چیلنج کرتا ہوں نتیجہ الیکشن کمیشن تیار نہیں کرتا :فضل الرحمن
اکثریت حاصل کرنا عیب نہیں،عوام کی طاقت پر کریں تو ہمیں قبول ہوگا نیتن کیساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے :ورکرز کنونشن سے خطاب
اسلام آباد(اپنے رپورٹرسے )جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہم آئین اور قانون کے رکھوالے ہیں ،حکمران آج ملک پر جعلی مینڈیٹ کے ساتھ حکومت کر رہے ہیں ۔اسلئے اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ جماعت محض اقتدار کی جنگ نہیں لڑ رہی،اقتدار میں آنا منزل مقصود نہیں ۔ آج کچھ جماعتوں کو آپس میں چپکا کر حکومت بنائی گئی ہے ،اس طرح کی حکومتیں تشکیل دینا جمہوریت سیاست کا مذاق ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جے یو آئی کے رہنما فرخ کھوکھر کی رہائش گاہ پر منعقدہ ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ بڑی تعداد میں فرخ کھوکھر کی برادری اور دوستوں نے جے یو آئی میں شمولیت کا اعلان کیا ۔انہوں نے کہاکہ دوسال قبل اسی دن ملک میں الیکشن ہوئے ۔
اس نتیجے کو مسترد کیا گیا اس کو جعلی قرار دیا ۔ جے یو آئی ایسی حکومت میں شامل نہیں ہوسکتی ۔اکثریت حاصل کرنا عیب نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آپ عوام کی طاقت پر اکثریت حاصل کریں تو ہمیں قبول ہوگا ۔ہم دیکھ رہے ہیں مشاہدات ہیں کہ کس طرح نتائج تبدیل کئے گئے کس طرح جھرلو پھیر ا گیا ۔ الیکشن کمیشن سمجھتا ہے کہ نتائج ہم تیار کرتے ہیں ۔ چیلنج کرتا ہوں کہ ایک حلقے کا نتیجہ الیکشن کمیشن نے نہیں تیار کیا ۔سارے نتائج باہر سے آتے ہیں ۔ ایسا کٹھ پتلی کمیشن پوری دنیا میں کہیں نہیں ۔انہوں نے کہا کہ آپ اکثریت حاصل کریں دل سے احترام کریں گے ، جمعیت علمائے اسلام اس جھرلو الیکشن کو قبول نہیں کرتی، نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے ۔
ہمارا وزیر اعظم کہتا ہے ٹرمپ کو نوبل انعام ملنا چاہے ۔ایسی عقل مندی پر رونا آتا ہے نوکری کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ، اگر ہم نے روش کو بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے ۔چین کی امید تھی کہ پی ڈی ایم کے لوگ آئیں گے تو بہتری ہوگی لیکن آج وہ پاکستان سے ناراض ہیں،انہوں نے کہا کہ مغربی سرحدوں پر کیا صورت حال ہے ، ایک جرنیل آتا ہے اور کہتا ہے لڑنا ہے جبکہ دوسرا کہتا ہے مذاکرات کرنے ہیں، پھر کوئی اور آئے گا تو دوسری پالیسی دے گا۔'یہاں کسی حکومت کی رٹ نہیں،انہوں نے کہا کہ صدر مملکت پر تاحیات کوئی مقدمہ درج نہ ہوسکے گا، آصف علی زرداری دوست ہے ، خوش قسمتی سے صدر ہے ، ان کو جیلوں میں کیونکر رکھا تھا اب وہ تاحیات استثنیٰ لیں گے ۔