طالبان نے شہریوں کو نشانہ بنا کر سرخ لکیر عبور کرلی : زرداری
آصف زرداری سے خالدمقبول کی ملاقات ،پی پی اورایم کیوایم کے تعلقات پرگفتگو
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ،مانیٹرنگ ڈیسک) صدرمملکت آصف علی زرداری نے کہادہشت گردافغان طالبان حکومت ہمارے دوست ممالک کے ساتھ مذاکرات کی خواہاں ہے تو دوسری جانب اس نے شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر کے ایک سرخ لکیر عبور کر لی ہے، انہوں نے افغان طالبان رجیم کی جانب سے پاکستانی شہری علاقوں کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملوں کی مذمت کی ۔ایوان صدر سے جاری بیان میں صدر مملکت نے کہا کہ دہشت اور وحشیانہ طاقت کے ذریعے قائم کی گئی افغانستان کی غیر قانونی حکومت اپنی ان ذمہ داریوں سے مسلسل مکر رہی ہے جن کے تحت اس نے دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اب وہ اسلامی دنیا کی ایک بڑی عسکری طاقت کو اشتعال دلانے کی جسارت بھی کر رہی ہے۔
ان کاکہناتھاکہ پاکستان خلیج کے خطے اور مغربی ایشیا میں امن و استحکام کے فروغ کی کوششوں میں مصروف ہے ۔ غیر قانونی اور دہشت گرد طالبان حکومت نے سرخ لکیر عبور کر کے اپنے اوپر سنگین نتائج مسلط کر لئے ہیں۔بعدازاں صدرمملکت آصف زرداری سے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے ملاقات کی اورپاکستان پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم کے درمیان تعلقات پر گفتگو کی ۔ملاقات میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ،وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ، وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار اور دیگربھی موجود تھے ۔ایک اور بیان میں صدرآصف زرداری نے اسلامو فوبیا کے تدارک کے عالمی دن کے موقع پر پیغام میں کہا کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے مطابق ہم دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت، امتیاز اور عدم برداشت کے خلاف متحد کھڑے ہیں۔
یہ دن مسلم کمیونٹیز کو درپیش تعصب اور تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کی جانب توجہ مبذول کراتا ہے اور مذہبی تنوع کے احترام اور رواداری کی ضرورت پر زور دیتا ہے ۔یہ دن کرائسٹ چرچ کے اس المناک واقعہ کی بھی یاد دلاتا ہے جس نے انسانیت کے ضمیر کو جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا۔ عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ نفرت پر مبنی جرائم کے خلاف قانونی تحفظ کو مضبوط بنائے اور مذہبی رہنماؤں، ماہرینِ تعلیم اور ذرائع ابلاغ کے ما بین عملی تعاون کو فروغ دے ۔