آبنائے ہرمز سے تیل فراہمی، پاکستان کا ایران کے ساتھ رابطہ : یکجہتی پر شکر گزار عراقچی کا اردو میں پیغام
اجازت ملنے سے دو تیل بردار جہاز پاکستان آ سکتے ، ہمارے پاس 21دن کا ڈیزل، 27کا پٹرول اور 9دن کی ایل پی جی موجود، ضرورت پڑی تو آذربائیجان سے ایل این جی خرید سکتے :پٹرولیم ڈویژن جنگ کے براہِ راست اثرات پاکستان پر آ رہے ،آئی ایم ایف کی شرط ہے ہم کوئی سبسڈی نہیں دینگے ، روس سے تیل خریداری کی کوشش کر رہے ، وفاقی سیکرٹری پٹرولیم کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ
اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی،اسلم لڑکا) پاکستان نے اپنے بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزارنے کے معاملے پر ایران کے ساتھ رابطہ کیا ہے اور اس سلسلے میں بات چیت جاری ہے ، اعلیٰ حکام نے رابطے کی تصدیق کی ہے ۔پٹرولیم ڈویژن کے اعلیٰ حکام کے مطابق پاکستانی حکام اس وقت ایران کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ پاکستانی تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت حاصل کی جا سکے ۔ پٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ معاملات طے پا جاتے ہیں تو پاکستان کے بحری جہاز فوری طور پر اپنی منزل کی جانب روانہ ہو سکیں گے ۔ حکام کا کہنا ہے کہ اجازت ملنے کی صورت میں پاکستان کے کم از کم دو تیل بردار جہاز اس راستے سے گزر جائیں گے ۔ حکام نے مزید بتایا کہ بھارت نے بھی اسی معاملے پر ایران کے ساتھ بات چیت کی تھی جس کے بعد بھارت کو اجازت دی گئی اور اس نے اپنے ایل این جی کارگو جہاز اس راستے سے گزارے۔
اعلیٰ حکام کے مطابق معمول کے حالات میں آبنائے ہرمز کے راستے پاکستان کے تیل بردار جہاز چار دن میں پہنچ جاتے تھے تاہم موجودہ صورتحال میں بحیرہ احمر کے راستے تیل منگوانے میں تقریباً بارہ دن لگ رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ توانائی کی ترسیل کے لیے متبادل راستوں کی وجہ سے وقت اور لاگت دونوں میں اضافہ ہو رہا ہے ، اسی لیے پاکستان اس اہم بحری گزرگاہ کے ذریعے جہازوں کی آمدورفت کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ دوسری جانب سیکرٹری پٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے موجودہ پٹرولیم ذخائر پر انحصار کر رہا ہے اور ہم کوشش کر رہے ہیں کہ جب تک جنگ ہے موجودہ ذخائر کو ہی آگے بڑھایا جائے ۔ تفصیلات بتاتے ہوئے سیکرٹری نے کہا کہ پاکستان کے پاس 21 دنوں کا ڈیزل، 27 دنوں کا پٹرول اور 9 دنوں کی ایل پی جی موجود ہے۔ پاکستان مشرق وسطیٰ سے 70 فیصد پٹرولیم مصنوعات خرید رہا ہے، اس لیے اس جنگ کے براہِ راست اثرات پاکستان پر آ رہے ہیں۔
گیس کی صورتحال پر پٹرولیم ڈویژن نے بتایا کہ پاکستان میں مقامی گیس کی سپلائی بلا تعطل جاری ہے ۔ مقامی گیس سپلائی میں کوئی مسائل نہیں ہیں۔ سب سے پہلے گھریلو اور پھر کمرشل صارفین کو گیس فراہم کی جا رہی ہے ۔ اس کے بعد باقی سیکٹرز کو گیس دی جا رہی ہے ۔ اس حوالے سے گیس کمپنیوں نے اقدامات بھی کئے ہوئے ہیں ۔ پٹرولیم ڈویژن حکام نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان کو اگر ایل این جی کی ضرورت ہو تو SOCAR (آذربائیجان کی کمپنی) سے سپاٹ ایل این جی کی خریداری کی جا سکتی ہے ، تاہم اس کی قیمتیں زیادہ ہوں گی۔ سوکار سے 20 سے 24 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ایل این جی کی قیمت ہوگی جبکہ قطر سے معاہدے کے تحت پاکستان 9 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ایل این جی ایل این جی خرید رہا ہے ۔ پٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہے کہ اگر پاور سیکٹر کو ضرورت ہوگی تو ان کی ڈیمانڈ پر آذربائیجان سے ایل این جی خرید سکتے ہیں۔ قطر سے ایل این جی درآمد کے دو معاہدے ہیں تاہم پاور ڈویژن کی ڈیمانڈ نہ ہونے پر رواں سال کے لیے ہم نے دو کارگو فی ماہ موخر کروا دئیے تھے ۔
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کا سوشل میڈیا ایپ ایکس پر اردو زبان میں شکریہ ادا کیا ہے۔ عمومی طور پر عباس عراقچی فارسی یا انگریزی میں ایکس پر اپنے خیالات کا ظہار کرتے ہیں ۔ عباس عراقچی کی جانب سے پاکستان کا شکریہ اردو میں ادا کرنے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ پاکستان کے کردار کے کس حد تک معترف ہیں ۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ان بابرکت، الٰہی اور روحانی دنوں اور گھڑیوں میں، میں حکومت اور عوامِ پاکستان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے جارحیت کے مقابلے میں عوام اور حکومتِ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اپنی یکجہتی اور حمایت کا بھرپور اظہار کیا۔اسلامی جمہوریہ ایران اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کے ساتھ اپنی حاکمیت اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ثابت قدمی اور استقامت کے ساتھ کھڑا ہے ۔
اس تمام تر صورتحال پر سفارت کار اور عالمی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بیک وقت عرب ممالک اور ایران کے ساتھ متوازن بات چیت قائم کرکے بہترین سفارت کاری کا عملی مظاہرہ کیا۔ ایرانی وزیر خارجہ کا بیان پاکستان کی بہترین سفارت کاری کا ثبوت ہے ۔ سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال میں پیچیدگیوں کے باوجود اہم اور مثبت تعمیری کردار ادا کیا اور کر رہا ہے ۔پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت کی خطے میں برادر ممالک کے درمیان امن کیلئے کی جانے والی کاوشیں قابل ستائش ہیں جو جنگ کو محدود کرنے میں انتہائی اہم ہیں۔ علاوہ ازیںسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری پٹرولیم نے کہا کہ مشرق وسطٰی میں کشیدگی کے باعث پٹرولیم کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ ایران سے آبنائے ہرمز سے تیل گزارنے کی اجازت کیلئے بات کر رہے ہیں۔
کمیٹی کو سیکرٹری پٹرولیم نے بتایا کہ اب یورو 5 معیار سے کم کوالٹی کے تیل کی درآمد کی اجازت دی گئی ہے۔ وزیر اعظم کی طرف سے قائم وزارتی کمیٹی روزانہ پٹرولیم مصنوعات کی صورتحال کا جائزہ لیتی ہے۔ سیکرٹری پٹرولیم نے بتایا کہ سعودی عرب میں آئل ریفائنری پر حملہ ہوا تو پیداوار بند ہو سکتی ہے، آئی ایم ایف کی شرط یہ ہے کہ ہم کوئی سبسڈی نہیں دینگے ۔ ہفتہ وار بنیادوں پر پٹرولیم قیمتوں کا تعین کیا جائے گا۔ رکن کمیٹی ہدایت اللہ نے کہا کہ 7 مارچ سے پہلے تیل کی قیمتیں کیا تھیں اور ٹیکسز کیا تھے۔ سیکرٹری پٹرولیم نے بتایا کہ جنگ سے پہلے خام تیل کی قیمت 72 ڈالر تھی۔جنگ کے دوسرے دن خام تیل کی قیمت 88 ڈالر فی بیرل پر چلی گئی،اس وقت خام تیل کی قیمت 115 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی ، سیکرٹری کمیٹی نے بتایا کہ ہم روس سے تیل کی خریداری کی کوشش کر رہے ہیں، ایران سے آبنائے ہرمز سے تیل گزارنے کی اجازت کیلئے بات کر رہے ہیں۔آبنائے ہرمز سے اجازت مل جائے تو ہمارے چار جہاز کھڑے ہیں۔