ذہنی و جسمانی صحت کی بنیاد پر افسران کی کیٹیگر یز بنانے کا فیصلہ

 ذہنی و جسمانی صحت کی بنیاد پر افسران کی کیٹیگر یز بنانے کا فیصلہ

گریڈ 17تا 21تک کے افسران کے لئے سالانہ میڈیکل معائنہ لازمی قرار منظوری کو دس ماہ گزر گئے ، افسران کے میڈیکل فٹنس ٹیسٹ شروع نہ ہوئے

 اسلام آباد (ایس ایم زمان)وزیراعظم شہبازشریف کی ہدایات پر سول سرونٹس کے میڈیکل قواعد میں کی گئی ترمیم کے تحت افسران کے سالانہ فٹنس میڈیکل ٹیسٹ تاحال شروع نہیں ہو سکے ۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے ترمیم شدہ میڈیکل قواعد کی منظوری کو تقریباً دس ماہ گزر چکے ، تاہم افسران کے میڈیکل فٹنس معائنے کا عمل شروع نہ ہو سکا۔ذرائع کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وزارت قومی صحت اب تک ان قواعد کے عملی طریقہ کار پر اتفاق نہیں کر سکے ، ترمیم شدہ میڈیکل قواعد کے تحت وفاقی حکومت کے ماتحت گریڈ 17 سے 21 تک کے افسران کے لئے سالانہ میڈیکل معائنہ لازمی قرار دیا گیا ۔قواعد کے مطابق افسران کے جسمانی معائنے کے ساتھ ان کی ذہنی حالت کا بھی جائزہ لیا جائے گا، جس میں سٹریس، ڈپریشن اور دیگر ذہنی امراض کی تشخیص شامل ہوگی۔ترمیم شدہ قوانین کے تحت افسران کو تین میڈیکل کیٹیگریز ، اے ، بی اور سی میں تقسیم کیا گیا ہے ۔

کیٹیگری اے میں وہ افسران شامل ہوں گے جن میں کسی جسمانی یا ذہنی بیماری کی ابتدائی علامات ہوں گی یا بیماری واضح نہ ہو اور علاج سے صحت یابی ممکن ہو ،کیٹیگری بی میں وہ افسران شامل ہوں گے جو باضابطہ طور پر جسمانی یا ذہنی بیماری کا شکار ہوں مگر ملازمت انجام دینے کے قابل ہوں۔ تاہم ایسے افسران کو انتظامی یا کلیدی عہدوں پر تعینات نہیں کیا جائے گا۔کیٹیگری سی میں ایسے افسران شامل ہوں گے جو مستقل بنیادوں پر جسمانی یا ذہنی معذوری کا شکار ہوں اور ڈیوٹی انجام دینے کے قابل نہ ہوں۔ اس کیٹیگری میں شامل افسران کا میڈیکل معائنہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وزارت قومی صحت کے قائم کردہ میڈیکل بورڈ سے کرایا جائے گا۔اگر میڈیکل بورڈ کسی افسر کو کیٹیگری سی میں برقرار رکھنے کی سفارش کرے تو بعد ازاں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ارکان پر مشتمل ایک جائزہ کمیٹی اس افسر کے کیس کا جائزہ لے گی۔ کمیٹی افسر کو قبل از وقت ریٹائر کرنے یا ترقی نہ دینے سے متعلق سفارشات وزیراعظم کو بھجوائے گی ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں