ایران جنگ:جی سیون ممالک کا عام شہریوں پر حملے فوری روکنے کا مطالبہ
جنگ کے باعث تجارتی سپلائی چینز میں خلل، اثرات شہریوں پر پڑتے ہیں:وزرائے خارجہ آبنائے ہرمز میں محفوظ اور بلا معاوضہ جہاز رانی کی آزادی بحال کرنا ضروری :مشترکہ بیان
پیرس(دنیا مانیٹرنگ)جی سیون ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایران جنگ کے دوران عام شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے فوری طور پر روکے جانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ فرانس میں ہونے والے جی سیون اجلاس کے دوسرے روز جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں وزرا نے اس بات پر زور دیا کہ اس تنازعے کے علاقائی شراکت داروں، شہری آبادی اور اہم تنصیبات پر اثرات کو محدود رکھا جائے ۔بیان میں کہا گیا ‘‘ہم نے متنوع شراکت داری، باہمی ہم آہنگی اور ان اقدامات کی حمایت کی اہمیت پر توجہ مرکوز کی جو عالمی معاشی جھٹکوں کو کم کرنے میں مدد دیں، جیسے کہ معیشت، توانائی، کھاد اور تجارتی سپلائی چینز میں خلل، جن کے براہ راست اثرات ہمارے شہریوں پر پڑتے ہیں۔وزرائے خارجہ نے آبنائے ہرمز میں محفوظ اور بلا معاوضہ جہاز رانی کی آزادی کی بحالی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔جی سیون ممالک میں امر یکا ، برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی اور جاپان شامل ہیں جبکہ یورپی یونین بھی اس کا حصہ ہے ۔