کنفرم ہو چکا سیز فائر کیلئے سفارتی پیشکش چل رہی : اسد عمر
ایران پردونوں بار حملے مذاکرات کے دوران کئے گئے :سابق وزیر خزانہ نیتن یاہو نہیں چاہتے جنگ رکے :پروگرام ’’دنیا مہر بخاری کیساتھ ‘‘گفتگو
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ اتنا تو کنفرم ہو چکا کہ جنگ بندی کیلئے سفارتی پیشکش چل رہی ہے ، انٹرنیشنل میڈیا کل بھی رپورٹ کررہا تھا کہ پاکستان، ترکیے ،مصر بہت زیادہ متحرک ہیں،اس پر شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں۔ دنیا نیوز کے پروگرام دنیا مہر بخاری کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے مزید کہا ہے کہ یہ سب کو معلوم ہے کہ پچھلے سال اور اس سال امریکا، اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا ، دونوں حملے ایران پر مذاکرات کے دوران کئے گئے ، وہ پہلے اس طرح انگیج کرتے ہیں۔ مذاکرات چل رہے ہوتے ہیں اور اس دوران امریکا، اسرائیل حملہ کردیتے ہیں،ڈونلڈ ٹرمپ پر صرف ایک قسم کا پریشر ہے ، باقی اس کو کسی چیز کی فکر نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ فکر ہے کہ آگے مڈٹرم الیکشن ہونے والے ہیں ، پٹرول مہنگا ہونے پر لوگ کہہ رہے ہیں ، مہنگائی ہورہی ہے ،جب ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ ہم ایران کے پاورپلانٹ پر حملہ کریں گے ،جواب میں ایران نے کہا کہ ہم بھی خطے کے اندرانرجی انفراسٹرکچر پر حملہ کریں گے ،اس کے بعد عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہونے لگا، ڈونلڈ ٹرمپ نے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے جو اعلان کیا وہ بڑا کارگر رہا،فوری طور پر تیل کی قیمت گری،اب تک 13 فیصد قیمت گرچکی ۔ اسد عمر نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نہیں چاہتے جنگ رکے ،آج بھی اسرائیل نے سارادن ایران کے اوپر اپنے میزائل حملے جاری رکھے ،ابھی تک زمینی حقائق کی تبدیلی نظر نہیں آئی،پچھلی دفعہ سے اس بار فرق یہ ہے کہ پچھلی دفعہ ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان تھا،اس بار بات واضح ہو گئی کہ کوئی نہ کوئی سفارتی پیشکش کی جارہی ہے ،ان میں خطے کے ممالک جس میں پاکستان شامل ہے ،ایران کے ساتھ بات چیت ہورہی ہے ۔