل کارگر ہو سکتا ہے ۔ پاکستان کے لئے ممکنہ خطرہ امریکی دباؤ کے پیش نظر آئی ایم ایف اور مالیاتی چیلنجز بارے پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں لیکن پاکستان اس حوالہ سے بڑا محتاط نظر آ رہا ہے اور پاکستان ایک حد سے آگے نہیں جائے گا جس سے پاک امریکا تعلقات کو دھچکا لگے اور پاکستان کی ریاستی حکمت عملی عدم تصادم اور توازن کی رہی ہے اور اس موقع پر بھی یہی حکمت عملی کارگر ہوگی لہٰذا پاکستان کو امریکا ایران مذاکراتی عمل میں شرکت کی دعوت کو پاکستان کے عالمی و علاقائی کردار کے حوالہ سے اہم قرار دیا جا رہا ہے اور مذکورہ عمل میں پاکستان کو محتاط انداز میں آگے بڑھنا ہوگا اور پاکستان کیلئے یہی حکمت عملی کارگر ہوگی کہ نظر آتا کم اور موثر زیادہ ہونا چاہئے ۔