ملک میں بدامنی کی لہر انتہائی تشویش ناک:حافظ نعیم الرحمن
دہشتگردی کیخلاف تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیکر اقدامات اٹھانا ہونگے فوجی آپریشن مسائل کا حل نہیں ،غزہ بورڈ شمولیت کا فیصلہ واپس لیں، خطاب
لاہور(سٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ دھاندلی زدہ انتخابات کو دوسال مکمل ہوگئے ، حکومت عوامی تائید سے مکمل طور پر محروم ہے ۔ بلوچستان،خیبر پختونخوا اور ملک کے دیگر حصوں میں جاری بدامنی کی لہر انتہائی تشویش ناک ہے ۔ منصورہ میں ملک بھر سے آئے اراکین مرکزی مجلس شوریٰ کے تین روزہ اجلاس سے افتتاحی خطاب کے دوران امیر جماعت کا کہنا تھا کہ اندرونی اور بیرونی عناصر ملک میں انتشار کی وجہ ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فوجی آپریشن مسائل کا حل نہیں ۔ حکمرانوں کو دہشت گردی کے ناسور کے خاتمہ کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر اقدامات اٹھانا ہوں گے ۔ حکمرانوں کو ٹرمپ کی خوشنودی کی بجائے ملک و قوم کے وقار اور آزادی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پالیسیاں تشکیل دینا ہوں گی۔
مشرف نے پاکستان کو امریکی جنگ میں دھکیلا جس کا خمیازہ قوم آج تک بھگت رہی ہے ، موجودہ حکمرانوں نے بھی وہی راستہ اختیار کرلیا ہے ، یہ چلے جائیں گے قوم مزید نتائج بھگتے گی۔ بہتری کے لیے فرسودہ نظام اور اس کے رکھوالوں کو رخصت کرنا پڑے گا، اجتماع عام سے بدل دو نظام تحریک کا آغاز کیا، مقاصد کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں تحریک چلا رہے ہیں، عید کے بعد آئی پی پیز کے خلاف بھی تحریک کا ازسرِ نو آغاز ہوگا۔ حافظ نعیم الرحمن نے ایک دفعہ پھر واضح کیا کہ جماعت اسلامی حکومت کی ٹرمپ کے مجوزہ غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی بھرپور مخالفت کرے گی لہذا ہمارا مشورہ ہے کہ حکمران ایسے اقدامات سے باز رہیں جو قوم کے وقار کے منافی ہوں۔ غزہ بورڈ میں شمولیت واپس لی جائے ۔