افغانستان:ٹارگٹ کلنگ،پُرتشدد واقعات میں40فیصد اضا فہ
گزشتہ سال 611 افراد نشانہ بنے ، کئی خواتین کے حقوق پامال ہو ئے ،’’روا داری ‘‘ افغانستان میں قانون کی جگہ بندوق، رواداری کی جگہ وحشت نے لے لی ،ماہرین
اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر) افغانستان میں انسانی حقوق کی پامالی انتہا کو پہنچ گئی ،طالبان رجیم کی آمرانہ پالیسیوں نے افغانستان کو شدید معاشی، سماجی اور انسانی بحران کی طرف دھکیل دیا ، انسانی حقوق کی افغان تنظیم رواداری نے افغانستان میں بڑھتے مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا پردہ چاک کردیا، رواداری کی تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال شہریوں کے بنیادی حقوق کی پامالی، خواتین اوراقلیتوں پر ہونے والے مظالم میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ، گزشتہ سال میں ہی ٹارگٹ کلنگ، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور تشدد کے واقعات میں 40.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ 611 افراد نشانہ بنے ، آمرانہ پابندیوں اور جبری قوانین میں اضافے سے سینکڑوں خواتین کے حقوق پامال کیے گئے ۔ طالبان کی عدالتوں نے کوڑوں سمیت مختلف جسمانی اور تذلیل آمیز سزائیں نافذ کیں جو عالمی قوانین کی صریحا ً خلاف ورزی ہیں ۔ماہرین کے مطابق طالبان رجیم نے افغانستان کو ایسے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے جہاں قانون کی جگہ بندوق اور رواداری کی جگہ وحشت نے لے لی ہے ۔