نیٹ میٹرنگ کا خاتمہ عوام دشمن فیصلہ،مقصد آئی پی پیز مافیا کو بچانا:حافظ نعیم
پاور سیکٹر میں حکومت کی تمام پالیسیاں ناکام،عوام پربوجھ ڈالا جارہا، فیصلہ واپس لیا جائے :امیرجماعت اسلامی تحریک تحفظ آئین پاکستان سے آئینی بالادستی پر تعاون فراہم کرسکتے ہیں، کسی کو کندھا نہیں دیں گے ،خطاب
لاہور،کراچی (سیاسی نمائندہ،دنیا نیوز)امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کا خاتمہ عوام دشمن فیصلہ ہے ،اِس اقدام کا مقصد آئی پی پیز مافیا کو بچانا اور عوام سے سستی بجلی کا حق چھیننا ہے ،سماجی رابطے کی ویب سائٹس ‘ایکس’ پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا نیٹ میٹرنگ واضح معاشی دہشت گردی ہے ، حکومت نے عوام کو دھوکا دیا ہے ۔ اب سولر صارفین اپنی پیدا کردہ بجلی سستے داموں فروخت کریں گے جبکہ اپنی ضرورت کی بجلی مہنگے ٹیرف پر خریدنی پڑے گی، پاور سیکٹر میں حکومت کی تمام پالیسیاں ناکام ہوچکی ہیں اور اب اس کا سارا بوجھ عوام پر منتقل کیا جا رہا ہے ۔ہم حکومت اور نیپرا کے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اِسے واپس لیا جائے ۔
دریں اثنا منصورہ میں جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اجلاس سے اختتامی خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکمران یہ بات سمجھ لیں کہ فارم 47 کے ذریعے اقتدار پر براجمان ہو کر عوام کے دل نہیں جیتے جا سکتے ۔ جماعت اسلامی ملک میں حقیقی بہتری کے لیے اپنی جدوجہد مزید تیز کرے گی۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ساتھ آئین کی بالادستی کے معاملے پر تعاون کریں گے ، تاہم نہ کسی کو کندھا فراہم کریں گے اور نہ کسی انتخابی اتحاد کا حصہ بنیں گے ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات انتہائی تشویشناک ہیں، حکمران ایسی پالیسیاں اختیار کریں جن سے دہشت گردی کے کارخانے بند ہوں، نہ کہ ان میں اضافہ ہو۔مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، امنِ عامہ، معیشت، عالمی حالات اور دیگر داخلی امور پر تفصیلی غور کیا گیا، جبکہ خارجہ پالیسی، مسئلہ فلسطین اور کشمیر پر بھی گفتگو ہوئی۔ اجلاس میں تنظیمی معاملات اور ‘‘بدل دو نظام’’ تحریک پر تبادلہ خیال کے ساتھ داخلی و عالمی امور پر متعدد قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی گئیں۔