امریکا کی ایران کو سرنڈرکرانے کی کوششیں فی الحال بے اثر
پاکستان ،چین اور خلیجی ممالک سفارتی کوششوں سے جنگ پھیلنے سے روک سکتے ہیں
(تجزیہ:سلمان غنی)
سینیٹ میں نائب وزیراعظم اسحق ڈار کے خطاب کو امریکا ایران تنازع اور جنگی صورتحال کے خاتمہ کیلئے پاکستان کے کردار بارے اہم قرار دیا جا سکتا ہے ، پاکستانی عوام کو بھی اس بات کو سمجھنا چاہئے اپنے ملک میں حالات خراب کرنے سے کچھ نہیں ہوگا البتہ پاکستان اس جنگ کی بندش کے لئے اپنا کردار ادا کر رہا ہے ،لہٰذا اس امر کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ کیا جنگ کی بندش کے حوالہ سے پاکستان کا کردار نتیجہ خیز ہو سکتا ہے ؟۔ امریکا ،اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ نتیجہ خیز ہوگی اور آخر کب تک ایران ردعمل کی پوزیشن میں رہیگا؟ ،پاکستان اس وقت ایسی پوزیشن میں ہے کہ اس کی بات امریکا سمیت تمام بڑے ممالک میں سنی جا رہی ہے اور جنگ بندی یا کشیدگی کم کرانے میں محدود مگر سفارتی کردار ادا کر سکتا ہے ، اس ضمن میں پاکستان کی لیڈر شپ سرگرم عمل ہے ، مشرق وسطٰی ممالک اور خصوصاً سعودی عرب کواس حوالے سے کردار ادا کرنے پر مجبور کر رہا ہے ۔وزیر خارجہ اسحق ڈار کے سینیٹ اجلاس میں خطاب کے دوران یہ انکشاف اہم تھا کہ پاکستان نے سعودی عرب سے یہ یقین دہانی ایران کو دلوائی کہ سعودی عرب کی زمین اس کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔
پاکستان کے لئے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کے امریکا سے سٹرٹیجک اور دفاعی روابط جبکہ ایران کے ساتھ سرحدی، مذہبی اور اقتصادی تعلقات ہیں ،پاکستان کے لئے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر جنگ بڑھتی ہے تو اس کے اثرات سے پاکستان بچ نہیں سکتا، لہٰذا پاکستان کی پالیسی یہی ہے کہ کشیدگی کے خاتمہ کے لئے اپنا کردار ادا کیا جائے دوسری جانب اگر جنگی صورتحال کا جائزہ لیں تو امریکا ،اسرائیل جنگی آپشنز استعمال کر کے ایران کو سرنڈر کرانا چاہتے ہیں مگر ایسا فی الحال ممکن نظر نہیں آتا اور جنگ کی فوری طور پر بندش کے امکانات بھی نہیں، تاہم پاکستان اگر سعودی عرب، ترکی اورد یگر دوستوں سے مل کر امن کے لئے کوششوں میں فعال کردار ادا کرے تو وہ خطے میں ایک اہم سٹیبلائزر کے طور پر سامنے آ سکتا ہے ،جہاں تک اس امر کا سوال ہے کہ امریکا جیسی بڑی طاقت پاکستان کی کوششوں پر کان دھرے گی تو زمینی حقائق یہی ہیں کہ امریکا پاکستان کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے کی پوزیشن میں نہیں اور اسے پاکستان کی ضرورت پڑ سکتی ہے ،امریکا کی اصل ترجیح اپنے اتحادی اسرائیل ،سعودی عرب اور خلیجی ممالک ہوں گے ۔ امریکی حملے نے ایرانیوں میں تقسیم ختم کر کے انہیں متحد کر دیا ،لہٰذا رجیم چینج کے امکانات ختم ہو رہے ہیں ،اگر پاکستان چین اور خلیجی ممالک مشترکہ سفارتی کوشش کریں تو جنگ کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے ،عمان ،قطر اور چین جیسے ممالک زیادہ موثر ثالث بن سکتے ہیں ۔