ٹک ٹاکر اینٹی منی لانڈرنگ کیس، انکوائری غیر قانونی قرار

ٹک ٹاکر اینٹی منی لانڈرنگ کیس، انکوائری غیر قانونی قرار

فضیلہ عباسی پر منی لانڈرنگ، 25ارب ٹرانزیکشنز کیس خارج کرنیکی درخواست مسترد ایف آئی اے نے طریقہ کار کی پیروی نہیں کی:جسٹس خادم، تحقیقات جاری رکھنے کا حکم

اسلام آباد (اپنے نامہ نگار سے )اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹک ٹاکر ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے خلاف درخواست نمٹاتے ہوئے منی لانڈرنگ اور 25ارب روپے کی ٹرانز یکشنز کا کیس خارج کرنے کی درخواست مسترد کر دی جبکہ تیسرے کیس میں اینٹی منی لانڈر نگ ایکٹ 2010کے تحت الزامات پر مقدمہ اور انکوائری کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ جسٹس خادم حسین سومرو کی عدالت سے جاری تین الگ الگ احکامات میں کہا گیا ایف آئی اے نے کیس میں طے شدہ قانونی طریقہ کار کی پیروی نہیں کی اور اختیارات سے تجاوز کیا،عدالت نے ایف آئی اے کو قانون کے مطابق شفاف تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے خلاف فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کے تحت تحقیقات جاری رہیں گی، حوالہ ہنڈی اور مشکوک ٹرانزیکشنز کے ذریعے منی لانڈرنگ کے بظاہر شواہد موجود ہیں، ایف بی آر حکام کے مبینہ کردار کا تعین بھی دورانِ تفتیش کیا جائے گا، تحقیقاتی ایجنسی ضرورت پڑنے پر اکاؤنٹس ڈی فریز کرنے کا فیصلہ کرنے میں آزاد ہوگی۔ ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے 22 بینک اکاؤنٹس میں 25 ارب روپے کے ٹرن اوور کا انکشاف ہوا ہے ، مقدمے کے مطابق ڈاکٹر فضیلہ کی ڈیکلیئرڈ سالانہ آمدن 4 سے 6 لاکھ روپے بتائی گئی۔ فضیلہ عباسی پر غیر قانونی طور پر رقوم امریکا اور دبئی منتقل کرنے کا الزام ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں