نیٹ بلنگ پر عملدرآمد روک دیا، ایک ماہ میں نظر ثانی اپیل دائر کرینگے : وزیر توانائی

نیٹ بلنگ پر عملدرآمد روک دیا، ایک ماہ میں نظر ثانی اپیل دائر کرینگے : وزیر توانائی

فائدہ زیادہ آمدن والوں کوتھا،ساڑھے تین کروڑ صارفین پر ساڑھے چار لاکھ صارفین کا بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا:لغاری عوام کا حکومتی پالیسیوں پر اعتماد مجروح ہوگا:شرمیلا،فلسطین کا دو ریاستی حل چاہتے :وزیر قانون ،قومی اسمبلی میں خطاب

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ، نیوز ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں نیٹ میٹرنگ کو نیٹ بلنگ میں تبدیل کرنے کے معاملے پر حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جبکہ وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے اعلان کیا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر اس حوالے سے فیصلوں پر عملدرآمد روک دیا گیا ایک ماہ کے اندر ریگولیٹر کے سامنے نظرثانی اپیل دائر کی جائے گی ،قومی اسمبلی میں نوید قمر، ڈاکٹر شرمیلا فاروقی، اعجاز جاکھرانی، نفیسہ شاہ اور مرزا اختیار بیگ کے توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں وفاقی وزیر توانائی نے بتایا کہ ملک میں اس وقت سولر توانائی کی مجموعی پیداوار 20 سے 22 ہزار میگاواٹ ہے ، جس میں سے تقریباً 6 سے 7 ہزار میگاواٹ نیٹ میٹرنگ سسٹم سے منسلک ہے ،نیٹ میٹرنگ کی ریگولیشنز 2017 میں متعارف کرائی گئیں اور اب تک ریگولیٹر پانچ مرتبہ ان میں تبدیلی کر چکا ہے ، جو اس کا آئینی اختیار ہے جبکہ حکومت کو اپیل کا حق حاصل ہے ۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ نیٹ میٹرنگ سے زیادہ فائدہ پوش علاقوں اور زیادہ آمدنی والے طبقے کو ہو رہا ہے اور نئی ریگولیشنز کا اثر بھی انہی صارفین پر پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ساڑھے تین کروڑ صارفین پر ساڑھے چار لاکھ صارفین کا بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا۔وزیر توانائی نے کہا کہ اس وقت حکومت اوسطاً 8 روپے 31 پیسے فی یونٹ کے حساب سے بجلی خرید رہی ہے جبکہ نیٹ میٹرنگ کے تحت 27 روپے فی یونٹ تک ادائیگی کی جا رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر سولر سرمایہ کاری پر 50 فیصد منافع مل رہا ہے تو اسے کم ہو کر 37 فیصد ہونے میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چا ہئے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ صنعتی صارفین کو نیٹ بلنگ پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ ترسیلی نقصانات مالی سال 2023-24 میں 322 ارب اور 2024-25 میں 284 ارب روپے رہے۔

قبل ازیں شرمیلا فاروقی نے کہا کہ 4 لاکھ 66 ہزار شہریوں نے حکومتی پالیسی پر اعتماد کرتے ہوئے سولر سسٹم نصب کئے اور اب پالیسی میں تبدیلی کر کے انہیں نقصان پہنچایا جا رہا ۔ انہوں نے اسے "ڈے لائٹ رابری" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے عوام کا حکومتی پالیسیوں پر اعتماد مجروح ہوگا ۔دریں اثنا وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کے توسیع پسندانہ اقدامات کی سخت مذمت کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 9 فروری کو پاکستان سمیت 9 اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں اسرائیل کے غیر قانونی اقدامات کو مسترد کیا اور دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کیا۔ بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں