سندھ اسمبلی:شراب پر پابندی کی قرار داد مسترد،معاشی سرگرمیوں پر منفی اثر پڑیگا:وزیر داخلہ
سیوریج اور ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ کی بہتری ، ایس بی سی اے کی کارکردگی جانچنے کیلئے کمیٹی بنانے سمیت تمام قراردادیں مسترد بڑی صنعتیں درخت لگانے کی پابند،پارلیمانی سیکرٹری نے محکمہ ماحولیات سے متعلق ارکان کے سوالات کے جواب دیئے
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی میں شراب پر پابندی سے متعلق پیش کی گئی قرار داد مسترد کردی گئی، وزیر داخلہ نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ معاشی سرگرمیوں پر منفی اثر پڑے گا۔ منگل کو پرائیویٹ ممبرز ڈے پراپوزیشن ارکان کی جانب سے پیش تمام قراردادیں مسترد کردی گئیں اور ان میں سے کوئی ایک قرارداد بھی منظور نہ ہوسکی۔ ایم کیو ایم کے رکن عامر صدیقی نے اپنی ایک قرارداد میں کہا تھا کہ کراچی کے سمندر میں گندا پانی جارہا ہے جس سے سمندر بری طرح آلودہ ہورہا ہے ۔ کراچی کے سیوریج اور ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ کو بہتر بنایا جائے ۔ صوبائی وزیرجام خان شورونے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر پہلے بھی کئی بار ایوان میں بات ہوچکی ہے اور حکومت مسئلے کے حل کے لئے کام کررہی ہے ۔
بعدازاں یہ قرارداد مسترد کردی گئی ۔ ایم کیو ایم کے رکن انیل کمار نے نجی قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا تھا کہ صوبے بھر میں شراب کی خرید اور فروخت پر پابندی عائد کی جائے اور شراب خانوں کے تمام لائسنس منسوخ کیے جائیں۔ وزیر قانون و داخلہ ضیا لنجار نے اس کی مخالفت کی اور کہا اس سے بہت بڑا طبقہ محروم ہوجائے گا، آج میرے دوست تھوڑے سے جذباتی لگ رہے ہیں۔ ایوان نے قرارداد مسترد کردی۔ ایوان نے ایم کیو ایم کی خاتون رکن قرۃ العین خان کی بھی قرارداد مسترد کردی جوجنسی زیادتی اور بچوں کی ہراسانی کو روکنے کے لئے لائف بیسڈ اسکل لرننگ سے متعلق تھی۔ وزیر داخلہ نے قرارداد کی اس بنیاد پر مخالفت کی کہ یہ قراداد واضح نہیں دو حصوں میں ہے اس کو بہتر کیا جائے جس پر ایوان نے قرارداد مسترد کردی۔ ایوان نے قرۃ العین خان کی ایک اور قرارداد بھی مسترد کی جس میں انہوں نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی کارکردگی کو دیکھنے کے لئے کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز پیش کی تھی ۔
وزیر پارلیمانی امور ضیائالحسن لنجارنے کہا کہ اس مسئلے پر پہلے سے کمیٹی موجود ہے ، میں اس کی مخالفت کرتا ہوں۔ بعدازاں سندھ اسمبلی کا اجلاس جمعہ ڈھائی بجے دوپہر تک ملتوی کردیا گیا ۔ قبل ازیں سندھ اسمبلی میں محکمہ ماحولیات اور کوسٹل ڈولپمنٹ کے متعلق وقفہ سوالات کے دوران صوبائی وزیر کی نمائندگی کرتے ہوئے پارلیمانی سیکریٹری سید حسین شاہ نے ارکان کی جانب سے پوچھے جانے والے سوالات کے جواب دیئے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سندھ میں پلاسٹک بیگز پر مکمل پابندی عائد ہے ۔ بڑی کمپنیز پیپر پر منتقل ہوگئی ہیں اورکچھ کمپنیز نے عدالت سے رجوع کررکھا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں ٹری پلانٹیشن کے حوالے سے مینگروز لگائے گئے ہیں۔ کراچی، بدین، ٹھٹھہ کی کوسٹل لائنز پر 54 ہزار سے زائد درخت لگائے گئے ہیں اور بڑی انڈسٹریز کو پابند کیاگیا ہے کہ وہ درخت لگائیں۔ پارلیمانی سیکریٹری نے بتایا کہ محکمے میں تمام نوکریاں میرٹ پر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی نوکریوں کے تفصیلات سندھ جاب پورٹل پر موجودہیں۔