پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی:اوپن ہارٹ سرجری،بائی پاس کیلئے طویل انتظار،مریضوں کو مشکلات

پنجاب انسٹیٹیوٹ آف  کارڈیالوجی:اوپن  ہارٹ  سرجری،بائی  پاس  کیلئے  طویل  انتظار،مریضوں  کو مشکلات

مریضوں کو ایکوکارڈیوگرافی ،انجیوگرافی کیلئے 2 سے 3 ماہ ، سی ٹی انجیو اور تھیلیم سکین کیلئے 3 سے 6 ماہ تک کا وقت دیا جارہا بائی پاس کی ویٹنگ لسٹ میں ڈھائی ہزار سے زائد مریض،کئی سالوں سے منتظر،روزانہ دس بارہ آپریشن کررہے :ایم ایس

لاہور (بلال چودھری )پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) میں اوپن ہارٹ سرجری اور بائی پاس کے منتظر مریض شدید مشکلات کا شکار ہوگئے ، مریضوں کو علاج کیلئے آٹھ ماہ سے ایک سال تک انتظار کرنا پڑ رہا ہے ، ذرائع کے مطابق ہسپتال میں ایکوکارڈیوگرافی اور انجیوگرافی کیلئے دو سے تین ماہ جبکہ سی ٹی انجیو اور تھیلیم سکین کیلئے تین سے چھ ماہ تک کا وقت دیا جا رہا ہے ۔ ایمرجنسی میں آنے والے معمولی ہارٹ اٹیک کے مریضوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد او پی ڈی میں ریفر کر دیا جاتا ہے ، جس کی وجہ سے مریضوں کو بار بار ہسپتال کے چکر لگانا پڑتے ہیں۔متاثرہ مریضوں کا کہنا ہے کہ وہ کئی سالوں سے بائی پاس آپریشن کیلئے انتظار کر رہے ہیں، تاحال انہیں آپریشن کی تاریخ نہیں دی جا سکی۔

مریضوں کے مطابق پرچی پر تاریخ دینے کے بجائے فون پر بلانے کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے ، جس سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے ۔طویل ویٹنگ لسٹوں کے باعث غریب اور متوسط طبقے کے مریض نجی ہسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں، جہاں مہنگا علاج ان کیلئے شدید مالی بوجھ بن چکا ہے ۔ طبی ماہرین کے مطابق بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں دل کے پٹھے کمزور ہو جاتے ہیں، جو جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے ۔دوسری جانب ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تمام آپریشن تھیٹر اور سرجیکل یونٹس مکمل طور پر فعال ہیں۔ ایم ایس پی آئی سی ڈاکٹر عامر بٹ نے کہا روزانہ کی بنیاد پر دس سے بارہ بائی پاس آپریشن کیے جا رہے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق اس وقت بائی پاس سرجری کی ویٹنگ لسٹ میں ڈھائی ہزار سے زائد مریض شامل ہیں۔شہریوں اور مریضوں نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری سطح پر سہولیات اور وسائل میں اضافہ کیا جائے تاکہ مریضوں کو بروقت اور معیاری علاج میسر آ سکے اور قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں